ایک زمانے کی بات ہے، ایک دریا کے کنارے ایک غریب مگر
خوش مزاج کشتی بان رہتا تھا۔ لوگ اسے سادہ سمجھتے تھے، مگر وہ زندگی کے تجربے میں بہت آگے تھا۔
ایک دن ایک مشہور عالم اُس کی کشتی میں سوار ہوا تاکہ دریا پار جا سکے۔ عالم نے ریشمی لباس پہن رکھا تھا، ہاتھ میں کتابیں تھیں اور چہرے پر غرور صاف جھلک رہا تھا۔
دریا کا سفر لمبا تھا، تو عالم نے وقت گزارنے کے لیے کشتی بان سے بات چیت شروع کی۔
وہ ناک چڑھا کر بولا: “اے کشتی بان! کیا تم نے کبھی علمی کتاب اور گرامر پڑھی ہے؟”
کشتی بان نے عاجزی سے جواب دیا: “جناب، میں غریب آدمی ہوں۔ مجھے پڑھنے کا موقع نہیں ملا۔”
یہ سن کر عالم طنزیہ ہنسا اور بولا: “افسوس! تم نے تو اپنی آدھی زندگی ضائع کر دی!”
کشتی بان خاموش رہا۔ اُس نے صرف ایک گہری سانس لی اور چپ چاپ چپو چلاتا رہا۔
کچھ دیر بعد عالم نے پھر سوال کیا: “اچھا یہ بتاؤ، کیا تم نے فلسفہ یا منطق پڑھی ہے؟”
کشتی بان نے پھر ادب سے کہا: “نہیں حضور، میں نے تو صرف محنت کرنا سیکھی ہے۔”
عالم نے غرور سے قہقہہ لگایا: “تب تو تمہاری تین چوتھائی زندگی برباد ہو چکی!”
ابھی بات ختم ہی ہوئی تھی کہ اچانک آسمان پر کالے بادل چھا گئے۔ تیز ہوا چلنے لگی۔ دریا کی لہریں خوفناک انداز میں اٹھنے لگیں۔ کشتی زور زور سے ہچکولے کھانے لگی۔
عالم کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا۔ اُس کے ہاتھ کانپنے لگے۔
کشتی بان نے سکون سے پوچھا: “حضور… کیا آپ کو تیرنا آتا ہے؟”
عالم گھبرا کر بولا: “نہیں! مجھے تیرنا نہیں آتا!”
یہ سن کر کشتی بان نے گہری نظر سے اُس کی طرف دیکھا اور بولا:
“پھر حضور… آپ کی تو پوری زندگی ضائع ہونے والی ہے!”
یہ سنتے ہی عالم کا غرور پانی میں بہہ گیا۔ اُسے پہلی بار احساس ہوا کہ صرف کتابی علم انسان کو بڑا نہیں بناتا، بلکہ زندگی کی اصل سمجھ، عاجزی اور عملی ہنر بھی اتنے ہی ضروری ہوتے ہیں۔
کبھی کسی کو کم تر نہ سمجھو۔ زندگی میں ہر علم اور ہر ہنر کی اپنی اہمیت ہے۔
