ایک مزاحیہ مگر گہرا سبق آموز واقعہ…!
ایک شہر میں ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیا۔
صبح سویرے لوگوں نے دیکھا کہ قبرستان کے ایک کونے میں تازہ مٹی ڈالی گئی ہے۔
تجسس بڑھا تو معلوم ہوا کہ کسی شخص نے اپنے کتے کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دیا ہے۔
یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے شہر میں پھیل گئی۔
لوگ غصے سے بھر گئے اور سیدھے قاضی کے دربار جا پہنچے۔
“قاضی صاحب! یہ تو قبرستان کی بے حرمتی ہے!”
“اگر آج ایک کتا دفن ہوگیا، تو کل نہ جانے کیا ہوگا!”
قاضی یہ سن کر آگ بگولہ ہوگیا۔
فوراً حکم دیا:
“اس گستاخ شخص کو فوراً میرے سامنے پیش کیا جائے!” ⚖️
کچھ دیر بعد وہ شخص کانپتا ہوا دربار میں حاضر ہوا۔
قاضی نے غصے سے میز پر ہاتھ مارا اور گرج کر بولا:
“اے بدبخت! کیا یہ سچ ہے کہ تُو نے اپنے کتے کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا؟”
وہ شخص نہایت سکون سے بولا:
“جی حضور! یہ سچ ہے… مگر اس میں میرا کوئی قصور نہیں۔”
قاضی مزید بھڑک اٹھا:
“اوپر سے دلیلیں بھی دے رہا ہے؟ آخر ایسی حرکت کیوں کی؟”
اس شخص نے معصومیت سے جواب دیا:
“حضور… اصل میں یہ میرے کتے کی آخری وصیت تھی، اور میں نے صرف اس کی وصیت پوری کی ہے!”
یہ سن کر دربار میں ہنسی کی لہر دوڑ گئی۔
مگر قاضی کا چہرہ مزید سرخ ہوگیا۔
“کم بخت! اب تُو میرا مذاق اڑا رہا ہے؟
کتے بھی وصیتیں کرنے لگے؟!”
وہ شخص فوراً بولا:
“حضور! جلدی فیصلہ نہ فرمائیں…
مرحوم کتے نے ایک اور وصیت بھی کی تھی…” 👀
قاضی نے حیرت سے پوچھا:
“اور کیا وصیت تھی؟”
اس شخص نے آہستہ سے کہا:
“اس نے فرمایا تھا کہ قاضی صاحب کی خدمت میں ایک ہزار دینار بطور ہدیہ پیش کیے جائیں…”
یہ سنتے ہی قاضی کے چہرے کے تاثرات یکسر بدل گئے۔
غصہ اچانک رحم میں بدل گیا… آواز نرم ہوگئی… اور آنکھوں میں عقیدت اتر آئی۔
قاضی نے داڑھی پر ہاتھ پھیرا اور نہایت سنجیدگی سے کہا:
“اللہ اس فقید المثال کتے پر اپنی رحمت نازل فرمائے…!”
لوگ حیرت سے ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔
ابھی چند لمحے پہلے یہی قاضی آگ برسارہا تھا، اور اب کتے کیلئے دعائیں مانگ رہا تھا!
لوگوں نے حیران ہو کر پوچھا:
“قاضی صاحب! یہ اچانک تبدیلی کیسے؟”
قاضی نے گہری سانس لی، گردن جھکائی اور بڑے فلسفیانہ انداز میں بولا:
“میں نے اس کتے کے بارے میں بہت غور کیا ہے…
اور میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ عام کتا نہیں تھا…
یہ یقیناً اصحابِ کہف کے کتے کی نسل سے تھا!”
بس پھر کیا تھا…
پورا دربار قہقہوں سے گونج اٹھا۔ 😂
💸 پیسہ اکثر انسان کی سوچ، اصول اور فتوے… سب کچھ بدل دیتا ہے!
