ایک اللہ والے اپنی شریکِ حیات کے ساتھ کشتی میں سوار دریا کا سفر کر رہے تھے کہ اچانک موسم نے کروٹ بدلی اور ایک خوفناک طوفان نے کشتی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ بلند و بالا لہریں کشتی کو اس شدت سے ہلا رہی تھیں کہ ہر لمحہ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے اب ڈوبی کہ تب ڈوبی۔
موت کو سامنے دیکھ کر بیوی کے چہرے کا رنگ زرد پڑ گیا، ہاتھ کانپنے لگے اور دل خوف سے لرز اٹھا۔ مگر حیرت انگیز طور پر اس کے شوہر کے چہرے پر غیر معمولی سکون اور اطمینان تھا، بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ اس کا اطمینان اور بڑھتا جا رہا تھا۔
آخر بیوی بے بسی اور گھبراہٹ میں بول اٹھی:
“اے نادان! کچھ تو ہوش کرو۔ یہ وقت اس طرح خاموش اور مطمئن بیٹھنے کا نہیں۔ اگر یہی حال رہا تو ہم چند لمحوں میں موت کا شکار ہو جائیں گے۔ خدا کا خوف کرو!”
شوہر نے خاموشی سے اپنی نیام سے تیز دھار تلوار نکالی اور بیوی کی شہ رگ پر رکھ کر نہایت سنجیدگی سے کہا:
“اگر واقعی ایسی بات ہے تو پھر مرنے کے لیے تیار ہو جاؤ!”
یہ منظر دیکھ کر بیوی کے چہرے پر خوف کے بجائے ایک پُرسکون مسکراہٹ نمودار ہو گئی۔
شوہر نے حیرت سے پوچھا:
“تمہیں ذرا بھی ڈر نہیں لگ رہا؟ موت تمہاری گردن پر کھڑی ہے!”
بیوی نے محبت اور یقین سے لبریز لہجے میں جواب دیا:
“میں کیوں ڈروں؟ مجھے پورا یقین ہے کہ یہ تلوار جس ہاتھ میں ہے، وہ مجھ سے بے پناہ محبت کرتا ہے۔ آپ مجھے قتل تو کیا، ایک خراش تک نہیں آنے دیں گے۔”
یہ جواب سن کر شوہر کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ اس نے تلوار ہٹا لی اور بھرائی ہوئی آواز میں کہا:
“اے نیک عورت! بس یہی میرا حال ہے۔ مجھے بھی اپنے رب پر کامل یقین ہے کہ میری زندگی کی ڈور جس کے ہاتھ میں ہے، وہ مجھ سے ستر ماؤں سے بڑھ کر محبت کرتا ہے۔ طوفان کتنا ہی شدید کیوں نہ ہو، میرا اللہ جو بھی فیصلہ کرے گا، وہ میرے حق میں بہترین ہوگا۔”
✨ سبق:
جب انسان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت، محبت اور حکمت پر کامل یقین ہو جائے تو زندگی کے بڑے سے بڑے طوفان بھی اس کے دل کا سکون نہیں چھین سکتے۔
اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں۔
