بادشاہ، نجومی اور موت کا راز

بادشاہ، نجومی اور موت کا راز

بغداد کی عظیم سلطنت…
شام ڈھل چکی تھی۔ شاہی محل کے بلند و بالا ستونوں پر سنہری مشعلیں روشن تھیں۔ دربار پوری شان و شوکت کے ساتھ سجا ہوا تھا۔
تختِ شاہی پر ایک عظیم بادشاہ جلوہ افروز تھا۔ امیر، وزیر، سپاہی اور درباری ادب سے سر جھکائے کھڑے تھے۔ بادشاہ رعایا کے مقدمات سن رہا تھا کہ اچانک دربار کا چوب دار جھکتا ہوا آگے بڑھا۔
“حضور والا! ایک مشہور نجومی بارگاہ میں حاضر ہونے کی اجازت چاہتا ہے۔”
بادشاہ کو داناؤں، حکیموں اور نجومیوں سے گفتگو کا بے حد شوق تھا۔ اس نے فوراً حکم دیا:
“اُسے فوراً ہمارے سامنے پیش کیا جائے!”
چند لمحوں بعد ایک لمبا چوڑا شخص، قیمتی لباس پہنے، ہاتھ میں ستاروں کی کتاب لیے دربار میں داخل ہوا۔ اُس کی آنکھوں میں عجیب غرور اور چہرے پر خود اعتمادی تھی۔ وہ جھک کر بولا:
“سلام ہو بادشاہ سلامت پر!”
بادشاہ نے گہری نظر سے اُسے دیکھا اور کہا:
“اگر تم واقعی علمِ نجوم جانتے ہو، تو ہمیں بتاؤ… ہمارا نائب وزیر فضل اس وقت کہاں ہے؟”
نجومی نے آسمان کی طرف دیکھا، انگلیوں پر کچھ حساب کیا، پھر بولا:
“حضور! وہ اس وقت خراسان میں ہے۔ جس مقصد کے لیے بھیجا گیا تھا، وہ پورا ہو چکا ہے… اور وہ واپسی کے سفر پر ہے۔”
دربار میں سرگوشیاں ہونے لگیں۔
پھر بادشاہ نے دوسرا سوال کیا:
“یہ بتاؤ، ہماری ملکہ کے ہاں لڑکا پیدا ہوگا یا لڑکی؟”
نجومی نے زائچہ بنایا، چند لمحے خاموش رہا، پھر پورے یقین سے بولا:
“حضور کے گھر ایک شہزادہ پیدا ہوگا… اور بہت جلد ہوگا!”
بادشاہ نے مزید سوالات کیے۔ حیرت انگیز طور پر ہر جواب درست نکلا۔
چند دن گزرے…
خراسان سے نائب وزیر واپس آگیا۔
اور محل میں واقعی ایک شہزادے کی پیدائش ہوئی۔
پورا شہر خوشیوں سے جگمگا اٹھا۔
بادشاہ بے حد متاثر ہوا۔ اُس نے نجومی کو قیمتی انعامات دیے اور دربار میں خاص مقام عطا کیا۔
مگر کچھ دن بعد ایک رات، جب محل پر خاموشی چھائی ہوئی تھی اور بادشاہ تنہا بیٹھا تھا، اُس کے دل میں اچانک ایک خوفناک خیال آیا۔
اُس نے فوراً نجومی کو بلوایا۔
نجومی حاضر ہوا تو بادشاہ نے آہستہ مگر سنجیدہ لہجے میں پوچھا:
“سچ سچ بتاؤ… ہماری عمر کتنی باقی ہے؟”
یہ سوال سنتے ہی دربار پر سناٹا چھا گیا۔
نجومی نے کتاب کھولی… ستاروں کا حساب لگایا… پھر اُس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ وہ ہچکچایا، پسینہ اُس کی پیشانی پر چمکنے لگا۔
آخر لرزتی آواز میں بولا:
“بادشاہ سلامت… علمِ نجوم کے مطابق… آپ کی عمر کا صرف ایک سال باقی ہے…”
یہ سنتے ہی جیسے قیامت ٹوٹ پڑی۔
بادشاہ کا چہرہ زرد پڑ گیا۔ ہاتھ کانپنے لگے۔ اُس نے سر گھٹنوں پر رکھ لیا۔ آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
وہ ٹوٹے ہوئے لہجے میں بڑبڑایا:
“افسوس… ساری زندگی سلطنت، دولت اور دنیا میں گزار دی… مگر اپنے رب کی عبادت نہ کر سکا… اگر صرف ایک سال باقی ہے… تو میں خدا کو کیا جواب دوں گا؟”
پورا دربار خاموش تھا۔
اسی دوران وزیرِ اعظم جعفر اندر داخل ہوا۔ اُس نے بادشاہ کو اس حال میں دیکھا تو بے حد پریشان ہوا۔
“حضور! آپ اس قدر غمگین کیوں ہیں؟ اگر میری جان بھی قربان کرنی پڑے تو حاضر ہوں!”
بادشاہ نے نم آنکھوں سے نجومی کی طرف اشارہ کیا اور ساری بات بتا دی۔
جعفر چند لمحے خاموش رہا… پھر اُس کی آنکھوں میں ایک عجیب چمک ابھری۔
وہ نجومی کی طرف مڑا اور بولا:
“اچھا… اگر تم واقعی اپنے علم میں سچے ہو… تو یہ بتاؤ، تمہاری اپنی عمر کتنی باقی ہے؟”
نجومی نے فوراً کتاب کھولی، حساب لگایا، پھر غرور سے مسکرا کر بولا:میں ابھی تیس سال تک زندہ رہوں گا!”
جعفر نے فوراً جلاد کی طرف دیکھا۔
“حکم ہے… اسی وقت اس کا سر قلم کر دو!”
جلاد نے بجلی کی سی تیزی سے تلوار چلائی—
“چھنااااک!!!”
ایک لمحے میں نجومی کا سر زمین پر لڑھک رہا تھا… اور اُس کا جسم تڑپ رہا تھا۔
دربار خوف سے کانپ اٹھا۔
جعفر آگے بڑھا، بادشاہ کے سامنے جھک کر بولا:
“حضور! یہ شخص اپنی موت کا وقت نہ جان سکا… جو اپنی تقدیر نہ پہچان سکا، وہ دوسروں کی قسمت کا دعویٰ کیسے کر سکتا ہے؟”
بادشاہ پر جیسے غفلت کا پردہ ہٹ گیا۔
اُس نے گہرا سانس لیا۔ چہرے پر سکون لوٹ آیا۔
مگر اس دن کے بعد بادشاہ کی زندگی بدل گئی۔
وہ اکثر فرمایا کرتا تھا:
“موت کسی کو بتا کر نہیں آتی… اس لیے انسان کو ہر وقت اپنے رب کو یاد رکھنا چاہیے…”

Leave a Reply

NZ's Corner