ایک شہر میں موتو بھائی نام کا ایک امیر تاجر رہتا تھا۔ برسوں کی محنت کے بعد اُس نے دولت کمائی اور آخرکار ایک شاندار، کشادہ اور خوبصورت گھر خرید لیا۔نئے گھر میں آنے کے بعد وہ بہت خوش تھا۔ اُس نے سوچا: “اب سکون سے زندگی گزاروں گا… نہ شور، نہ پریشانی!”
ایک دوپہر کھانا کھانے کے بعد وہ آرام کرنے کے لیے اپنے نرم بستر پر لیٹا۔ ابھی اُس کی آنکھ ذرا سی لگی ہی تھی کہ اچانک ایک خوفناک آواز نے اُسے چونکا دیا۔
“گڑرررر… گڑرررر…!!!”
موتو بھائی گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔ اُسے لگا جیسے سڑک پر کوئی بھاری انجن چل رہا ہو۔
وہ فوراً کھڑکی کی طرف دوڑا، مگر باہر کوئی انجن نہ تھا۔
کچھ لمحوں بعد اُس کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا…
آواز پڑوس کے گھر سے آ رہی تھی!
وہاں ایک گویّا اپنی ریاض کر رہا تھا۔ مگر اُس کی آواز اتنی بے سُری، اتنی اونچی اور اتنی خوفناک تھی کہ لگتا تھا کسی نے بلی کی دم پر پاؤں رکھ دیا ہو!
موتو بھائی نے دونوں کان بند کر لیے۔
“یا اللہ! یہ گانا ہے یا عذاب؟!”
کافی دیر بعد گویّے کی آواز بند ہوئی تو موتو بھائی نے سکون کا سانس لیا۔ اُس کا سر درد سے پھٹا جا رہا تھا۔ اُس نے جلدی سے بام لگایا اور دوبارہ لیٹ گیا۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی، ماحول پرسکون تھا، اور آہستہ آہستہ اُس کی آنکھ لگنے لگی۔ مگر اچانک…
“ڈھم! ڈھم! ڈھڑام! ڈھم!!!”
ایسا لگا جیسے کسی نے اُس کے سینے پر ہتھوڑے مارنے شروع کر دیے ہوں!
وہ ڈر کر اچھل پڑا۔
یہ آواز دوسری طرف والے پڑوسی کے گھر سے آ رہی تھی۔ وہ ایک ڈھولچی تھا… اور پوری طاقت سے ڈھول بجا رہا تھا
اب موتو بھائی بیچ میں پھنس چکا تھا۔
ایک طرف بے سُرا گویّا… اور دوسری طرف قیامت کا ڈھولچی!
نہ دن کو سکون… نہ رات کو آرام…
شام ہوتے ہی موتو بھائی ہمت کر کے دونوں پڑوسیوں کے پاس گیا۔
نہایت عاجزی سے بولا: “بھائیو! خدا کے لیے کہیں اور جا کر مشق کر لیا کریں۔ میری جان نکل رہی ہے!”
مگر دونوں نے صاف انکار کر دیا۔
ئ دونوں ٹس سے مس نہ ہوئے۔ آخرکار، تنگ آ کر موتو بھائی نے ایک بڑا فیصلہ کیا۔اُس نے کہا:
“اگر تم دونوں یہ گھر چھوڑ دو… تو میں تمہیں ایک ایک لاکھ روپے دوں گا!”
یہ سنتے ہی دونوں کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
انہوں نے فوراً کہا: “پیسے ابھی دو!”
سکون خریدنے کے لیے موتو بھائی نے بھاری رقم ادا کر دی۔
اگلی صبح حیرت انگیز خاموشی تھی۔
نہ گانا… نہ ڈھول…
موتو بھائی خوشی سے نہال ہو گیا۔
وہ مسکرا کر بولا: “چلو، آخرکار سکون تو ملا! ایک ایک لاکھ گئے تو کیا ہوا…”
مگر اچانک…
“ڈھم! ڈھم! ڈھڑام!!!”
وہی خوفناک ڈھول کی آواز دوبارہ گونج اٹھی!
موتو بھائی کے ہاتھ سے چائے کا کپ گر گیا۔
پھر ساتھ ہی بے سُری آواز سنائی دی:
“آآآآآآآہہہہہ…!!!”
موتو بھائی کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا۔
وہ غصے سے باہر نکلا… اور یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا کہ دونوں پڑوسی کہیں گئے ہی نہیں تھے!
اصل میں انہوں نے اپنے اپنے گھر آپس میں بدل لیے تھے!
اب جو گویّا پہلے دائیں طرف رہتا تھا، وہ بائیں طرف آ گیا تھا… اور ڈھولچی بائیں سے دائیں طرف!
یعنی شور وہی تھا… عذاب وہی تھا… بس مکان بدل گئے تھے!
یہ دیکھ کر موتو بھائی اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔
دونوں پڑوسی دور کھڑے ہنس رہے تھے، اور موتو بھائی کو اُس دن احساس ہوا:
“بعض لوگ پیسے لے لیتے ہیں… مگر عادتیں نہیں بدلتے!”
