ایک زمانے میں ایک تاجر تھا جو بہت مالدار تھا۔ اس کے پاس اونٹ اور گائیں تھیں۔ وہ دیہات میں اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ رہتا تھا۔ اللہ نے اسے جانوروں کی بولی سمجھنے کی خاص طاقت عطا کی تھی، لیکن اس کی یہ طاقت ایک شرط کے ساتھ تھی کہ وہ کسی انسان کو جانوروں کی باتیں بتائے گا تو اسے موت آ جائے گی۔
ایک شام وہ اپنے اصطبل کے قریب بیٹھا اپنے بچوں کو کھیلتا دیکھ رہا تھا کہ اس نے بیل کو گدھے سے باتیں کرتے سنا۔ بیل گدھے سے کہہ رہا تھا، “اے گدھے! تم کیسے آسودہ حال ہو۔ تمہیں بہترین چارہ ملتا ہے، صاف پانی ملتا ہے، لوگ تمہاری خدمت کرتے ہیں اور تمہیں آرام ہے۔ لیکن دیکھو میری حالت کیا ہے۔ صبح سویرے وہ مجھے کھیتوں میں لے جاتے ہیں، میری گردن پر بھاری جوئل ڈال دیتے ہیں، میری پیٹھ پر کوڑے برستے ہیں۔ مجھے صبح سے شام تک ہل چلانا پڑتا ہے۔ رات کو جب واپس آتا ہوں تو تھک کر چور ہو جاتا ہوں۔ تمہیں بتاؤ، میں کیسے بچ سکتا ہوں؟”
گدھا ہنسا اور بولا، “تم کتنے بے وقوف ہو! تم مجھ سے دس گنا زیادہ طاقتور ہو، پھر بھی تم انہیں اپنے اوپر حکومت کرنے دیتے ہو۔ سنو، میری بات مانو اور تم جان چھڑا سکتے ہو۔ جب صبح وہ تمہارے گلے میں جوئل ڈالنے آئیں تو تم اپنا سر جھٹک دو۔ جب وہ تمہیں کھیتوں میں لے جانے لگیں تو زمین پر لیٹ جاؤ اور ہلنے سے انکار کر دو۔ تم اتنی بڑی مخلوق ہو، اگر تم نہ مانو تو وہ کچھ نہیں کر سکتے۔ زور سے ڈکارو، جیسے تم بیمار ہو، اور وہ تمہیں چھوڑ دیں گے۔”
تاجر نے یہ ساری باتیں سن لیں۔ وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ کیا بیل اس مشورے پر عمل کرتا ہے۔ صبح جب نگران آیا تو بیل نے وہی کیا جو گدھے نے کہا تھا — اس نے سر جھٹکایا، زمین پر لیٹ گیا اور زور زور سے ڈکارنے لگا۔ نگران نے تاجر سے آ کر کہا، “صاحب! بیل کے ساتھ کچھ ہو گیا ہے، شاید اسے کسی نے جادو کر دیا ہے۔ وہ اپنی جگہ سے ہلنے کو تیار نہیں ہے۔”
تاجر نے کہا، “اچھا تو آج بیل کو آرام کرنے دو۔ اس کی جگہ گدھے کو لے جاؤ اور اس سے کھیت میں ہل چلواؤ۔”
نگران نے گدھے کو پکڑ کر اس پر جوئل ڈال دیا اور اسے کھیت میں لے گیا۔ گدھے نے دن بھر سخت دھوپ میں ہل چلایا، اس کی پیٹھ پر کوڑے پڑے، اس کا منہ پیاس سے سوکھ گیا، اور وہ تھک کر بے حال ہو گیا۔ جب شام کو وہ اصطبل واپس آیا تو بیل نے اطمینان سے آرام کرتے ہوئے اسے خوش آمدید کہا اور کہا، “آج تو بڑا مزہ آیا! تم نے مجھے بچا لیا۔”
لیکن گدھا بہت تھکا ہوا تھا، اس نے کوئی جواب نہ دیا اور چپ چاپ لیٹ گیا۔
صبح بیل نے پھر وہی چال دہرانے کی ٹھان لی اور گدھے سے کہا، “آج میں پھر لیٹ جاؤں گا، جیسے تم نے مجھے سکھایا تھا۔”
لیکن گدھے نے بے وقوفی کی۔ وہ بولا، “میرے دوست! میری آخری بات سن لو۔ میں نے سنا ہے کہ تاجر نے اپنے نگران سے کہا کہ اگر بیل آج پھر کام سے انکار کرے تو اسے ذبح کر کے غریبوں میں بانٹ دیا جائے۔ اس لیے تو بہتر ہے کہ آج تم اپنی جان بچانے کے لیے کام پر چلے جاؤ۔”
بیل ڈر گیا اور صبح جب نگران آیا تو اس نے خود ہی جوئل اٹھا کر کھیت کی طرف چل دیا۔
تاجر نے یہ سب دیکھا اور دن بھر ہنستا رہا۔ اس کی بیوی نے پوچھا، “تم کیوں ہنس رہے ہو؟” تاجر نے کہا، “میں جانوروں کی ایک بات سن کر ہنس رہا ہوں، لیکن میں تمہیں بتا نہیں سکتا ورنہ میں مر جاؤں گا۔”
بیوی نے کہا، “مجھے بتاؤ! راز چھپانا اچھی بات نہیں۔ ورنہ میں تمہیں چھوڑ دوں گی۔”
تاجر نے بہت سمجھایا، لیکن بیوی نہ مانی۔ آخر کار اس نے اپنے بچوں اور نوکروں کو بلا کر ان سے الوداع کہا اور وصیت لکھنے لگا۔ لیکن اتنے میں ایک مرغ اور کتے کی بات سنی۔ مرغ کتے سے کہہ رہا تھا، “ہمارا مالک بہت بے وقوف ہے۔ اس نے اپنی بیوی کے جھگڑے میں جان دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ میں تو اپنی مرغیوں کو بہتر طریقے سے سنبھالتا ہوں۔”
کتے نے کہا، “تم کیا کرو گے؟”
مرغ نے کہا، “اگر وہ میری طرح کرے — جب اس کی بیوی اپنی ہٹ دھرمی پر اڑے تو وہ اسے ایک اچھی پٹائی دے تو وہ سمجھ جائے گی۔”
تاجر نے یہ سنا تو اس نے بیوی کو ڈانٹ کر کہا کہ وہ اسے جانوروں کی باتیں بتانے پر مجبور نہ کرے۔ بیوی ڈر گئی اور اس نے کبھی ایسی ضد نہیں کی۔
اخلاقی سبق
اس کہانی کا اصل سبق یہ ہے کہ انسان کو ہر بات ہر کسی کے سامنے ظاہر نہیں کرنی چاہیے، چاہے وہ کتنا ہی بڑا علم یا صلاحیت کیوں نہ رکھتا ہو۔ حکمت کا تقاضا یہی ہے کہ آدمی اپنی زبان پر قابو رکھے، کیونکہ بعض اوقات ایک سچی بات بھی غلط وقت اور غلط جگہ پر نقصان کا سبب بن جاتی ہے۔
