بلاعنوان۔۔۔!

بلاعنوان۔۔۔!

ناروے کے ایک برفیلے جنگل میں ایک لومڑی رہتی تھی۔ سردیوں کی ایک رات جب برف گِر رہی تھی اور ہوا نے اپنی سیٹیاں بجا کر ان برفیلے پہاڑوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، تو اس لومڑی نے محسوس کیا کہ اس کی جان نکل رہی ہے۔ اس نے سوچا کہ وہ جم کر مر جائے گی۔ اتنی سردی میں بچنے کے لیے اسے کسی گرم چیز کی ضرورت تھی۔

اس نے اپنے پیروں کی طرف دیکھا، برف کے گولے ان سے لپٹے ہوئے تھے۔ اس نے اپنے آپ سے کہا: “صبح ہوتے ہی میں درختوں کی چھال سے ایک کمبل بنا لوں گی۔ اس کمبل سے میں اپنے آپ کو ڈھانپ لوں گی اور بچ جاؤں گی۔”

اس نے خود کو یقین دلایا اور سو گئی۔ جب صبح ہوئی تو سورج نکلا اور اس کی کرنیں برف پر چمکنے لگیں۔ لومڑی نے دیکھا کہ اب سردی اتنی نہیں ہے۔ اس نے سوچا کہ کمبل بنانے کی اب کوئی ضرورت نہیں ہے، وہ آرام سے بیٹھی رہی اور کچھ نہیں کیا۔

شام ہوئی تو پھر سردی بڑھ گئی۔ لومڑی پھر ٹھٹھرنے لگی۔ اس نے دوبارہ سوچا: “کل صبح ضرور کمبل بنا لوں گی۔” پھر وہ سو گئی۔ صبح ہوئی تو پھر وہی ہوا، سورج نکلا اور اس نے اپنا وعدہ بھلا دیا۔

یہ سلسلہ کئی دنوں تک چلتا رہا۔ ہر رات وہ سردی سے کانپتی اور ہر صبح وہ گرمی میں اپنا وعدہ بھلا دیتی۔ آخر کار ایک رات سردی اتنی بڑھ گئی کہ وہ اسے برداشت نہ کر سکی۔ اگلی صبح لوگوں نے لومڑی کو برف میں جمی ہوئی پایا۔

اخلاقی سبق:

جب آپ کوئی کام کرنے کا ارادہ کریں تو اسے فوری کریں، ورنہ ہو سکتا ہے کہ موقع ہاتھ سے نکل جائے۔ آج کا کام کل پر نہ چھوڑو۔

حوالہ:
یہ کہانی نارویجن لوک ادب کی مشہور کہانی ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner