وہ زمانہ بادشاہوں کا تھا۔ شہر بغداد اپنی رونقوں میں اپنی مثال آپ تھا۔ دریائے دجلہ کے کنارے بسا یہ شہر علم و حکمت کی روشنی سے جگمگا رہا تھا۔ اُس وقت خلافت کی باگ ڈور ایک عادل اور درویش صفت بادشاہ کے ہاتھ میں تھی۔ ہارون الرشید۔
بادشاہ کا نام سن کر لوگ عقیدت سے سر جھکا دیتے۔ لیکن بادشاہ خود عوام کے دکھوں سے بے خبر نہیں رہنا چاہتے تھے۔ وہ اکثر رات کی تاریکی میں اپنے وفادار وزیر، قاضی صاحب سے مشورہ کرتے۔
ایک رات، چاند اپنی پوری آب و تاب پر تھا۔ بادشاہ نے قاضی سے کہا، “اے قاضی، یہ محل کی دیواریں مجھے حقیقت سے دور کر رہی ہیں۔ میں آج بھیس بدل کر شہر کی گلیوں میں نکلنا چاہتا ہوں۔ دیکھنا چاہتا ہوں کہ میری رعایا کیسے زندگی بسر کر رہی ہے۔”
قاضی صاحب نے سر جھکا کر منظور کیا۔ دونوں نے سادہ گندم رنگ کے کپڑے پہنے۔ بادشاہ نے اپنے چہرے پر نقاب ڈال لی اور وہ محل کے عقبی دروازے سے باہر نکل گئے۔
شہر کی گلیاں سنسان تھیں۔ دور کہیں کوئی کتا بھونکتا تھا تو کہیں رہٹ کی آواز آتی تھی۔ بادشاہ اور وزیر گلیوں میں گھومتے رہے۔ لوگ اپنے گھروں میں آرام کر رہے تھے۔ بادشاہ کا دل مطمئن تھا کہ شاید سب ٹھیک ہے۔
اچانک، ان کی نظر ایک پرانی مسجد کے باہر دیوار سے لگے ایک شخص پر پڑی۔ وہ شخص نہایت خستہ حال تھا۔ اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے اور بدن پر صرف ایک پرانی چادر تھی۔ سر کے بال بکھرے ہوئے تھے اور وہ شدت کی سردی سے کانپ رہا تھا۔ یہ کوئی اور نہیں، شہر کا مشہور بھکاری تھا، جسے لوگ “فقیر اللہ داد” کہہ کر پکارتے تھے۔
بادشاہ ٹھٹھک گئے۔ انہوں نے وزیر کی طرف دیکھا۔ وزیر نے آہستہ سے کہا، “حضور، یہ اللہ داد ہے۔ برسوں سے اسی مسجد کے باہر بیٹھتا ہے۔ اس کی اپنی کوئی جگہ نہیں۔”
بادشاہ کا دل پسیج گیا۔ انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ اس شخص سے جا کر باتیں کی جائیں، اس کی حقیقی کیفیت معلوم کی جائے۔ لیکن وہ ابھی قدم بڑھاتے کہ انہوں نے دیکھا کہ اللہ داد نے اپنے پاس رکھی ایک جھولڑی سے کچھ نکالا۔
رات کی تاریکی میں بادشاہ نے غور سے دیکھا۔ وہ ایک روٹی تھی۔ بالکل سادہ، شاید باجرے کی۔ اللہ داد نے اس روٹی کو اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑا، آسمان کی طرف دیکھا اور کچھ دیر منہ ہی منہ میں دعائیں مانگتا رہا۔ پھر اس نے ایک کارنامہ کیا جس نے بادشاہ کے قدم جڑ دیے۔
اس نے روٹی کو دو حصوں میں توڑا۔ ایک حصہ خود منہ میں رکھنے لگا، لیکن دوسرا حصہ اس نے احتیاط سے اپنے پاس رکھی ایک تھیلی میں ڈال دیا۔
بادشاہ حیران رہ گئے۔ اتنی بھوک میں آدھی روٹی بچا کر رکھ دی؟ یہ کیسا شخص ہے؟ تجسس نے انہیں بے چین کر دیا۔ وہ قاضی کے ساتھ آگے بڑھے اور اللہ داد کے پاس جا کر بیٹھ گئے۔
اللہ داد نے انہیں دیکھا تو ذرا چونکا، لیکن پھر بےنیازی سے منہ پھیر لیا۔
بادشاہ نے آواز دی، “بھائی، ہم مسافر ہیں۔ رات کی سیر کو نکلے ہیں۔ تم یہاں اکیلے کیوں بیٹھے ہو؟”
اللہ داد نے بغیر دیکھے جواب دیا، “مسافر ہو تو ٹھکانہ ڈھونڈو۔ یہاں کیوں بیٹھے ہو؟ یہ فقیروں کی جگہ ہے۔”
بادشاہ مسکرائے۔ یہ شخص کتنا بےنیاز ہے۔ انہوں نے پوچھا، “ہمیں بھی بھوک لگی ہے۔ کیا تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے؟”
اللہ داد نے اب مڑ کر دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں گہرائی تھی، مگر کوئی چمک نہیں تھی۔ اس نے کہا، “کھانا؟ میرے پاس تو صرف ایک روٹی تھی، اور وہ بھی میں نے آدھی آج کھائی، آدھی کل کے لیے بچا لی۔”
