عقلمند خرگوش

عقلمند خرگوش

ایک بہت بڑے جنگل میں ایک ظالم شیر رہتا تھا۔ وہ روزانہ کئی بے گناہ جانوروں کا شکار کرتا تھا۔ جنگل کے تمام جانور اس سے خوفزدہ تھے، چنانچہ ایک دن سب نے مل کر شیر سے ایک معاہدہ کیا:
“اے جنگل کے راجا! آپ روزانہ اتنے جانور مار دیتے ہیں۔ ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہم روزانہ خود ایک جانور آپ کے پاس بھیج دیا کریں گے، تاکہ آپ کو شکار کی محنت نہ کرنی پڑے اور ہم بھی سکون سے رہ سکیں۔”
شیر مان گیا اور روزانہ ایک جانور اس کی خوراک بننے لگا۔
خرگوش کی باری
ایک دن ایک خرگوش کی باری آئی۔ وہ قد میں چھوٹا تھا لیکن عقل میں بہت تیز۔ اس نے سوچا کہ مرنا تو ہے ہی، کیوں نہ اس ظالم سے چھٹکارا پانے کی کوئی تدبیر کی جائے۔ وہ جان بوجھ کر شیر کے پاس بہت دیر سے پہنچا۔
شیر بھوک سے پاگل ہو رہا تھا، اس نے دھاڑ کر پوچھا:
“اے ننھے جانور! ایک تو تم اتنے چھوٹے ہو اور اوپر سے اتنی دیر سے آئے ہو؟”

خرگوش نے عاجزی سے کہا:
“حضور! میرا قصور نہیں ہے۔ میں تو وقت پر آ رہا تھا، لیکن راستے میں ایک اور بڑے شیر نے مجھے روک لیا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ وہ اس جنگل کا اصلی بادشاہ ہے اور آپ کو للکار رہا تھا۔”
شیر غصے سے آگ بگولہ ہو گیا اور بولا:
“اس جنگل میں میرے سوا کوئی اور بادشاہ نہیں! مجھے لے چلو اس کے پاس۔”

خرگوش شیر کو ایک گہرے کنویں کے پاس لے گیا اور کہا: “حضور! وہ دوسرا شیر اس قلعے (کنویں) کے اندر چھپا بیٹھا ہے۔”
شیر نے جب کنویں کے اندر جھانکا، تو اسے پانی میں اپنا عکس نظر آیا۔ غصے میں اسے لگا کہ وہی دوسرا شیر ہے۔ اس نے زور سے دھاڑا، تو کنویں سے وہی آواز گونجی۔ شیر نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، دوسرے شیر پر حملہ کرنے کے لیے کنویں میں چھلانگ لگا دی اور ڈوب کر مر گیا۔

اس کہانی کا سبق بہت گہرا ہے:
عقل بڑی کہ بھینس: طاقت سے زیادہ عقل کام آتی ہے۔ ایک ننھے سے خرگوش نے اپنی ذہانت سے پورے جنگل کو نجات دلا دی۔
غصہ عقل کو کھا جاتا ہے: شیر نے غصے میں آ کر سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو دی اور اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
دشمن کو کبھی چھوٹا نہ سمجھیں: بظاہر کمزور نظر آنے والا بھی اگر تدبیر سے کام لے تو بڑے سے بڑے دشمن کو ہرا سکتا ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner