بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

ملا نصر الدین کے قصے اپنی ظرافت اور دانائی کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہیں۔ پیش ہے ان کا ایک دلچسپ اور سبق آموز لطیفہ:
مرغی اور شوربہ
ایک دن ملا نصر الدین کے گھر ان کا ایک دور کا رشتہ دار آیا اور تحفے میں ایک مرغی لے کر آیا۔ ملا نے بڑی خوشی سے اس کا استقبال کیا، مرغی ذبح کی اور دونوں نے مل کر لذیذ سالن کھایا۔
اگلے دن ایک اجنبی شخص ملا کے گھر آیا اور کہنے لگا:
میں اس شخص کا پڑوسی ہوں جو کل آپ کے لیے مرغی لایا تھا۔”
ملا نے مروت دکھائی اور اسے بھی کھانا کھلایا۔
تیسرے دن ایک اور شخص آ دھمکا اور بولا:
میں اس شخص کے پڑوسی کا پڑوسی ہوں جو آپ کے لیے مرغی لایا تھا۔”
ملا اسے بھی انکار نہ کر سکے اور اسے دسترخوان پر بٹھا دیا۔
چوتھے دن پھر ایک صاحب آ گئے اور اپنا تعارف کراتے ہوئے بولا:
میں اس شخص کے پڑوسی کے پڑوسی کا دوست ہوں جو آپ کے لیے مرغی لایا تھا۔”
ملا اب سمجھ گئے تھے کہ یہ سلسلہ رکنے والا نہیں ہے۔ وہ کچن میں گئے اور ایک پیالے میں سادہ گرم پانی بھر کر لائے اور اس شخص کے سامنے رکھ دیا۔
وہ شخص حیرانی سے بولا: “ملا جی! یہ کیا ہے؟”
ملا نصر الدین نے مسکرا کر جواب دیا:

جناب! یہ اس مرغی کے شوربے کے شوربے کا شوربہ ہے جو میرا رشتہ دار لایا تھا۔”

عقل مند کی عقل، نادان کا بہانہ – ملا نصرالدین کی ایک چٹکی!

ملا نصرالدین نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ عقل مند کے لیے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے! مرغی تو آ گئی، لیکن جب پڑوسیوں کے پڑوسیوں کے دوست بھی ‘مہمان’ بن کر آنے لگے تو ملا نے ایسا ‘شوربہ’ پلایا کہ سب کا نشہ ہرن ہو گیا۔ 😂

Leave a Reply

NZ's Corner