بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

ایک بادشاہ تھا،
جس کے پاس دولت، طاقت، شان و شوکت سب کچھ تھا
مگر ایک کمی اسے اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی…
اس کے ہاں بیٹا نہیں تھا۔

اس کی سات بیٹیاں تھیں،
مگر وہ معاشرے کی سوچ کے زیرِ اثر
بیٹے کی خواہش میں ہمیشہ پریشان رہتا تھا۔

ایک دن وہ اپنے لشکر کے ساتھ ایک گاؤں سے گزر رہا تھا
کہ اس کی نظر ایک بوڑھے شخص پر پڑی
جو ایک درخت کے نیچے بیٹھا زار و قطار رو رہا تھا۔

بادشاہ فوراً گھوڑے سے اترا،
اور اس کے قریب جا کر نرمی سے پوچھا:
“بابا! تم کیوں رو رہے ہو؟”

بوڑھا شخص کانپتی آواز میں بولا:
“بادشاہ سلامت… میں بہت غریب ہوں۔
میرے سات بیٹے ہیں،
مگر انہیں کوئی کام دینے کو تیار نہیں۔
گھر میں بیوی بیمار ہے،
کھانے کو ایک دانہ نہیں…
علاج کرواؤں تو کہاں سے؟”

بادشاہ نے حیرانی سے پوچھا:
“ایسا کیوں؟ تمہارے بیٹے کیا کام نہیں کر سکتے؟”

بوڑھا بولا:
“جناب! میرے بیٹے تو ہر کام کرنے کو تیار ہیں،
مگر لوگ ڈرتے ہیں…
کہ سات بھائی ہیں،
اگر کبھی اختلاف ہو گیا
تو یہ سب مل کر نقصان نہ کر دیں…”

بادشاہ کچھ دیر خاموش رہا…
پھر بولا:
“کل اپنے بیٹوں کو میرے محل لے آؤ۔”

اگلے دن…
وہ بوڑھا اپنے ساتوں بیٹوں کے ساتھ محل میں حاضر ہوا۔

بادشاہ نے ایک ایک کر کے سب کو دیکھا
سب جوان، باوقار اور خوبصورت تھے۔

اس نے پوچھا:
“تم کیا کام کر سکتے ہو؟”

سب نے ایک ہی جواب دیا:
“وہ کام جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ناپسند ہو، ہم نہیں کریں گے…
باقی ہر جائز محنت والا کام کرنے کو تیار ہیں۔”

یہ سن کر بادشاہ کا دل خوشی سے بھر گیا۔
اس نے فوراً انہیں محل میں ملازم رکھ لیا،
اور بوڑھے کو اناج، سونا اور حکیم دے کر رخصت کیا۔

وقت گزرتا گیا…

ساتوں بھائی ایک دوسرے کے ساتھ ایسا تعاون کرتے
کہ ایک کا کام سب مل کر کرتے،
پھر دوسرے کا، پھر تیسرے کا…

یوں وہ آدھے وقت میں سارے کام مکمل کر لیتے۔

بادشاہ ان کا اتفاق، دیانت اور محنت دیکھ کر حیران رہ گیا۔

کچھ دن بعد…
بوڑھا اپنے بیٹوں سے ملنے آیا اور اجازت لے کر
انہیں ایک دن کے لیے گھر لے گیا۔

ان کے جانے کے بعد
بادشاہ گہری سوچ میں ڈوب گیا…

“میری بیٹیاں…
اور یہ باکردار، ایماندار نوجوان…
اگر میں ان کی شادیاں آپس میں کر دوں؟”

اس نے سوچا:
“یوں میری بیٹیاں بھی محفوظ رہیں گی،
اور میں ایک مثال قائم کر دوں گا
کہ انسان کی قدر اس کے کردار سے ہوتی ہے، نہ کہ دولت سے۔”

جب وہ لڑکے واپس آئے،
بادشاہ نے اپنی خواہش ظاہر کی۔

انہوں نے ادب سے جواب دیا:
“بادشاہ سلامت، ہمیں کوئی اعتراض نہیں…
مگر ہمارا فیصلہ ہمارے والدین کریں گے۔”

والدین کو بلایا گیا…
ماں نے کہا:
“ہم بڑھاپے میں کہاں جائیں گے؟ ہماری خدمت کون کرے گا؟”

بادشاہ مسکرایا اور بولا:
“میں آپ کے لیے محل کے ساتھ ایک الگ گھر بنوا دوں گا،
جہاں آپ کی خدمت بھی ہوگی
اور آپ کے بیٹے بھی قریب رہیں گے۔”

یوں سب معاملات طے پا گئے…
شادیاں ہوئیں
اور سب خوشی خوشی رہنے لگے۔

سبق

یہ کہانی ہمیں دو بڑے سبق دیتی ہے:

1. اتفاق میں برکت ہوتی ہے
جب لوگ ایک دوسرے کا ساتھ دیں، تو مشکل کام بھی آسان ہو جاتے ہیں۔

2. انسان کی اصل قدر اس کے کردار میں ہے، نہ کہ دولت میں
بادشاہ نے امیر و غریب کا فرق مٹا کر ایک مثال قائم کی۔

Leave a Reply

NZ's Corner