ایک زمانے کی بات ہے، ایک ملک میں ایک بڑا ظالم اور مغرور بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس کا نام شاہ بہرام تھا اور وہ اپنی طاقت پر اتنا گھمنڈ کرتا تھا کہ کسی کی بات سننے کو تیار نہ ہوتا۔ اگر کسی نے اس کے مزاج کے خلاف کوئی بات کہہ دی تو اس کی خیر نہ ہوتی۔
شاہ بہرام کے دربار میں ایک حجام تھا جس کا نام جلال تھا۔ جلال اپنے کام میں بہت ماہر تھا، اس کے ہاتھ میں صفائی اور تیزی تھی۔ بادشاہ کو بھی اس کی مہارت پر بھروسہ تھا، اس لیے جلال ہی ہر روز بادشاہ کی حجامت کرتا تھا۔ جلال چونکہ ہر روز بادشاہ کے بہت قریب ہوتا تھا، اس لیے اس میں ایک خاص بات پیدا ہوگئی تھی: وہ بادشاہ کے مزاج کو پہچاننے لگا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ کب بادشاہ خوش ہے اور کب غصے میں۔
ایک دن صبح کے وقت، جلال بادشاہ کی حجامت کر رہا تھا۔ بادشاہ معمول کے مطابق خاموش بیٹھا تھا۔ حجامت کے دوران، جلال نے اچانک دیکھا کہ بادشاہ کے سر کے بیچوں بیچ، بال کا ایک چھوٹا سا حصہ سفید ہو گیا ہے۔ ابھی وہ محض چند بال تھے جو چھپائے جا سکتے تھے، لیکن جلال جانتا تھا کہ بادشاہ اپنی عمر کا یہ نشان دیکھ کر غصے سے لال پیلا ہو جائے گا اور شاید اسے اس کی گستاخی پر سزا بھی دے دے گا۔
جلال نے فوراً سوچا کہ اس حقیقت کو کیسے چھپایا جائے یا بادشاہ کو کیسے بتایا جائے۔ اس نے اپنی عقل استعمال کی اور بغیر کسی تاخیر کے ایک دانشمندانہ فیصلہ کیا۔
“جہاں پناہ،” جلال نے بہت نرمی سے کہا، “آج آپ کے حسن اور آپ کی شان میں ایک اور اضافہ ہو گیا ہے۔”
بادشاہ نے حیرت سے پوچھا، “کیا مطلب؟ کیسا اضافہ؟”
جلال نے نہایت ادب سے جواب دیا، “میرے آقا، اللہ نے آپ کو جو شاہی رعب عطا کیا ہے، اس میں ایک اور نشانی شامل ہو گئی ہے۔ آپ کے سر کے وسط میں، یہ چند سفید بال دراصل آپ کے عقل و دانائی کا تاج ہیں، یہ بتاتے ہیں کہ آپ ایک پُختہ اور تجربہ کار حکمران ہیں۔ یہ محض بال نہیں، یہ بادشاہی پختگی کی روشن کرنیں ہیں۔”
بادشاہ جو کہ اپنی تعریف سن کر فوراً خوش ہو جاتا تھا، یہ سن کر پھولے نہیں سما گیا۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ کوئی اسے بڑھاپے کے آثار کی بجائے “عقل کا تاج” کہے۔
شاہ بہرام مسکرایا اور خوش ہو کر بولا، “واہ جلال! تم نے تو ایک معمولی بات کو ایک عظیم خوبی بنا دیا۔ تم واقعی سچ کہتے ہو۔ یہ میرے برسوں کے تجربے کا انعام ہے۔”
بادشاہ نے حجامت ختم ہونے کے بعد جلال کو انعام و اکرام سے نوازا اور اس کی دانشمندی کی بہت تعریف کی۔ جلال نے اپنی ذہانت اور موقع پر صحیح الفاظ استعمال کر کے نہ صرف اپنی جان بچائی بلکہ بادشاہ کے غصے کو بھی خوشی میں بدل دیا۔
یہ کہانی بتاتی ہے کہ طاقت سے زیادہ عقل اور موقع پر درست بات کرنے کی ذہانت زیادہ اہم ہوتی ہے۔ ایک ذہین شخص الفاظ کے ذریعے سخت ترین حالات کو بھی اپنے حق میں موڑ سکتا ہے ۔
