تقدیر

تقدیر

قدیم یونان کے ایک شہر میں ایک بادشاہ رہتا تھا جس کے گھر ایک خوبصورت شہزادہ پیدا ہوا۔ پوری سلطنت میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، لیکن یہ خوشی زیادہ دیر نہ پائی کیونکہ اسی روز ایک مشہور نجومی (پیشین گو) نے بادشاہ کے سامنے یہ پیشین گوئی کر دی:

“بادشاہ سلامت! یہ شہزادہ بارہ سال کا ہونے سے پہلے ہی کسی شیر کی نظر کا شکار ہو جائے گا اور اس کی موت واقع ہو جائے گی۔”

بادشاہ یہ سن کر کانپ اٹھا۔ اس نے فوراً اپنی ملکہ کو بلایا اور دونوں نے فیصلہ کیا کہ وہ شہزادے کو ہر قسم کے شیر سے دور رکھیں گے۔ انہوں نے شہزادے کو ایک اونچے، مضبوط محل کے ایک کمرے میں بند کر دیا۔ اس کمرے کی دیواروں پر کوئی تصویر نہیں تھی، کوئی کھلونا نہیں تھا، کچھ بھی نہیں تھا جس سے شہزادے کو شیر کی یاد آئے۔

برسوں یہ سلسلہ جاری رہا۔ شہزادہ بڑا ہوتا رہا، لیکن وہ کبھی محل سے باہر نہیں نکلا۔ اس نے کبھی اصلی شیر نہیں دیکھا، نہ ہی کبھی جنگل کا چہرہ دیکھا۔ وہ اندھیرے کمرے میں اکیلا پڑا رہتا۔

جب شہزادہ گیارہ سال اور چھ ماہ کا ہوا تو ایک دن وہ محل کے ایک بڑے ہال میں ٹہل رہا تھا۔ اس کی نظر ایک بہت بڑی دیوار پر پڑی جو خوبصورت نقش و نگار سے مزین تھی۔ اس نے قریب جا کر دیکھا تو دیوار پر شیروں کے بہت خوبصورت نقش بنے ہوئے تھے۔ شہزادے نے اپنی پوری زندگی میں یہ پہلی بار شیر دیکھے تھے۔ وہ ان نقشوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوا اور تصور کرنے لگا کہ وہ ان شیروں کے ساتھ کھیل رہا ہے۔

وہ انگلی سے ان شیروں کے نقشوں کو چھوتے ہوئے ایک شیر کی طرف بڑھا۔ اس شیر کی آنکھ کے مقام پر ایک کھونٹی ٹھونکی ہوئی تھی۔ شہزادے کی انگلی اس کھونٹی سے چھل گئی اور اس کی انگلی سے خون نکل آیا۔

اس چوٹ نے زہر آلود ہو کر کچھ ہی دنوں میں شہزادے کی جان لے لی۔

بادشاہ اور ملکہ نے اپنے بیٹے کو دشمنوں اور جانوروں سے بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی، لیکن وہ اس کی تقدیر کو نہ بدل سکے۔

اخلاقی سبق:

یہ یونانی کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ انسان اپنی تقدیر سے بھاگ نہیں سکتا۔ جو کچھ ہونا ہے، وہ ہو کر رہتا ہے، خواہ انسان اس سے بچنے کے لیے کتنی ہی کوششیں کیوں نہ کر لے۔

حوالہ:
یہ کہانی یونانی لوک ادب کی مشہور کہانی “Prince and the Lion” ہے،

Leave a Reply

NZ's Corner