بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

جاپان میں کسی جگہ ایک میاں بیوی بڑی خوش حال زندگی بسر کر رہے تھے، لیکن بدقسمتی سے ان کی کوئی اولاد نہ تھی۔ ایک روز وہ عبادت گاہ میں گئے اور گڑگڑا کر دعا کی۔ “اے اللہ، اپنی رحمتوں سے ہمیں ایک بچہ عطا فرما، چاہے انگلی کے ایک پور کے برابر ہو۔”

کچھ عرصے بعد ان کے ہاں ایک خوب صورت لڑکا پیدا ہوا۔ لیکن اس کا قد بالغ انسان کی انگلی سے بھی کم تھا، اس کے باوجود اس کے والدین نے اسے ناز و نعم سے پالا جیسے وہ ان کی آنکھ کا تارا ہو۔ لڑکا انتہائی ذہین اور اچھے اخلاق کا تھا، مگر اس کے قد میں اضافہ نہ ہوا۔

اڑوس پڑوس کے لوگ بھی اس سے محبت پیار سے پیش آتے اور اسے سن بوشی کے نام سے پکارتے۔ “سن” ایک پیمانہ ہے تقریباً تین سینٹی میٹر کے برابر اور “بوشی” کے معنی پروہت کے ہیں۔ پُرانے زمانے میں بچوں کے سر پر ہیتوں کے مانند منڈے ہوئے ہوتے تھے جنہیں “پروہت” کہا جاتا تھا۔ آہستہ آہستہ یہ بچوں کا معروف نام بن گیا۔

ایک روز سن بوشی نے شاہی دارالحکومت کیوٹو جانے کا ارادہ کیا تاکہ وہ زندگی میں کوئی اونچا مقام حاصل کر سکے۔ اس نے والدین سے کہا: “پیارے امی ابا، میں دارالحکومت جانا چاہتا ہوں۔ وہاں پڑھوں گا لکھوں گا اور بڑا آدمی بن جاؤں گا۔ مجھے جانے کی اجازت دیجیے۔”

پہلے تو والدین کسی قدر ہچکچائے لیکن انہیں اپنے بیٹے کی ذہانت پر اعتماد تھا، اس لیے خوشی خوشی اجازت دے دی۔ انہوں نے ایک سوئی کی تلوار بنائی اور تنکے کی نیام میں ڈال کر سن بوشی کے پہلو میں لٹکا دی۔ اس کے علاوہ ایک پیالہ اور ہاتھی دانت سے تیار کردہ تیلی بھی دی۔

سن بوشی نے ماں باپ کو خیر باد کہا اور سفر پر نکل کھڑا ہوا۔ دارالحکومت کو ایک دریا جاتا تھا۔ اس نے پیالے سے کشتی کا کام لیا اور ہاتھی دانت کی تیلی سے چپو کا، اور کئی دن تک دریا کے بہاؤ کے ساتھ کشتی کھیلتا رہا، آخر کار دارالحکومت پہنچ گیا۔

شہر میں داخل ہوا تو اسے ایک وسیع و عریض شان دار محل دکھائی دیا۔ یہ ایک بااثر وزیر کی رہائش تھی۔ دروازے پر سن بوشی چلانے لگا: “ہیلو، ہیلو…” اندر سے ایک نوکر بھاگتا ہوا آیا، لیکن اسے کچھ دکھائی نہ دیا۔ آواز دوبارہ سنائی دی۔ اس نے غور سے دیکھا، تو دروازے کی اوٹ میں بونے سن بوشی پر نظر ڈالی۔

“میرا نام سن بوشی ہے، میں یہاں پڑھنے کے لیے آیا ہوں، مہربانی کرکے مجھے وزیر کے خادموں میں رکھ لو۔”

نوکر نے اسے پکڑ کر ہتھیلی پر بٹھالیا اور وزیر کے سامنے لے گیا۔ سن بوشی نے احترام سے سر جھکایا اور کورنش بجا لائی۔ وزیر اور اس کے مصاحب بہت متاثر ہوئے، اسے محل میں ملازمت اور رہائش کی اجازت مل گئی۔ اگرچہ کوتاہ قد تھا، لیکن انتہائی ذہین ہونے کی بنا پر ہر کام بڑے سلیقے سے انجام دیتا۔

اس کی سب سے اعلیٰ صفت یہ تھی کہ وہ ہر ایک کے ساتھ خوش خلقی سے پیش آتا۔ اسی بنا پر لوگ اسے بہت چاہتے تھے۔ خصوصاً وزیرزادی کا دل اس نے موہ لیا اور وہ ہر وقت اسے ساتھ رکھتی تھی۔

ایک روز وزیرزادی کینن (رحم کی دیوی) کی عبادت گاہ میں گئی۔ سن بوشی بھی ہم راہ تھا۔ واپسی پر دو چڑیلوں نے اچانک ان پر حملہ کر دیا اور وزیرزادی کو اچک لے جانے کی کوشش کی۔

سن بوشی جو اس کی آستین میں چھپا ہوا تھا، جست لگا کر باہر نکلا اور تلوار سونت کر کہنے لگا: “جانتی ہو میں کون ہوں؟ میں وزیرزادی کا محافظ ہوں۔”

ایک چڑیل نے بڑے مزے سے اسے نگل لیا۔ سن بوشی اس قدر چھوٹا تھا کہ آسانی سے چڑیل کے معدے میں چل پھر سکتا تھا۔ اس نے اپنی تلوار سے معدے میں کچھوکے لگانے شروع کر دیے۔ تنگ آ کر چڑیل نے ابکائی کے ذریعے اسے باہر اگل دیا۔

اس پر دوسری چڑیل سن بوشی کی طرف بڑھی، لیکن بونے نے اچھل کر تلوار کی نوک اس کی آنکھ میں گھونپ دی۔ ابھی وہ سنبھلنے بھی نہ پائی تھی کہ دوسری آنکھ بھی پھوڑ دی۔ درد سے کراہتی ہوئی دونوں چڑیلیں سر پٹ بھاگ کھڑی ہوئیں۔

اخلاقی سبق: جثہ چھوٹا ہو یا بڑا، عقل اور ہمت سے بڑی سے بڑی مشکل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner