بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

ایک کسان کی بیوی فوت ہو چکی تھی اور اس کا ایک چھوٹا بیٹا تھا۔ کسان نے ایک کتا بھی پال رکھا تھا جو اس قدر وفادار تھا کہ کسان جب بھی کھیتوں میں کام کرنے جاتا، تو اپنے معصوم بچے کو اسی کی نگرانی میں چھوڑ جاتا۔
ایک دن ایک نہایت المناک واقعہ پیش آیا۔ حسبِ معمول کسان اپنے بچے کو اس وفادار کتے کے پاس چھوڑ کر اپنے کام پر چلا گیا۔
جب وہ واپس لوٹا تو اندر کا ہولناک منظر دیکھ کر اس کے ہوش اڑ گئے۔ بچہ اپنے پالنے میں موجود نہیں تھا، اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے اور پورے کمرے میں ہر طرف خون بکھرا ہوا تھا۔ خوف اور صدمے کے مارے کسان نے بدحواسی میں اپنے بچے کو ادھر ادھر تلاش کرنا شروع کر دیا۔
اچانک اس کی نظر چارپائی کے نیچے سے نکلتے ہوئے اپنے کتے پر پڑی، جو خون میں لت پت تھا اور اپنا منہ ایسے چاٹ رہا تھا جیسے ابھی کوئی لذیذ شکار کھا کر آیا ہو۔
کسان کو یقین ہو گیا کہ اس درندے نے اس کے بچے کو نوچ کھایا ہے۔ طیش میں آ کر، اس نے بغیر کچھ سوچے سمجھے پاس پڑی ایک بھاری لکڑی اٹھائی اور کتے کو مار مار کر وہیں ہلاک کر دیا۔
اس کے بعد وہ روتے ہوئے اپنے لختِ جگر کے جسم کے ٹکڑے تلاش کرنے لگا۔ تبھی اسے چارپائی کے پیچھے اپنا مسکراتا ہوا بچہ نظر آیا جو بالکل محفوظ تھا اور فرش پر کھیل رہا تھا۔ قریب ہی کسان کو ایک زہریلے سانپ کی کٹی پھٹی لاش پڑی ملی۔
دراصل، یہ سانپ اور کتے کے درمیان ایک زبردست اور خونی جنگ کا نتیجہ تھا۔ اس وفادار کتے نے بچے کو بپھرے ہوئے سانپ سے بچانے کے لیے اپنی جان کی بازی لگا دی تھی۔ کسان کو اپنی بھیانک غلطی کا احساس تو ہوا، لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی؛ وہ اپنے غصے کی اندھی آگ میں ایک سچے اور وفادار ساتھی کی جان لے چکا تھا۔
سبق: “مشکل اور جذباتی حالات میں ہمیشہ صبر اور تحمل سے کام لیں۔ غصے اور جلد بازی میں کیے گئے فیصلے اکثر ایسے پچھتاوے کا سبب بنتے ہیں جن کا ازالہ عمر بھر نہیں ہو پاتا۔”
اللہ پاک ہم سب کو غصے پر قابو پانے اور درست فیصلہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 🤲
#منقول

Leave a Reply

NZ's Corner