بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

افریقہ کے گھنے جنگل میں ایک بندر رہتا تھا۔ وہ بہت ہی ذہین تھا، کم از کم وہ خود کو ذہین سمجھتا تھا۔ وہ درختوں پر چڑھنے میں ماہر تھا، پھل توڑنے میں ماہر تھا، شاخ سے شاخ چھلانگ لگانے میں ماہر تھا۔ اسے لگتا تھا کہ دنیا کی ہر مشکل کا حل اسے معلوم ہے۔

وہ ہر کام میں دوسروں کی مدد کرتا تھا۔ جب کوئی جانور کسی مشکل میں پھنستا، بندر فوراً دوڑ کر آتا اور اپنی رائے دیتا۔ کبھی وہ چیونٹی کو بتاتا کہ دانہ کیسے اٹھانا ہے، کبھی پرندے کو بتاتا کہ گھونسلا کیسے بنانا ہے۔ سب اس کی مدد کی تعریف کرتے تھے۔

ایک دن بندر دریا کے کنارے گیا۔ وہ ایک درخت پر بیٹھا پھل کھا رہا تھا کہ اس کی نظر دریا میں گئی۔ اس نے دیکھا کہ ایک مچھلی پانی میں تیر رہی ہے۔ مچھلی خوش تھی، چھلانگیں لگا رہی تھی، پانی میں گھوم رہی تھی۔

بندر نے سوچا: “یہ مچھلی کتنی بے چین ہے۔ پانی میں پھنسی ہوئی ہے، ادھر ادھر بھاگ رہی ہے۔ شاید اسے باہر آنا ہے، لیکن وہ نہیں نکل سکتی۔ میں اس کی مدد کروں گا۔”

اس نے درخت سے ایک لمبی ڈالی توڑی اور اسے پانی میں ڈال کر مچھلی کو نکالنے کی کوشش کی۔ مچھلی ڈر گئی اور دور بھاگ گئی۔

بندر نے سوچا: “شاید ڈالی سے نہیں نکل رہی، مجھے ہاتھ سے نکالنا ہوگا۔”

وہ درخت سے اترا اور دریا کے کنارے بیٹھ کر ہاتھ پانی میں ڈالا۔ مچھلی پھر دور بھاگ گئی۔

بندر نے کہا: “ارے مچھلی! ڈر کیوں رہی ہو؟ میں تمہاری مدد کر رہا ہوں۔ تم پانی میں پھنسی ہوئی ہو، میں تمہیں باہر نکالوں گا۔ یہاں آؤ۔”

لیکن مچھلی نہیں آئی۔

بندر نے سوچا کہ مچھلی کو سمجھ نہیں آرہی ہے۔ اس نے دریا میں اتر کر مچھلی کا پیچھا کرنا شروع کر دیا۔ وہ پانی میں ہاتھ مارتا، چھلانگیں لگاتا، مچھلی کو پکڑنے کی کوشش کرتا۔ مچھلی ڈر کر ادھر ادھر بھاگ رہی تھی۔

آخر بندر نے مچھلی پکڑ لی۔ وہ بہت خوش ہوا۔ اس نے مچھلی کو پانی سے باہر نکالا اور درخت کے نیچے زمین پر رکھ دیا۔

“دیکھو،” اس نے کہا، “اب تم آزاد ہو۔ اب تمہیں پانی میں پھنس کر نہیں بھاگنا پڑے گا۔ اب تم یہاں زمین پر آرام سے رہو گی۔”

مچھلی زمین پر تڑپنے لگی۔ اس کا منہ کھلتا بند ہوتا تھا، اس کی دم ہل رہی تھی، اس کے گلپھڑے پھڑپھڑا رہے تھے۔

بندر نے سوچا: “یہ مچھلی بہت خوش ہے۔ دیکھو کتنا ناچ رہی ہے۔”

لیکن مچھلی کی تڑپ کم نہیں ہو رہی تھی۔ وہ کمزور ہوتی جا رہی تھی۔ اس کی آنکھیں بند ہونے لگی تھیں۔

اتنے میں ایک بوڑھا کچھوا وہاں سے گزرا۔ اس نے بندر کو دیکھا، پھر مچھلی کو دیکھا۔ وہ سمجھ گیا کہ کیا ہوا ہے۔

