ایک پرانی کہانی

ایک پرانی کہانی

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کبوتروں کا ایک بڑا غول آسمان میں اڑ رہا تھا۔ وہ کھانے کی تلاش میں بہت دور نکل آئے تھے۔ اچانک انہیں زمین پر بہت سارا دانہ بکھرا ہوا نظر آیا۔ تمام کبوتر بھوک کی وجہ سے فوراََ نیچے اتر آئے اور دانہ چگنے لگے۔
آزمائش کی گھڑی
کبوتر دانے کھانے میں اتنے مگن تھے کہ انہیں پتہ ہی نہ چلا کہ ایک شکاری نے وہاں پہلے سے جال بچھا رکھا تھا۔ جیسے ہی انہوں نے اڑنے کی کوشش کی، وہ سب جال میں پھنس چکے تھے۔
شکاری کو اپنی طرف آتا دیکھ کر کبوتر بہت خوفزدہ ہو گئے۔ ایک بوڑھے اور تجربہ کار کبوتر نے کہا:
“گھبراؤ نہیں! اگر تم الگ الگ زور لگاؤ گے تو شکاری ہمیں پکڑ لے گا۔ لیکن اگر تم سب مل کر ایک ساتھ زور لگاؤ، تو ہم اس جال سمیت اڑ سکتے ہیں۔”
اتفاق کی طاقت
سارے کبوتروں نے بوڑھے کبوتر کی بات مانی۔ انہوں نے “ایک، دو، تین” کہا اور پوری قوت سے ایک ساتھ پر مارے۔ شکاری حیران رہ گیا جب اس نے دیکھا کہ پورا غول جال سمیت آسمان میں اڑ رہا ہے۔ وہ ان کے پیچھے بھاگا لیکن کبوتر بہت اونچے نکل گئے۔
سچے دوست کی مدد
کبوتر اڑتے ہوئے اپنے دوست چوہے کے پاس پہنچے۔ چوہے نے جب اپنے دوستوں کو مصیبت میں دیکھا، تو اس نے اپنے تیز دانتوں سے جال کو جگہ جگہ سے کاٹ دیا اور تمام کبوتر آزاد ہو گئے۔
حاصلِ کلام
اتحاد میں طاقت ہے: جو کام اکیلے کرنا ناممکن ہو، وہ مل جل کر آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔
مشکل میں ہمت نہ ہاریں: عقل اور صبر سے بڑی سے بڑی مشکل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔
سچا دوست: مشکل وقت میں کام آنے والا ہی اصل دوست ہوتا ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner