بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

ایک پرانے زمانے کی بات ہے۔ چین کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک بوڑھا کسان رہتا تھا۔ اس کے پاس ایک گھوڑا تھا جو اس کی ساری دولت تھی۔ وہ اس گھوڑے سے کھیت جوتتا، فصل اُگاتا، اور اپنی گزر بسر کرتا۔

ایک دن گھوڑا بھاگ گیا۔

پڑوسی دوڑے دوڑے آئے۔ “کتنی بڑی بدقسمتی ہے! تمہارا گھوڑا چلا گیا۔ اب تم کھیت کیسے جوتو گے؟ تم کیا کھاؤ گے؟ یہ تو بہت برا ہوا۔”

بوڑھے کسان نے کہا: “برا؟ اچھا؟ کون جانتا ہے؟”

پڑوسی حیران رہ گئے۔ انہوں نے سوچا کہ بوڑھا پاگل ہو گیا ہے۔

کچھ دن بعد گھوڑا واپس آیا۔ اور وہ اکیلے نہیں آیا۔ اس کے ساتھ دو جنگلی گھوڑے بھی تھے۔

پڑوسی پھر دوڑے آئے۔ “کتنی بڑی خوش قسمتی ہے! تمہارا گھوڑا واپس آیا اور دو اور گھوڑے بھی ساتھ لایا۔ اب تم بہت امیر ہو گئے۔”

بوڑھے کسان نے کہا: “اچھا؟ برا؟ کون جانتا ہے؟”

پڑوسیوں نے سر ہلائے۔ انہیں یقین آ گیا کہ بوڑھا واقعی پاگل ہے۔

کسان کے بیٹے نے جنگلی گھوڑوں کو سدھانے کی کوشش کی۔ ایک گھوڑے نے لات ماری اور بیٹے کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔

پڑوسی پھر آئے۔ “کتنی بڑی مصیبت ہے! تمہارے بیٹے کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ اب وہ کھیت میں کام نہیں کر سکے گا۔ تمہاری کون مدد کرے گا؟”

بوڑھے کسان نے کہا: “برا؟ اچھا؟ کون جانتا ہے؟”

پڑوسیوں نے کہا: “یہ تو صاف برا ہے۔ بیٹے کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ اس سے برا اور کیا ہو سکتا ہے؟”

کچھ دن بعد بادشاہ کا لشکر گاؤں میں آیا۔ جنگ چھڑ گئی تھی، بادشاہ کو سپاہی چاہیے تھے۔ اس نے گاؤں کے تمام جوانوں کو بھرتی کر لیا۔

لیکن کسان کے بیٹے کو نہیں لیا گیا۔ اس کی ٹانگ ٹوٹی ہوئی تھی۔

وہ تمام جوان چلے گئے۔ ان میں سے بہت سے کبھی واپس نہیں آئے۔

پڑوسی بوڑھے کسان کے پاس آئے۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ ان کے بیٹے چلے گئے تھے، کچھ مر گئے تھے، کچھ لاپتہ تھے۔

انہوں نے کہا: “بڑھیا، تمہارا بیٹا بچ گیا۔ تمہارے بیٹے کی ٹانگ ٹوٹی تھی، اس لیے وہ نہیں گیا۔ تم نے کہا تھا نہ کہ ‘اچھا؟ برا؟ کون جانتا ہے؟’ تم ٹھیک کہتے تھے۔ کون جانتا تھا کہ ٹانگ ٹوٹنا برائی تھی یا بھلائی؟”

بوڑھے کسان نے کہا: “اور جو گئے ہیں، ان کے بارے میں بھی کون جانتا ہے کہ اچھا ہوا یا برا؟ جو مر گئے، وہ جنگ کی تکلیف سے بچ گئے۔ جو زندہ ہیں، وہ شاید بڑے سپاہی بن کر واپس آئیں گے۔ ہم نہیں جانتے۔”

سبق

یہ کہانی اس بارے میں ہے کہ ہم ہر چیز کو فوراً اچھا یا برا قرار دے دیتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم نہیں جانتے۔ جو آج برا لگتا ہے، کل بھلائی بن سکتا ہے۔ جو آج اچھا لگتا ہے، کل مصیبت بن سکتا ہے۔

عقلمند وہ ہے جو جلدی فیصلہ نہیں کرتا۔ جو ہر حال میں صبر کرتا ہے۔ جو جانتا ہے کہ زندگی میں کچھ بھی حتمی نہیں ہوتا۔

اخلاقی سبق: جو ہوتا ہے، اچھے کے لیے ہوتا ہے۔ لیکن یہ اچھا کبھی کبھی برے کا روپ دھار کر آتا ہے۔ صبر کرو، وقت بتا دے گا۔

Leave a Reply

NZ's Corner