ایک گاؤں کے قریب ایک وسیع چراگاہ تھی، جہاں ایک نوجوان چرواہا اپنی بھیڑیں چرایا کرتا تھا۔
شروع میں وہ ایک سیدھا سادہ لڑکا تھا، مگر وقت کے ساتھ وہ اکیلے پن اور بوریت کا شکار ہو گیا۔ روزانہ کا ایک ہی معمول — بھیڑیں چرانا، خاموش میدان، اور لمبا دن — اسے بے زار کرنے لگا۔
ایک دن اس کے ذہن میں ایک شرارتی خیال آیا۔
وہ زور زور سے چیخنے لگا:
“بھیڑیا آ گیا! بھیڑیا آ گیا! بچاؤ!”
گاؤں والے اپنی لاٹھیاں اور ہتھیار لے کر دوڑتے ہوئے آئے۔
مگر جب وہ پہنچے تو وہاں کوئی بھیڑیا نہ تھا۔
چرواہا زور زور سے ہنسنے لگا۔
گاؤں والوں نے اسے سختی سے ڈانٹا اور واپس چلے گئے۔
کچھ دن بعد اس نے دوبارہ یہی مذاق کیا۔
“بھیڑیا آ گیا! بھیڑیا آ گیا!”
لوگ پھر دوڑے آئے… اور پھر وہی نتیجہ — کوئی بھیڑیا نہیں۔
اب گاؤں والے ناراض ہو گئے۔ انہوں نے سوچا کہ یہ لڑکا جھوٹا اور غیر ذمہ دار ہے۔
چند دن بعد واقعی ایک بھیڑیا آیا۔
اس نے بھیڑوں پر حملہ کر دیا۔
چرواہا گھبرا گیا اور پوری طاقت سے چیخنے لگا:
“بچاؤ! اس بار واقعی بھیڑیا آ گیا ہے!”
مگر اس بار گاؤں والوں نے اس کی آواز سنی… مگر کسی نے یقین نہ کیا۔
سب نے کہا:
“یہ پھر مذاق کر رہا ہوگا۔”
کوئی مدد کے لیے نہ آیا۔
بھیڑیا آرام سے کئی بھیڑیں لے گیا اور چرواہا بے بسی سے دیکھتا رہ گیا۔
اس دن چرواہے کو اپنی بڑی غلطی کا احساس ہوا — مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی۔
—
اخلاقی سبق
1. جھوٹ بولنے والا سچ بھی کہے تو اس پر یقین نہیں کیا جاتا۔
2. اعتماد ایک بار ٹوٹ جائے تو اسے دوبارہ حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔
3. مذاق میں بھی جھوٹ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
