شام کی زرد روشنی بوڑھے ہاشم کے چہرے پر پڑ رہی تھی، جو مسجد کی کچی دیوار سے ٹیک لگائے تسبیح کے دانوں کو بے دردی سے گرا رہا تھا۔ اس کی نظریں سامنے سے گزرتے ہوئے نوجوان زاہد پر جمی تھیں، جس کے بال ذرا فیشن کے مطابق تھے اور جس کے ہاتھ میں گٹار کا کیس تھا۔
ہاشم نے ایک لمبی آہ بھری اور اپنے پاس بیٹھے ہم جلیس، مرزا صاحب کے کان میں پھسپھسایا:
“دیکھا مرزا؟ یہ آج کی نسل! نہ ماتھے پر سجدے کا نشان، نہ لہجے میں عاجزی۔ یہ لڑکا سیدھا جہنم کا ایندھن بنے گا، لکھ لو میری بات۔ میں نے تو سنا ہے اس کے گھر میں رات گئے تک موسیقی کا شور مچتا ہے۔ اللہ کی پناہ! ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے بستی پر عذاب آتے ہیں۔”
مرزا صاحب نے تائیدی لہجے میں سر ہلایا۔ “بجا فرمایا ہاشم بھائی۔ لوگ خدا سے ڈرنا بھول گئے ہیں۔ خود کو نہیں دیکھتے کہ کس حال میں ہیں، بس دنیا کی رنگینیوں میں گم ہیں۔”
ہاشم کا سینہ فخر سے پھول گیا۔ اسے اپنی پارسائی پر پورا یقین تھا۔ وہ محلے کا وہ ’مقدس‘ شخص تھا جو ہر جنازے میں اگلی صف میں ہوتا، ہر گناہ گار پر لعنت بھیجنا اپنا فرض سمجھتا اور جس کی زبان سے دوسروں کے لیے جنت کے دروازے ہمیشہ بند ہی ملتے۔
اسی رات، بستی میں ایک قیامت صغریٰ برپا ہوئی۔ زلزلے کے ایک زوردار جھٹکے نے پرانے مکانوں کی بنیادیں ہلا دیں۔ ہاشم، جو اپنے بستر پر لیٹا دوسروں کی عاقبت کے نقشے بنا رہا تھا، ملبے تلے دب گیا۔
اندھیرا گہرا تھا۔ سانس لینا محال تھا۔ اسے ایسا لگا جیسے زمین نے اسے بھینچ لیا ہو۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اپنی زندگی کے ابواب کھلنے لگے۔ اسے یاد آیا کہ کیسے اس نے یتیم بھانجی کی زمین ہڑپ کی تھی اور اسے “مصلحت” کا نام دیا تھا۔ اسے یاد آیا کہ کیسے اس نے مسجد کے چندے میں سے چند روپے اپنی جیب میں ڈالے تھے، یہ سوچ کر کہ “خادم کا بھی تو حق ہے”۔ اسے وہ لمحہ بھی یاد آیا جب اس نے ایک بیوہ کی کردار کشی محض اس لیے کی تھی کیونکہ اس نے ہاشم کے رعب کو تسلیم نہیں کیا تھا۔
اچانک اسے اپنے کہے ہوئے الفاظ یاد آئے: “وہ جہنم کا ایندھن بنے گا۔”
خوف کی ایک لہر اس کے پور پور میں سرایت کر گئی۔ اسے محسوس ہوا کہ اس کی قبر کی دیواریں تنگ ہو رہی ہیں۔ اسے اپنی قبر کے معاملات کی فکر ستانے لگی۔ کیا وہ منکر نکیر کے سوالات کا جواب دے پائے گا؟ کیا اس کی وہ “پارسائی” جو دوسروں کو حقیر سمجھنے پر ٹکی تھی، اسے بچا پائے گی؟
وہ چیخنا چاہتا تھا، توبہ کرنا چاہتا تھا، لیکن زبان ساکت تھی۔ اس نے دیکھا کہ وہی لڑکا، زاہد، جسے وہ جہنمی قرار دے چکا تھا، اپنی جان خطرے میں ڈال کر ملبہ ہٹا رہا تھا۔ وہ اپنے زخمی ہاتھوں سے پتھر اٹھا رہا تھا اور اس کی آنکھوں میں انسانیت کا وہ درد تھا جو ہاشم نے کبھی محسوس ہی نہیں کیا تھا۔
ہاشم کی روح لرز اٹھی۔ اسے احساس ہوا کہ وہ کتنا بڑا فریب خوردہ تھا۔ وہ دوسروں کے لیے جہنم کا فیصلہ سناتا رہا، لیکن اسے یہ تک معلوم نہ تھا کہ اس کے اپنے نامہ اعمال میں کبر اور خود پسندی کی کتنی گہری کھائیاں تھیں۔
وہ انسان جو دوسروں کو خدا کی ترازو میں تول رہا تھا، آج خود اپنے ہی مٹی کے ڈھیر تلے دبا، اپنی عاقبت کے لیے پناہ مانگ رہا تھا۔ مگر افسوس! انسان اتنا بھٹک چکا ہے کہ اسے اپنی قبر کی تنگی کا احساس تب ہوتا ہے جب واپسی کے تمام راستے مسدود ہو جاتے ہیں۔ وہ دوسروں کے جہنم جانے کا یقین تو رکھتا ہے، مگر اپنی بخشش کی کوئی سند اس کے پاس نہیں ہوتی۔
