راجستھان کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک بوڑھا کسان رہتا تھا۔ اس کا نام تارا تھا۔ وہ بہت غریب تھا، لیکن بہت مہمان نواز تھا۔ اس کے پاس جو کچھ تھا، وہ دوسروں کے ساتھ بانٹ دیتا تھا۔
ایک دن ایک مسافر اس کے گھر آیا۔ وہ بہت تھکا ہوا تھا، اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے، اس کے پاؤں زخمی تھے۔ تارا نے اسے اندر بٹھایا، اسے کھانا کھلایا، اس کے زخموں پر مرہم رکھا۔
رات کو مسافر نے تارا سے کہا: “تم بہت غریب ہو، پھر بھی مہمان نوازی کرتے ہو۔ تمہارے پاس کیا ہے جو دوسروں کو دیتے ہو؟”
تارا نے کہا: “میرے پاس کھیت ہے، دو وقت کی روٹی ہے، ایک چھوٹا سا گھر ہے، اور بیوی بچے ہیں۔ بس اتنا ہی ہے۔”
مسافر نے کہا: “کل صبح تمہیں ایک تحفہ ملے گا۔”
صبح جب تارا اٹھا تو مسافر جا چکا تھا۔ اس کی چارپائی کے پاس تین چیزیں رکھی تھیں ایک ہیرا، ایک موتی، اور ایک گھڑی۔
تارا حیران رہ گیا۔ اس نے بیوی کو بلایا۔ دونوں نے دیکھا تو آنکھیں پھیل گئیں۔
بیوی بولی: “یہ ہیرا اور موتی تو بہت قیمتی ہیں۔ ہم انہیں بیچ کر امیر ہو سکتے ہیں۔”
تارا نے کہا: “لیکن یہ گھڑی کس کام کی؟”
اس نے گھڑی اٹھائی تو اس پر لکھا تھا: “یہ گھڑی وقت بتاتی ہے — لیکن صرف اتنا بتاتی ہے کہ ابھی کیا وقت ہے، کل کیا ہوگا نہیں بتاتی۔”
تارا نے ہیرا اور موتی اٹھائے اور بازار گیا۔ اس نے سوچا کہ انہیں بیچ کر اچھے پیسے لے آئے گا۔
لیکن جب اس نے ہیرا دکھایا تو سوداگر بولا: “یہ ہیرا اصلی نہیں ہے۔”
اس نے موتی دکھایا تو سوداگر بولا: “یہ موتی بھی اصلی نہیں ہے۔”
تارا مایوس ہو کر گھر واپس آیا۔ اس نے بیوی کو بتایا۔ بیوی نے کہا: “یہ مسافر جھوٹا تھا۔ اس نے ہمیں دھوکہ دیا۔”
تارا نے کہا: “نہیں، اس نے دھوکہ نہیں دیا۔ اس نے ہمیں ہیرا اور موتی دے کر نہیں دکھایا کہ یہ اصلی ہیں۔ اس نے ہمیں کچھ اور دکھانا چاہا۔”
اس نے گھڑی اٹھائی۔ گھڑی چل رہی تھی۔ اس پر صرف ایک سوئی تھی جو موجودہ وقت بتاتی تھی۔
تارا اس گھڑی کو اپنے پاس رکھے رہا۔ دن گزرتے گئے، مہینے گزرتے گئے۔ وہ ہر روز گھڑی دیکھتا۔ گھڑی بتاتی: “صبح ہو گئی۔” “دوپہر ہو گئی۔” “شام ہو گئی۔” “رات ہو گئی۔”
ایک دن گھڑی ٹوٹ گئی۔ تارا نے اسے ٹھیک کرنے کی کوشش کی، لیکن گھڑی کے اندر کچھ نہیں تھا صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا تھا۔ اس نے کاغذ نکالا۔ اس پر لکھا تھا:
“ہیرا وہ ہے جو آج کام کرے۔ موتی وہ ہے جو آج کسی کی مدد کرے۔ وقت وہ ہے جو واپس نہیں آتا۔”
تارا کو سمجھ آ گئی۔
اس نے ہیرا اور موتی پھر سے اٹھائے۔ اس بار وہ بازار نہیں گیا۔ وہ انہیں اپنے پاس رکھ کر رہ گیا۔
جب بھی اسے صبح یاد آتی، وہ ہیرا دیکھتا اور کہتا: “آج کا دن ہیرا ہے — ضائع نہ کروں۔”
جب بھی کوئی اس کے پاس مشکل لے کر آتا، وہ موتی دیکھتا اور کہتا: “آج کی مدد موتی ہے کر کے رہوں۔”
اور گھڑی کی سوئی اسے ہر لمحہ بتاتی: “یہ وقت جا رہا ہے۔ جو کرنا ہے، ابھی کر۔”
سال گزر گئے۔ تارا امیر نہیں ہوا۔ اس کے پاس وہی کھیت تھا، وہی گھر تھا، وہی دو وقت کی روٹی تھی۔ لیکن اس کے پاس ایک اور چیز تھی اس نے ہر دن کو ہیرا بنا لیا تھا، ہر مدد کو موتی بنا لیا تھا، ہر وقت کو قیمتی بنا لیا تھا۔
گاؤں والے کہتے: “تارا کے پاس کچھ نہیں ہے، پھر بھی وہ اتنا خوش کیوں ہے؟”
تارا کہتا: “میرے پاس ہیرا ہے، موتی ہے، وقت ہے۔ تمہیں کیا لگتا ہے؟”
اخلاقی سبق:
یہ کہانی ہمیں تین بڑے سبق دیتی ہے:
1. آج کا دن سب سے بڑا ہیرا ہے جو آج ہے، وہی تمہارا ہے۔ کل کا کوئی بھروسہ نہیں۔
2. کسی کی مدد کرنا سب سے بڑا موتی ہے دنیا کا کوئی خزانہ اس کے برابر نہیں۔
3. وقت واپس نہیں آتا جو وقت گزر گیا، وہ گزر گیا۔ اسے ضائع کرنا سب سے بڑا نقصان ہے۔
مسافر نے تارا کو اصلی ہیرا اور موتی نہیں دیا تھا۔ اس نے اسے زندگی کا اصل ہیرا اور موتی پہچاننا سکھایا تھا۔
حوالہ:
یہ کہانی راجستھان (ہندوستان) کی لوک کہانیوں میں سے ہے۔ راجستھان میں یہ کہانی بچوں کو وقت کی قدر اور خدمت کی اہمیت سکھانے کے لیے سنائی جاتی ہے۔
ہندوستانی ثقافت میں ہیرا اور موتی کو دولت کی علامت سمجھا جاتا ہے، لیکن یہ کہانی بتاتی ہے کہ اصل دولت وقت اور عمل ہے ♣️
