ایک دور دراز گاؤں تھا جہاں ہر طرف سبز کھیت، پھلدار درخت اور خوشگوار ہوائیں چلتی تھیں۔ سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا، لیکن اس کی تپش میں بھی ایک عجیب سی نرمی تھی۔ پرندے چہچہا رہے تھے، کھیتوں میں کسان محنت کر رہے تھے اور فضا میں زندگی کی ایک خاص رونق تھی۔
اسی گاؤں کے ایک کنارے پر ایک بڑا سا درخت تھا، جس کے نیچے ایک ٹڈا رہتا تھا۔ یہ ٹڈا اپنی زندگی سے بے حد خوش تھا۔ اس کے پاس نہ کوئی فکر تھی، نہ کوئی ذمہ داری۔ وہ صبح اٹھتا، درخت پر چڑھتا، دھوپ میں بیٹھ کر گانا گاتا، اور پھر سارا دن چھلانگیں لگاتا اور مزے کرتا۔
ٹڈے کو سب سے زیادہ پسند یہ تھا کہ وہ دوسروں کو کام کرتے دیکھ کر بھی ہنسے اور خود کو “آزاد روح” سمجھے۔
وہ اکثر کہتا:
“زندگی کا اصل مقصد مزہ کرنا ہے، کام کرنا نہیں!”
اسی درخت کے نیچے زمین پر چیونٹیوں کی ایک بڑی بستی تھی۔ یہ چیونٹیاں ٹڈے کے بالکل برعکس تھیں۔ وہ خاموش، منظم اور بے حد محنتی تھیں۔
ہر صبح سورج نکلتے ہی چیونٹیاں کام پر لگ جاتیں۔ کوئی دانہ اٹھا رہی ہوتی، کوئی راستہ صاف کر رہی ہوتی، اور کوئی خوراک کو محفوظ جگہ پر لے جا رہی ہوتی۔
چیونٹیوں کا سردار اکثر انہیں سمجھاتا:
“یہ وقت صرف آج کے لیے نہیں، بلکہ آنے والے کل کے لیے بھی ہے۔ ہمیں سردیوں کی تیاری ابھی سے کرنی ہے، کیونکہ جب برف پڑے گی تو کھانے کو کچھ نہیں ملے گا۔”
چیونٹیاں بغیر شکایت کے دن رات محنت کرتی رہیں۔ ان کی زندگی میں نہ تفریح تھی، نہ آرام، لیکن ان کے چہروں پر ایک سنجیدہ اطمینان تھا۔
ٹڈا اکثر چیونٹیوں کو دیکھ کر ہنستا تھا۔ اسے ان کی محنت بے کار لگتی تھی۔
ایک دن وہ نیچے اترا اور چیونٹیوں سے بولا:
“تم لوگ اتنی محنت کیوں کرتے ہو؟ ابھی تو زندگی پڑی ہے۔ آؤ میرے ساتھ گاؤ، کھیلو اور مزے کرو!”
چیونٹیوں میں سے ایک بڑی عمر کی چیونٹی نے جواب دیا:
“ہمیں آنے والے وقت کی فکر ہے۔ سردیوں میں خوراک نہیں ملے گی، اس لیے ہم ابھی ذخیرہ کر رہے ہیں۔”
ٹڈا زور سے ہنسا اور بولا:
“سردی؟ ابھی تو دھوپ ہے! تم لوگ بلاوجہ پریشان ہو رہے ہو۔ زندگی صرف آج کا نام ہے، کل کا نہیں۔”
اور پھر وہ گانا گاتا ہوا درخت پر چڑھ گیا۔
دن گزرتے گئے۔ گرمیوں کا موسم اپنی انتہا کو پہنچا۔ کھیتوں میں فصلیں پک گئیں، لوگ خوش تھے، اور چیونٹیاں اپنے ذخیرے کو مکمل کر رہی تھیں۔
ٹڈا اپنی مستی میں لگا رہا۔ وہ کبھی کسی پھول پر بیٹھ کر گاتا، کبھی ہوا میں چھلانگیں لگاتا، اور کبھی دوسرے جانوروں کا مذاق اڑاتا۔
چیونٹیاں اسے بار بار سمجھاتیں، مگر وہ ہر بار ایک ہی جواب دیتا:
“پریشانی تمہاری سوچ ہے، میری زندگی خوشی ہے!”