اس نے کہا: “بندر! تم کیا کر رہے ہو؟”

بندر نے فخر سے کہا: “دیکھو، میں نے اس مچھلی کی مدد کی۔ یہ پانی میں پھنسی ہوئی تھی، میں نے اسے باہر نکال دیا۔ اب یہ آزاد ہے۔”

کچھوے نے کہا: “بندر، تم نے اچھا کام کیا، لیکن تم نے ایک بڑی غلطی کی۔ تم نے یہ نہیں سوچا کہ مچھلی کو کیا چاہیے۔”

بندر نے کہا: “اسے آزادی چاہیے تھی۔”

کچھوا بولا: “مچھلی کی آزادی پانی میں ہے۔ پانی ہی اس کا گھر ہے۔ پانی سے باہر وہ زندہ نہیں رہ سکتی۔ تم نے اسے پانی سے نکال کر مار ڈالا۔”

بندر نے مچھلی کی طرف دیکھا۔ مچھلی اب بالکل خاموش تھی۔ اس کی آنکھیں کھلی تھیں، لیکن وہ حرکت نہیں کر رہی تھی۔ وہ مر چکی تھی۔

بندر کے ہاتھ کانپنے لگے۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ “میں… میں نے اس کی مدد کرنا چاہی تھی۔ میں نے سوچا کہ میں اسے بچا رہا ہوں، لیکن میں نے اسے مار ڈالا۔”

کچھوے نے نرمی سے کہا: “بندر، تمہارا ارادہ اچھا تھا، لیکن ارادہ اچھا ہونا کافی نہیں۔ دوسروں کی مدد کرنے سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ انہیں کیا چاہیے۔ تم نے اپنی سوچ سے اس کی ضرورت سمجھی، اس کی سوچ سے نہیں۔”

بندر نے سر جھکا لیا۔ “میں نے کبھی سوچا ہی نہیں کہ مچھلی کو پانی چاہیے۔ مجھے لگتا تھا کہ پانی میں رہنا سزا ہے۔”

کچھوا بولا: “یہی تمہاری غلطی ہے۔ تم نے دوسروں کی ضرورت کو اپنی سوچ سے ناپا۔ تم نے سوچا کہ جو تمہیں اچھا لگتا ہے، وہ سب کو اچھا لگے گا۔ لیکن ہر کسی کی اپنی دنیا ہوتی ہے، اپنی ضرورتیں ہوتی ہیں۔”

بندر نے اس دن کے بعد کبھی کسی کی مدد کرنے سے پہلے سوچنا شروع کیا۔ وہ پوچھنے لگا: “تمہیں کیا چاہیے؟ تمہاری کیا ضرورت ہے؟ تم کیسے خوش رہتے ہو؟”

اور جب بھی وہ دریا کے کنارے جاتا، مچھلیوں کو پانی میں تیرتے دیکھتا تو اسے اپنی غلطی یاد آتی۔ وہ خاموش بیٹھ جاتا اور مچھلیوں کو دیکھتا۔ اب وہ انہیں قید میں نہیں سمجھتا تھا۔ اب وہ جانتا تھا کہ مچھلی کے لیے پانی ہی آزادی ہے۔

سبق

یہ کہانی ان لوگوں کے لیے ہے جو دوسروں کی مدد کرتے ہیں لیکن پہلے یہ نہیں پوچھتے کہ دوسروں کو کیا چاہیے۔ اچھا ارادہ کافی نہیں ہے۔ مدد کرنے سے پہلے سمجھنا ضروری ہے کہ سامنے والے کو کیا چاہیے، اس کی دنیا کیا ہے، اس کی ضرورتیں کیا ہیں۔

بندر نے اچھا کیا، لیکن اس نے اچھا نہ کیا۔ کیونکہ اس نے دوسرے کی جگہ خود کو رکھ کر سوچا۔

اخلاقی سبق: دوسروں کی مدد کرنے سے پہلے یہ سمجھو کہ انہیں کیا چاہیے۔ تمہارا اچھا ارادہ اگر دوسرے کی ضرورت کے خلاف ہو تو نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner