بلاعنوان۔۔۔!

بلاعنوان۔۔۔!

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ جرمنی کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک غریب کسان رہتا تھا جس کا نام ہنس تھا۔ ہنس کے پاس صرف ایک بیل تھا اور ایک مرغی۔ بیل سے وہ اپنے کھیت میں ہل چلاتا تھا اور مرغی سے اسے انڈے ملتے تھے جنہیں وہ بازار میں بیچ کر روٹی خریدتا تھا۔ لیکن ایک سال قحط پڑا۔ کھیتوں میں گھاس نہیں اگی، دریا سوکھ گئے اور ہوا اتنی گرم چلنے لگی کہ درختوں کے پتے جھلس گئے۔ ہنس کی مرغی مر گئی اور بیل کمزوری سے چلنے کے قابل نہیں رہا۔

ہنس بہت پریشان تھا۔ اس نے اپنی بیوی سے کہا، “میاں بیوی! اب ہمارے پاس کچھ نہیں بچا۔ کھانے کو ایک روکڑی بھی نہیں ہے۔ مجھے کہیں جا کر کام تلاش کرنا ہوگا۔”

اس کی بیوی نے کہا، “جاؤ میاں، لیکن خالی ہاتھ مت آنا۔ چاہے ایک روٹی ہی لے آنا، لیکن خالی ہاتھ مت آنا۔”

ہنس نے اپنے بیل کو آخری بار پانی پلایا، اسے الوداع کہا اور چل پڑا۔ وہ گاؤں گاؤں بھٹکتا رہا، کسی کے کھیتوں میں کام کیا، کسی کے گھر لکڑیاں کاٹیں، کسی کے لیے پانی بھرا، لیکن جو کچھ کماتا، وہ راستے میں ہی خرچ ہو جاتا۔

ایک دن وہ ایک گھنے جنگل میں پہنچ گیا۔ وہ تھک کر چور ہو چکا تھا۔ اس نے ایک بڑے درخت کے نیچے بیٹھ کر آرام کرنے کا سوچا۔ جیسے ہی وہ بیٹھا، اسے ایک عجیب سی آواز سنائی دی۔ وہ آواز زمین کے اندر سے آ رہی تھی۔ اس نے غور سے سنا تو آواز کچھ یوں تھی، “مٹی کے نیچے دھن ہے، شیشے کے برتن میں سونا ہے۔”

ہنس نے سوچا کہ شاید وہ بہت تھکا ہوا ہے اور اسے وہم ہو رہا ہے، لیکن آواز دوبارہ آئی، اس بار پہلے سے زیادہ صاف۔ “مٹی کے نیچے دھن ہے، شیشے کے برتن میں سونا ہے۔”

ہنس نے اٹھ کر ادھر ادھر دیکھا۔ اس کی نظر ایک عجیب سے پتھر پر پڑی جو دوسرے پتھروں سے مختلف تھا۔ اس نے اس پتھر کو اٹھایا تو نیچے ایک شیشے کا برتن تھا۔ اس نے برتن کو کھولا تو اندر سونے کے سکے تھے۔ برتن کے منہ پر ایک کاغذ بندھا ہوا تھا جس پر لکھا تھا، “یہ دھن اس کا ہے جو بغیر لالچ کے صرف اتنا لے جائے جتنی اس کی ضرورت ہے۔”

ہنس نے بہت سوچا۔ اسے بہت ضرورت تھی، لیکن اس نے صرف چند سکے لیے اور باقی برتن واپس مٹی میں دبا دیا۔ وہ ان سکوں سے اپنے گاؤں واپس آیا، ایک نیا بیل خریدا، ایک نئی مرغی خریدی اور اپنے گھر کی مرمت کروائی۔ اس کے پاس پیسے ختم ہو گئے تھے، لیکن وہ مطمئن تھا۔

جب ہنس کے پڑوسی کو یہ بات پتہ چلی تو وہ بھی اس برتن کو ڈھونڈنے نکلا۔ اس نے جنگل میں جا کر پتھر اٹھایا، برتن نکالا اور اسے دیکھ کر اس کی آنکھیں پھٹ گئیں۔ اس نے ساری اشرفیاں اپنے بیگ میں بھر لیں اور برتن چھوڑ کر چلا گیا۔ لیکن جب وہ اپنے گھر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ اس کے بیگ میں سے اشرفیاں غائب ہو چکی تھیں۔ اس کی جگہ پتے اور مٹی تھی۔ وہ بہت پچھتانے لگا اور اس کے بعد کبھی لالچ نہیں کیا۔

Leave a Reply

NZ's Corner