فرعون۔۔۔!

فرعون۔۔۔!

وقت کی گرد میں لپٹا ہوا وہ دور،
جب مصر کی سرزمین پر ایک ایسا بادشاہ حکمران تھا جس کے غرور کی بلندیوں کو دیکھ کر آسمان بھی حیران رہ جاتا تھا۔
وہ خود کو رب کہتا تھا
اور لوگ، خوف کے سائے میں، اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جاتے تھے۔

یہ وہ زمانہ تھا جب زمین پر طاقت ہی سچ تھی، اور کمزوری جرم۔

لیکن قدرت کا ایک عجیب اصول ہے
وہ ہمیشہ سب سے بڑی طاقت کو سب سے کمزور ہاتھوں سے شکست دیتی ہے۔

فرعون کے محلات
سنگِ مرمر کے ستون، سونے سے مزین دیواریں، چمکتے ہوئے فانوس، اور غلاموں کی قطاریں
ظاہر میں سب کچھ شان و شوکت کا مظہر تھا، مگر باطن میں خوف، ظلم اور بے یقینی کا راج تھا۔

ایک پیشگوئی نے اس کی نیندیں چھین لی تھیں:

“بنی اسرائیل میں ایک بچہ پیدا ہوگا، جو تیری سلطنت کو ختم کر دے گا۔”

یہ جملہ اس کے لیے ایک سایہ بن گیا
ایسا سایہ جو دن کے اجالے میں بھی اس کے ساتھ رہتا تھا۔

اس نے حکم دیا:
ہر پیدا ہونے والے لڑکے کو قتل کر دیا جائے۔

ماؤں کی گودیں ویران ہو گئیں
گھر چیخوں سے بھر گئے
اور زمین نے بے شمار معصوم خون اپنے اندر جذب کر لیا۔

اسی ظلم کے اندھیرے میں ایک ماں تھی،
جس کا دل خوف سے کانپ رہا تھا، مگر ایمان سے مضبوط تھا۔

یہ حضرت موسیٰؑ کی والدہ تھیں۔

اللہ نے ان کے دل میں ایک خیال ڈالا
ایسا خیال جو عقل کے خلاف تھا، مگر ایمان کے عین مطابق:

“اپنے بچے کو دریا کے حوالے کر دو۔”

سوچیں… ایک ماں
اپنے جگر کے ٹکڑے کو
پانی کی موجوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دے!

یہ صرف عمل نہیں تھا
یہ یقین کی انتہا تھی۔

انہوں نے ایک صندوق بنایا
بچے کو اس میں رکھا
اور دریا میں بہا دیا۔

پانی کی لہریں اسے اپنے ساتھ لے گئیں
جیسے تقدیر اسے اپنے مقررہ مقام تک پہنچا رہی ہو۔

وہ صندوق بہتا ہوا فرعون کے محل کے قریب جا پہنچا۔

محل کی عورتوں نے جب اسے نکالا
اور کھولا
تو اندر ایک معصوم بچہ تھا۔

یہ منظر دیکھ کر فرعون کی بیوی، آسیہؑ، کا دل پگھل گیا۔

انہوں نے کہا:
“یہ میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اسے قتل نہ کرو۔”

یہ وہ لمحہ تھا جہاں تقدیر نے ایک عجیب موڑ لیا:

جس بچے کو مارنے کے لیے حکم جاری ہوا تھا
وہی بچہ اب قاتل کے گھر میں پروان چڑھ رہا تھا

حضرت موسیٰؑ اب فرعون کے محل میں تھے۔
نہ انہیں اپنے اصل کا علم تھا، نہ اپنے انجام کا۔

وہ کھیلتے
مسکراتے
اور شاہی ماحول میں پروان چڑھتے رہے۔

لیکن تقدیر خاموشی سے اپنا راستہ بنا رہی تھی۔

ایک دن کا واقعہ ہے

محل کے اندر سکون تھا
فرعون اپنے تخت پر بیٹھا تھا
اور اس کی گود میں وہی بچہ تھا، موسیٰؑ۔

بچہ معصوم ہوتا ہے
اسے نہ بادشاہی کا شعور ہوتا ہے، نہ خطرے کا احساس۔

حضرت موسیٰؑ نے کھیل ہی کھیل میں
فرعون کی داڑھی پکڑ لی

یہ ایک معمولی حرکت تھی
لیکن فرعون کے لیے یہ معمولی نہ تھی۔

اس کے دل میں وہی پرانی پیشگوئی جاگ اٹھی۔

اس کی آنکھوں میں شک کی چمک آئی
اور چہرے پر غصہ۔

“کہیں یہ وہی بچہ تو نہیں؟”

فرعون نے حکم دیا:
“اسے قتل کر دو!”

محل کا ماحول یکدم بدل گیا
خوف چھا گیا

لیکن پھر آسیہؑ آگے بڑھیں۔

انہوں نے کہا:
“یہ تو ایک بچہ ہے، اسے کیا شعور؟ اگر شک ہے تو آزما لیں۔”

ایک عجیب امتحان رکھا گیا:

ایک طرف چمکتے ہوئے جواہرات

دوسری طرف دہکتے ہوئے انگارے

سب کی نظریں بچے پر تھیں

خاموشی ایسی تھی جیسے وقت رک گیا ہو۔

بچہ ہاتھ بڑھاتا ہے
پہلے جواہرات کی طرف

مگر پھر
اللہ کی قدرت حرکت میں آتی ہے۔

ہاتھ انگارے کی طرف مڑ جاتا ہے

وہ انگارا اٹھاتا ہے
اور اپنے منہ میں ڈال لیتا ہے۔

بچے کی زبان جل جاتی ہے
وہ تکلیف سے تڑپتا ہے

اس کی جان بچ جاتی ہے
فرعون کا شک ختم ہو جاتا ہے

اور تقدیر ایک بار پھر اپنا راز چھپا لیتی ہے۔

وقت گزرتا ہے

سال گزرتے ہیں

وہی بچہ بڑا ہوتا ہے
نبی بنتا ہے
اور ایک دن اسی فرعون کے سامنے کھڑا ہوتا ہے

لیکن اس بار ایک معصوم بچہ نہیں،
بلکہ اللہ کا رسول۔

اخلاقی سبق (گہری وضاحت کے ساتھ)

یہ واقعہ محض ایک کہانی نہیں
یہ زندگی، ایمان اور تقدیر کا آئینہ ہے۔

1. اللہ کی تدبیر خاموش مگر کامل ہوتی ہے

انسان شور مچاتا ہے
منصوبے بناتا ہے
حساب لگاتا ہے

مگر اللہ خاموشی سے فیصلے کرتا ہے۔

دریا میں بہایا گیا بچہ
دشمن کے محل میں پلتا ہے
اور آخرکار اسی دشمن کو شکست دیتا ہے

یہ اتفاق نہیں
یہ تدبیر ہے۔

2. ہر نقصان، نقصان نہیں ہوتا

ہم اکثر فوری نتیجہ دیکھ کر فیصلہ کر لیتے ہیں۔

زبان جل گئی، ہمیں لگتا ہے نقصان
لیکن حقیقت میں وہی زندگی کا سبب بنی

زندگی میں بھی:

کچھ تعلق ٹوٹتے ہیں

کچھ مواقع چھن جاتے ہیں

کچھ تکلیفیں آتی ہیں

مگر بعد میں معلوم ہوتا ہے
یہ سب حفاظت تھی۔

3. ایمان عقل سے آگے کا سفر ہے

حضرت موسیٰؑ کی والدہ نے جب بچے کو دریا میں ڈالا
تو وہ فیصلہ عقل کے خلاف تھا

مگر ایمان کے مطابق تھا

ایمان وہ ہے
جو نظر نہ آنے والے پر یقین کرے

4. طاقت ہمیشہ حق نہیں ہوتی

فرعون کے پاس:

فوج تھی

دولت تھی

اختیار تھا

مگر وہ ایک بچے سے ہار گیا

کیونکہ:

طاقت اللہ کے ہاتھ میں ہے
انسان کے پاس نہیں

5. اللہ جسے بچانا چاہے، اسے کوئی نہیں مار سکتا

یہ سب سے بڑا سبق ہے

قتل کا حکم
دشمن کا گھر
خطرناک ماحول

سب کچھ ہونے کے باوجود

اللہ نے بچا لیا

6. انسان ظاہری چیزیں دیکھتا ہے، اللہ انجام

ہم لمحہ دیکھتے ہیں
اللہ پوری کہانی

ہم درد دیکھتے ہیں
اللہ اس کے پیچھے چھپی حکمت

آخری بات

یہ واقعہ ہمیں جھنجھوڑتا ہے
یہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے

کہ:

کیا ہم اپنی زندگی کے واقعات کو صحیح زاویے سے دیکھ رہے ہیں؟
کیا ہم ہر مشکل کو صرف مشکل سمجھ رہے ہیں؟
یا اس کے پیچھے چھپی حکمت کو بھی تلاش کر رہے ہیں؟

یاد رکھیں

کبھی کبھی زندگی کا سب سے بڑا معجزہ
وہی ہوتا ہے
جسے ہم سب سے بڑا نقصان سمجھ بیٹھتے ہیں۔

Leave a Reply

NZ's Corner