حضرت موسیٰ علیہ السلام جب سرزمینِ شام کی طرف پیش قدمی کر رہے تھے تو بلقاء کے علاقے میں ایک شخص رہتا تھا جس کا نام بلعام بن باعوراء تھا۔ وہ اپنی قوم میں اس وجہ سے مشہور تھا کہ اس کی دعائیں قبول ہوتی تھیں اور اسے خاص روحانی علم عطا کیا گیا تھا، یہاں تک کہ بعض روایات کے مطابق وہ اسمِ اعظم سے واقف تھا۔
اس کی قوم نے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کی آمد کی خبر سنی تو وہ خوف زدہ ہو گئے۔ وہ بلعام کے پاس آئے اور کہنے لگے۔
“موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کے ساتھ آ رہے ہیں، وہ ہمیں ہمارے گھروں سے نکال دیں گے، ہماری زمینوں پر قبضہ کر لیں گے۔ تم ہمارے لیے دعا کرو کہ وہ یہاں نہ آ سکیں۔
بلعام نے حقیقت جانتے ہوئے جواب دیا: “افسوس ہے تم پر! وہ اللہ کے نبی ہیں، ان کے ساتھ مددگار فرشتے ہیں۔ میں ان کے خلاف کیسے دعا کر سکتا ہوں؟
مگر قوم کا اصرار بڑھتا گیا، بار بار کی درخواستوں نے اسے ایک آزمائش میں ڈال دیا، اور آخرکار وہ دباؤ میں آ گیا۔
بلعام اپنے گدھے پر سوار ہو کر ایک راستے کی طرف نکلا، مقصد یہ تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لشکر کے خلاف بددعا کرے۔
راستے میں اچانک گدھا رک گیا، آگے بڑھنے سے انکار کر دیا۔
بلعام غصے میں آ گیا اور اسے مارنے لگا، یہاں تک کہ وہ زخمی ہو گیا۔
اسی لمحے اللہ کے حکم سے گدھے کو بولنے کی طاقت ملی، اور اس نے کہا: “اے بلعام! تم کہاں جا رہے ہو؟ تمہارے سامنے فرشتے راستہ روک رہے ہیں، کیا تم اللہ کے نبی کے خلاف دعا کرنے جا رہے ہو؟
مگر وہ اپنی ضد میں آگے بڑھتا رہا۔
جب وہ لشکر کے سامنے پہنچا اور دعا کرنے لگا تو اس کی زبان اس کے اختیار سے باہر ہو گئی۔
وہ جس کے خلاف بددعا کرنا چاہتا تھا، اسی کے حق میں دعا کرنے لگا
اور اپنی قوم کے لیے بددعا اس کی زبان سے نکلنے لگی۔
قوم حیران رہ گئی۔ انہوں نے کہا: “یہ تم کیا کر رہے ہو؟”
بلعام نے جواب دیا: “یہ میرے اختیار میں نہیں، میرا علم مجھ سے چھن چکا ہے۔
اسی لمحے اس نے اپنی روحانی حیثیت کھو دی، اور وہ چیخ اٹھا: “میری دنیا بھی گئی اور آخرت بھی”
اس کے بعد وہ فریب اور دنیا کے سہارے پر آ گیا۔ اس نے اپنی قوم کو ایک غلط اور تباہ کن مشورہ دیا کہ بنی اسرائیل کو اخلاقی گناہ کے ذریعے کمزور کیا جائے۔
نتیجتاً فتنہ پھیلا اور بڑی آزمائش پیدا ہوئی، اور قوم پر سخت عذاب آیا جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے۔
یہ واقعہ مختلف تاریخی و تفسیری روایات میں بیان ہوا ہے، جن میں المنتظم فی تاریخ الملوک والأمم بھی شامل ہے۔
اخلاقی سبق
یہ داستان ہمیں یہ حقیقت سکھاتی ہے کہ
علم اکیلا انسان کو بلند نہیں کرتا، بلکہ علم کے ساتھ عمل اور تقویٰ ضروری ہے۔
اگر علم ضمیر کے خلاف استعمال ہو جائے تو وہ ہدایت نہیں رہتا بلکہ زوال کا سبب بن جاتا ہے۔
