جنگل کا نصاب

جنگل کا نصاب

جنگل میں آئے دن جھگڑے اور فسادات ہوتے رہتے تھے۔
چھوٹی چھوٹی باتوں پر خون بہہ جاتا، اور ہر طرف خوف، نفرت اور بدنظمی کا راج تھا۔

چند امن پسند، سمجھدار اور سچے دل کے جانور آخرکار شیر کے دربار میں حاضر ہوئے۔ وہ گڑگڑاتے ہوئے بولے:

حضور! کچھ کیجیے۔ اس ریاست میں ہمارا جینا دوبھر ہو گیا ہے۔ ہر روز کوئی نہ کوئی جان سے جاتا ہے۔ ظلم، ناانصافی اور نفرت بڑھتی جا رہی ہے۔”

شیر نے انہیں انصاف کا یقین دلایا، تسلی دی اور دربار برخاست کر دیا۔

اجلاس کے بعد شیر نے اپنی وزیرِاعظم لومڑی کو بلایا اور پوچھا:
“یہ سب لڑائی جھگڑوں اور بدنظمی کی اصل وجہ کیا ہے؟”

لومڑی نے بڑے اعتماد سے جواب دیا:
جنابِ والا! رعایا میں شعور کی شدید کمی ہے۔ وہ نہ اپنے حقوق کو پہچانتی ہے اور نہ اپنے فرائض کو سمجھتی ہے۔ انہیں بات کی گہرائی میں جانے کی عادت بھی نہیں۔”

شیر نے پوچھا:
پھر یہ شعور کیسے پیدا کیا جائے؟”

لومڑی فوراً بولی:
جناب! تعلیم کے ذریعے۔”

شیر نے حیرت سے کہا:
یہ تعلیم کیا چیز ہے؟”

لومڑی نے جواب دیا:
تعلیم وہ کنجی ہے جو جانوروں کو مہذب اور باشعور بناتی ہے… جیسا کہ حضور خود ایک مہذب حکمران ہیں۔”

یہ سن کر شیر خوش ہوا اور حکم دیا:
اگر ایسا ہے تو فوراً جنگل میں تعلیم کا نظام قائم کیا جائے۔”

اب نصاب تیار کرنے کی ذمہ داری لومڑی کے سپرد ہوئی۔ اس نے نصاب کچھ یوں ترتیب دیا:

شیر — چونکہ وہ بادشاہ تھا، اس لیے اسے بہادر، عادل اور عظیم رہنما قرار دیا گیا۔

لومڑی — اسے دانشور، عقلمند اور دور اندیش لکھا گیا۔

بھیڑیے — انہیں ریاستِ جنگل کے محافظ اور امن کے رکھوالے قرار دیا گیا۔

بندر — جو ہر وقت ناچتا کودتا اور سب کو ہنساتا تھا، اسے قوم کا ہیرو اور تفریح کی علامت بنا دیا گیا۔

کتے — جو محل کے دروازے پر بھونک بھونک کر وفاداری دکھاتے تھے، انہیں نڈر، بااعتماد اور ریاست کے ستون کہا گیا۔

مکھی — جو ہر گندگی پر جا بیٹھتی تھی، اسے مشاہدہ کار اور ہر مسئلے پر نظر رکھنے والی ہستی قرار دیا گیا۔

لیکن دوسری طرف:

گدھا — جو دن رات ریاست کا بوجھ اٹھاتا تھا، اسے کم عقل اور احمق لکھ دیا گیا، کیونکہ وہ نہ سوال کرتا تھا اور نہ اپنے حق کی بات کرتا تھا۔

الو — جو رات بھر جاگ کر حقیقت دیکھتا اور دوسروں کو خبردار کرتا تھا، اسے منحوس اور ناپسندیدہ قرار دیا گیا۔

کوا — جو سچ بولتا اور خبردار کرتا تھا، اسے چور، کالا اور فتنہ پرور بنا دیا گیا۔

ہاتھی — جو وقار، اصول اور سچائی کی علامت تھا، اسے سست، بیکار اور دقیانوسی کہہ کر صرف ایک تصویر تک محدود کر دیا گیا۔

کچھ ہی عرصے میں جنگل میں تعلیم عام ہو گئی…
اور حیرت انگیز طور پر امن بھی قائم ہو گیا۔

ایسا امن…
جس میں نہ سوال تھا، نہ اختلاف، نہ سوچنے کی ضرورت اور نہ سمجھنے کی خواہش۔

کوا چیختا رہتا مگر اب کوئی اس کی آواز نہیں سنتا تھا، کیونکہ سب کو تعلیم نے بتا دیا تھا کہ وہ فتنہ پرور ہے۔

گدھا دن رات بوجھ اٹھاتا، لیکن جب وہ اپنے حق کی بات کرتا تو کوئی اس کی طرف توجہ نہ دیتا، کیونکہ سب کو معلوم تھا کہ وہ احمق ہے۔

اب جانور ہاتھی جیسی بڑی حقیقت بھی آسانی سے ہضم کر لیتے تھے، جو پہلے چیونٹی جیسی بات پر شور مچا دیتے تھے۔

اگر کسی گدھے کو مار پڑتی…
اگر کسی الو کو سچ بولنے پر سزا ملتی…
تو کوئی اس پر توجہ نہ دیتا۔

کیونکہ اب سب سمجھ گئے تھے کہ:

“یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے۔”

یوں وہ ہر طرح کی بحث، اختلاف، سوال اور مزاحمت سے آزاد ہو گئے۔

اب وہ پرسکون تھے… مکمل سکون میں۔

اور یہ سکون انہیں تعلیم کی بدولت ملا تھا۔

جو جانور پہلے ہر چھوٹی بات پر اجتماعی آواز اٹھاتے تھے،
اب جان چکے تھے کہ آواز اٹھانے سے سکون ختم ہو جاتا ہے۔

اب وہ مطمئن تھے کہ ہر مسئلے کا حل ریاست ہے، وہ خود نہیں۔

کیونکہ ریاست کا کام ہی مسائل حل کرنا، انصاف دینا اور امن قائم کرنا ہے۔

لہٰذا سوچنا، سوال کرنا اور پریشان ہونا… ان کا کام نہیں۔

جنگل میں واقعی شعور آ گیا تھا۔
اب سب کچھ دیکھتے تھے… سب کچھ سنتے تھے…
مگر پہلے کی طرح پریشان نہیں ہوتے تھے۔

اور یہ سب کچھ تعلیم کے ذریعے حاصل ہونے والا شعور تھا۔

اخلاقی سبق

جب تعلیم سچائی، سوال اور انصاف سکھانے کے بجائے صرف حکمرانوں کی تعریف اور کمزوروں کی تذلیل سکھانے لگے،
تو وہ تعلیم نہیں رہتی بلکہ ذہنوں کو قابو میں رکھنے کا ایک ہتھیار بن جاتی ہے۔

ایسی تعلیم معاشرے میں شعور پیدا نہیں کرتی، بلکہ لوگوں کو اس قدر مطمئن کر دیتی ہے کہ وہ ظلم اور ناانصافی کو دیکھ کر بھی خاموش رہنے لگتے ہیں۔

اصل شعور وہ ہے
جو انسان کو سوال کرنا، حق بات کہنا
اور ظلم کے خلاف کھڑا ہونا سکھائے۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں۔

Leave a Reply

NZ's Corner