بادشاہ نے فوراً موقع غنیمت جانا۔ “تو کیا تم وہ آدھی روٹی ہمیں دے دو گے؟ ہم بہت بھوکے ہیں۔”
اللہ داد نے انہیں غور سے دیکھا۔ پھر بغیر کسی ہچکچاہٹ کے، اس نے وہ تھیلی اٹھائی جس میں آدھی روٹی رکھی تھی اور بادشاہ کی طرف بڑھا دی۔ “لو، مسافر ہو، بھوکے ہو، تو یہ لے لو۔ اللہ خیر کرے۔”
بادشاہ یہ دیکھ کر ہکا بکا رہ گئے۔ یہ شخص خود بھوکا ہے، کل کی روٹی بچا کر رکھی ہے، اور آج ہی کسی اجنبی کو وہ آدھی روٹی دے رہا ہے؟ انہوں نے تھیلی کو تھام لیا۔ وہ روٹی ابھی تک گرم تھی، شاید اس کے ہاتھوں کی حرارت سے۔
بادشاہ نے پوچھا، “اللہ داد، مجھے ایک بات بتا۔ اتنی سرد رات میں تو نے آدھی روٹی کیوں بچا کر رکھی؟ اور پھر وہی آدھی روٹی ہم جیسے اجنبی کو کیوں دے دی؟”
اللہ داد نے ایک لمبی سانس لی اور کہنا شروع کیا۔ اس کی آواز میں ایک عجیب سا سکون تھا۔
“صاحب، میں برسوں سے یہاں بیٹھتا ہوں۔ بہت سے لوگ آتے ہیں، کچھ دیتے ہیں، کچھ نہیں دیتے۔ لیکن ایک بات میں نے زندگی میں سیکھی ہے۔ جب بھی اللہ مجھے دو روٹیاں دیتا ہے، میں ایک کھا لیتا ہوں اور ایک کسی اور غریب کو دے دیتا ہوں۔ لیکن جب صرف ایک روٹی ملتی ہے، تو اسے آدھا آدھا کر کے کھاتا ہوں۔ آدھی آج، آدھی کل۔ لیکن آج ایک بات اور ہے۔”
بادشاہ غور سے سن رہے تھے۔ اللہ داد نے کہا، “آج جب تم دونوں کو دیکھا، تمہاری آنکھوں میں بھوک نہیں تھی، بلکہ کوئی اور بات تھی۔ مجھے لگا، شاید یہ لوگ مجھ سے زیادہ محتاج ہیں۔ میرے پاس جو تھا، وہ میں نے دے دیا۔ کل کی فکر اللہ کرے گا۔”
بادشاہ کی آنکھوں میں نمی تھی۔ انہوں نے اللہ داد کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ وہ کپکپا رہے تھے، مگر ان میں اطمینان تھا۔
بادشاہ نے کہا، “اللہ داد، تو نے آج مجھے بڑی روٹی کھلائی ہے۔ مگر یہ روٹی باجرے کی نہیں، انسانیت کی تھی۔”
یہ کہہ کر بادشاہ نے اپنے چہرے سے نقاب ہٹا دیا۔ چاندنی رات میں بادشاہ کا چہرہ دمک اٹھا۔ اللہ داد کی آنکھیں حیرت سے پھٹی رہ گئیں۔ وہ فوراً کھڑا ہونا چاہتا تھا مگر بادشاہ نے اسے بازو سے پکڑ لیا۔
“نہیں اللہ داد، اب نہیں۔ آج کا بادشاہ میں نہیں، تو ہے۔ تو نے مجھے سکھایا کہ دینا سیکھنا ہے تو لینا بھولنا پڑتا ہے۔ کل کی فکر چھوڑنی پڑتی ہے۔”
اگلی صبح، شہر بغداد میں ایک عجیب خبر گونجی۔ بادشاہ کے حکم سے، اللہ داد کو ایک چھوٹا سا گھر دیا گیا۔ لیکن اس گھر کی کوئی خاص بات نہیں تھی۔ خاص بات یہ تھی کہ اس گھر کے باہر سنگ مرمر کی ایک تختی لگی تھی۔ جس پر سنہری حروف میں لکھا تھا:
“یہاں وہ روٹی رہتی ہے، جو بادشاہ نے بھکاری سے مانگی تھی۔”
اللہ داد وہیں رہا۔ لیکن اب وہ بھیک نہیں مانگتا تھا۔ لوگ دور دور سے اس کے پاس آتے، اس کی زندگی کی کہانی سنتے۔ وہ انہیں وہی روٹی توڑ کر کھلاتا۔ ایک روٹی جو آدھی آدھی کر کے بانٹنے کا سبق دیتی تھی۔
بادشاہ ہارون الرشید نے اس دن کے بعد کبھی کسی بھکاری کو حقارت سے نہیں دیکھا۔ وہ جانتے تھے کہ بھیس بدلنے والا صرف بادشاہ نہیں ہوتا، کبھی کبھی فرشتے بھی بھکاری کا بھیس بدل کر آتے ہیں، ہمیں دینا سکھانے۔
خلاصہ یہ کہ: اصل بادشاہ وہ نہیں جس کے پاس خزانے ہوں، بلکہ وہ ہے جو اپنی آدھی روٹی بھی دوسرے کو دے سکے۔ دینے والا ہاتھ ہمیشہ لینے والے سے بڑا ہوتا ہے، چاہے اس ہاتھ میں صرف ایک روٹی کا ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو۔