پھر اچانک موسم بدلنا شروع ہوا۔ آسمان پر بادل چھا گئے، ہوا ٹھنڈی ہونے لگی، اور پھر ایک دن شدید سردی نے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
برف باری شروع ہو گئی۔ زمین سفید چادر میں لپٹ گئی۔ کھیت، درخت، راستے سب برف کے نیچے چھپ گئے۔
اب نہ کہیں خوراک تھی، نہ کوئی کیڑا، نہ کوئی سبزہ۔
ٹڈا جو ہمیشہ خوشی میں رہتا تھا، پہلی بار پریشان ہوا۔
ٹڈا بھوکا ہونے لگا۔ اس نے درختوں پر خوراک تلاش کی، مگر سب ختم ہو چکا تھا۔ وہ ادھر ادھر چھلانگیں لگاتا رہا، مگر کہیں کچھ نہ ملا۔
اس کی آواز بھی کمزور ہونے لگی۔ وہ سوچنے لگا:
“کاش میں نے بھی کچھ جمع کیا ہوتا…”
اس کا پیٹ بھوک سے جل رہا تھا، اور جسم ٹھنڈ سے کانپ رہا تھا۔
آخرکار وہ مجبور ہو کر چیونٹیوں کی بستی کی طرف گیا۔
ٹڈا چیونٹیوں کے دروازے پر پہنچا۔ اس کا حال بہت برا تھا۔ وہ کمزور آواز میں بولا:
“براہِ کرم میری مدد کرو… میرے پاس کھانے کو کچھ نہیں بچا۔”
چیونٹیاں خاموش ہو گئیں۔ وہ اسے غور سے دیکھ رہی تھیں۔
پھر وہی پرانی چیونٹی آگے آئی جس نے اسے پہلے سمجھایا تھا۔
اس نے کہا:
“جب ہم کام کر رہے تھے، تب تم ہم پر ہنستے تھے۔ تم نے ہماری بات نہیں سنی۔”
ٹڈا شرمندہ ہو گیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
وہ بولا:
“میں غلط تھا… مجھے معاف کر دو۔”
چیونٹیوں نے آپس میں مشورہ کیا۔ کچھ چیونٹیاں نرم دل تھیں، وہ اسے مدد دینا چاہتی تھیں۔ مگر کچھ کا خیال تھا کہ بغیر سبق کے مدد دینا دوبارہ لاپرواہی پیدا کرے گا۔
آخرکار فیصلہ ہوا کہ وہ اسے تھوڑی سی خوراک دیں گی، مگر ساتھ اسے یہ بھی سمجھائیں گی کہ زندگی صرف مزے کا نام نہیں۔
چیونٹیوں نے کہا:
“ہم تمہیں آج بچا رہے ہیں، لیکن یاد رکھو: مستقبل کی تیاری کے بغیر زندگی ہمیشہ مشکل ہو جاتی ہے۔”
اس واقعے نے ٹڈے کی زندگی بدل دی۔ اس نے پہلی بار سوچا کہ محنت اور منصوبہ بندی کتنی ضروری ہے۔
اس نے فیصلہ کیا کہ اگلے موسم میں وہ بھی چیونٹیوں کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔
وہ اب پہلے جیسا لاپرواہ نہیں رہا تھا۔ اس نے سمجھ لیا تھا کہ وقت صرف گزرتا نہیں، انسان کی تقدیر بھی بناتا ہے۔
حاصلِ سبق (Moral of the Story):
1. آج کی محنت کل کی ضرورت کو آسان بناتی ہے۔
2. صرف مزہ اور لاپرواہی زندگی کو مشکل بنا دیتی ہے۔
3. عقل مند وہ ہے جو مستقبل کے لیے تیاری کرتا ہے۔
4. وقت ضائع کرنا سب سے بڑی غلطی ہے۔
حوالہ:
Aesop’s Fables (قدیم یونانی اخلاقی کہانیوں کا مجموعہ، دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ شدہ)
