14ویں صدی کا اوائل… تصور کریں ایک 100 سال سے زائد عمر کا انتہائی ضعیف لیکن دیوہیکل جنگجو، جس کی سفید داڑھی ہوا میں اڑ رہی ہے، لیکن اس کے ہاتھوں میں اب بھی ایک ایسا بھاری بھرکم کلہاڑا (Axe) ہے جسے اٹھانا عام جوانوں کے بس کی بات نہیں۔ اس شخص نے ارطغرل غازی کے ساتھ خانہ بدوشی کے خیمے گاڑے، عثمان غازی کو انگلی پکڑ کر جنگ کرنا سکھایا اور سلطنت کی بنیاد رکھی، اور پھر اورہان غازی کے ساتھ مل کر بازنطینی قلعوں کو فتح کیا۔
یہ تاریخ کے ان چند گنے چنے جنگجوؤں میں سے ایک، ترگت الپ (Turgut Alp) کی سچی کہانی ہے، جنہوں نے ایک قبیلے کو سلطنت بنتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور سلطنتِ عثمانیہ کے تین عظیم حکمرانوں (ارطغرل، عثمان، اور اورہان) کی تلوار بن کر خدمت کی۔ یہ کہانی بتاتی ہے کہ وفاداری اور بہادری کی عمر کتنی طویل ہو سکتی ہے۔
تلواروں کے دور میں کلہاڑے کی ہیبت
تاریخ میں ترگت الپ کی سب سے بڑی پہچان ان کا مخصوص اور خوفناک ہتھیار تھا: ایک بہت بڑا جنگی کلہاڑا (Baltası)۔ جس دور میں جنگجو تلواروں، نیزوں اور تیر کمان کا استعمال کرتے تھے، ترگت الپ نے کلہاڑے کو اپنا ہتھیار چنا۔ ان کا کلہاڑا اتنا بھاری اور ان کی طاقت اتنی زیادہ تھی کہ وہ بازنطینی فوجیوں کی بکتر بند (Armored) ڈھالوں کو ایک ہی وار میں دو ٹکڑے کر دیتے تھے۔ آج بھی ترکی کے عسکری عجائب گھر میں ان سے منسوب کلہاڑا موجود ہے، جو ان کی جسمانی طاقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
تین نسلوں کا وفادار ساتھی اور اتالیق
ترگت الپ محض ایک سپاہی نہیں تھے، بلکہ وہ قائی قبیلے کے ایک انتہائی معزز سردار اور مشیر تھے۔
ارطغرل غازی کے دور میں: وہ ارطغرل کے سب سے قریبی دوست اور دستِ راست (Right-hand man) تھے۔ انہوں نے سوغوت کی فتح اور قبیلے کو مضبوط کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
عثمان غازی کے دور میں: ارطغرل کی وفات کے بعد ترگت الپ نے عثمان غازی کی بالکل ایک باپ کی طرح رہنمائی کی۔ وہ عثمانی فوج کے سب سے بڑے کمانڈر بنے۔
اورہان غازی کے دور میں: اپنی انتہائی ضعیف العمری کے باوجود، انہوں نے اورہان غازی کا بھی ساتھ نہیں چھوڑا اور ان کی فتوحات میں شامل رہے۔
انیگول کی فتح اور ‘ترگت ایلی’ (Turgut-ili)
ترگت الپ کی زندگی کا سب سے بڑا اور شاندار عسکری کارنامہ بازنطینیوں کے انتہائی اہم اور مضبوط قلعے ‘انیگول’ (İnegöl) کی فتح تھا۔ 1299ء میں، عثمان غازی نے اس قلعے کو فتح کرنے کی ذمہ داری ترگت الپ کو سونپی۔ انہوں نے اپنی شاندار جنگی حکمتِ عملی سے اس ناقابلِ تسخیر قلعے کو فتح کر لیا۔
اس عظیم کامیابی پر عثمان غازی نے انیگول اور اس کے آس پاس کا پورا علاقہ ترگت الپ کے حوالے کر دیا، اور تاریخ میں اس علاقے کو “ترگت ایلی” (Turgut-ili یعنی ترگت کا علاقہ) کے نام سے جانا گیا۔ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ عثمان غازی ان پر کتنا اندھا اعتماد کرتے تھے۔
انجام: ڈراموں کی دنیا سے ہٹ کر اصل حقیقت
آج کل مشہور ڈرامے ‘دیرلیش ارطغرل’ اور ‘کرولش عثمان’ کی وجہ سے لوگ ترگت الپ کو جانتے ہیں، لیکن ڈرامے میں ان کی زندگی کے کئی واقعات فرضی ہیں۔ حقیقت میں ترگت الپ کی زندگی کسی ڈرامے سے زیادہ حیرت انگیز تھی۔
ان کی موت کسی سازش یا جوانی میں نہیں ہوئی تھی۔ تاریخی روایات کے مطابق، ترگت الپ نے ایک انتہائی طویل عمر پائی (کچھ مؤرخین کے مطابق 120 سال سے بھی زیادہ)۔ وہ اپنی آخری سانس تک میدانِ جنگ میں رہے۔ ان کا انتقال 1326ء کے آس پاس، اورہان غازی کے دورِ حکومت میں طبعی موت یا کسی جنگ کے دوران بڑھاپے کے باعث ہوا۔ ان کا مقبرہ آج بھی انیگول کے قریبی گاؤں (جسے اب ترگت الپ گاؤں کہا جاتا ہے) میں ایک پہاڑی پر موجود ہے، جہاں وہ صدیوں بعد بھی اپنے فتح کیے ہوئے شہر پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
