ایک زمانے میں ایک نمک فروش تھا۔ وہ روزانہ دریائے سندھ کے کنارے بستے شہر سے نمک خرید کر اپنے گدھے پر لادتا اور دوسرے شہر لے جا کر بیچتا تھا۔ اس گدھے کے ساتھ نمک فروش کی بہت محبت تھی۔ وہ اسے ہر روز صاف کرتا، اچھی خوراک دیتا اور کبھی اس پر سختی نہ کرتا۔
لیکن گدھا بڑا چالاک تھا۔ اس نے دیکھا کہ جب وہ دریا عبور کرتا ہے تو کبھی کبھی اس کا پاؤں پھسل جاتا ہے اور وہ پانی میں گر جاتا ہے۔ جب وہ پانی میں گرتا تو اس کی پشت پر لدا نمک پانی میں گھل جاتا اور بوجھ ہلکا ہو جاتا تھا۔ گدھے نے سوچا کہ یہ تو بہت اچھا طریقہ ہے بوجھ ہلکا کرنے کا۔
چنانچہ اگلے دن جب نمک فروش نے گدھے پر نمک کی بوری لادی اور وہ دریا کے پاس پہنچے تو گدھے نے جان بوجھ کر اپنا پاؤں پھسلایا اور پانی میں گر گیا۔ جتنا نمک پانی میں گھلا، بوجھ اتنا ہی ہلکا ہوتا گیا۔ نمک فروش نے گدھے کو نکالا تو نمک آدھا رہ گیا تھا۔ وہ پریشان تو ہوا، لیکن اس نے کچھ نہ کہا۔
دوسرے دن بھی یہی ہوا، تیسرے دن بھی۔ ہر روز گدھا دریا میں گرتا اور بوجھ ہلکا ہو جاتا۔ نمک فروش کو شبہ ہو گیا کہ گدھا جان بوجھ کر گر رہا ہے۔ اس نے سوچا کہ اب میں اسے سبق سکھاتا ہوں۔
اگلے دن نمک فروش نے گدھے پر نمک کی بوری نہیں لادی، بلکہ اس پر روئی کی بوری لاد دی۔ روئی بہت ہلکی ہوتی ہے، اس لیے گدھے کو بوجھ بہت کم لگا۔ وہ خوش ہوا اور روانہ ہو گیا۔ جب وہ دریا کے پاس پہنچا تو گدھے نے پھر وہی چال کھیلی۔ وہ جان بوجھ کر پانی میں گر گیا۔
لیکن روئی نے پانی جذب کر لیا۔ روئی کے ریشوں نے اندر پانی بھر لیا اور بوری بہت بھاری ہو گئی۔ گدھے نے جب اٹھنے کی کوشش کی تو بوجھ اس کے لیے برداشت سے باہر تھا۔ وہ بار بار کوشش کرتا، لیکن بوری اسے اٹھنے نہ دیتی۔ وہ پانی میں ہی لتھڑا رہ گیا۔ نمک فروش نے اسے بڑی مشکل سے نکالا۔
جب گدھا کنارے آیا تو اس کے جسم سے پانی ٹپک رہا تھا اور وہ تھک ہار کر بیٹھ گیا۔ اس نے سوچا، “میں نے سوچا تھا کہ میں چالاک ہوں، لیکن میں سب سے بڑا بے وقوف تھا۔” اس دن کے بعد اس گدھے نے کبھی بھی جان بوجھ کر دریا میں گرنے کی کوشش نہیں کی۔
اخلاقی سبق: ہر بار قسمت کا ساتھ نہیں دیتا، چالاکی کبھی نہ کبھی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔
