ایک دن کسی نے شیخ چلی کو بتایا کہ شہر کے باہر والے جنگل میں ایک خطرناک شیر رہتا ہے، جو لوگوں کو ڈراتا ہے۔
یہ سنتے ہی شیخ چلی کے دل میں ہیرو بننے کا خیال جاگا۔
وہ سوچنے لگا:
“اگر میں نے اس شیر کو قابو کر لیا تو پورا شہر مجھے سلام کرے گا، اور بادشاہ مجھے سونے سے نواز دیں گے!”
بس پھر کیا تھا! شیخ چلی ایک لمبی لاٹھی اٹھائے بہادری کے عالم میں جنگل کی طرف نکل پڑا۔
راستے میں اسے ایک ٹوٹا ہوا آئینہ ملا۔
شیخ نے اسے بھی “ضروری ہتھیار” سمجھ کر جیب میں رکھ لیا۔
کچھ دور پہنچا تو اچانک جھاڑیوں کے پیچھے سے شیر کی خوفناک دھاڑ سنائی دی۔
شیخ چلی کے تو ہوش اڑ گئے… مگر “بہادری” کا خیال آتے ہی اس نے ہمت باندھی۔
اس نے جلدی سے آئینہ نکالا، جھاڑی کی طرف کر دیا اور خود ایک درخت کے پیچھے چھپ گیا۔
جیسے ہی شیر باہر آیا، اس نے آئینے میں اپنا عکس دیکھا۔
وہ سمجھا کہ سامنے کوئی دوسرا شیر کھڑا ہے!
وہ غصے سے دھاڑنے لگا۔
ادھر شیخ چلی بھی دور سے لاٹھی لہرا کر چیخنے لگا:
“اوئے شیرا! اب تیری خیر نہیں، میں تجھے دیکھ رہا ہوں!”
شیر مزید غصے میں آیا اور آئینے پر جھپٹا،
آئینہ ٹوٹ گیا، پنجے زخمی ہو گئے، اور شیر درد سے تڑپتا ہوا بھاگ نکلا۔
شیخ چلی درخت کے پیچھے سے نکلا، سینہ تان کر بولا:
“دیکھا! میں نے اپنی عقل سے شیر کو بھگا دیا… اب وہ کبھی واپس نہیں آئے گا!”
گھر پہنچ کر وہ پورے محلے میں اپنی “بہادری” کے قصے سنانے لگا۔
لوگ مسکراتے رہے، اور شیخ چلی اپنی ہی تعریفوں میں مگن رہا۔
مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی…
کچھ دن بعد محلے والوں نے کہا:
“اگر واقعی شیر بھاگا ہے تو ہمیں بھی وہ جگہ دکھاؤ!”
شیخ چلی بڑے اعتماد سے سب کو جنگل لے گیا…
مگر وہاں پہنچ کر اس کے قدم رک گئے!
شیر کے نشانات تو تھے… مگر پاس ہی ایک معصوم بھیڑ کا بچہ گھاس چر رہا تھا۔
شیخ چلی نے فوراً اپنی “عقلمندی” دکھائی اور بولا:
“دیکھو! یہ شیر اتنا ڈر گیا کہ سکڑ کر بھیڑ بن گیا ہے… یہی وہ شیر ہے!”
یہ سن کر سب لوگ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گئے…
مگر شیخ چلی اتنی سنجیدگی سے بات کر رہا تھا کہ کچھ سادہ لوگ واقعی مان گئے!
اور یوں اس دن کے بعد اس کا نیا نام پڑ گیا:
“شیر کو بھیڑ بنانے والا جادوگر!”
سبق:
شیخ چلی کی دنیا میں عقل کا وہی حال تھا جو بارش میں کاغذ کی کشتی کا…
مگر ایک بات ضرور تھی—وہ اپنی غلطی کو بھی ایسے پیش کرتا تھا کہ لوگ ہنسے بغیر نہ رہ سکیں!
