ایک بار دو بلیوں کو روٹی کا ایک ٹکڑا ملا۔ دونوں میں جھگڑا ہونے لگا کہ روٹی کس کی ہے۔ “میں نے پہلے دیکھی تھی” ایک بولی۔ “نہیں، میں نے اٹھائی تھی” دوسری چیخی۔
اتنے میں وہاں سے ایک بندر گزرا۔ بلیوں نے بندر سے کہا: “چچا بندر، آپ ہی انصاف کر دیں۔ روٹی کے دو برابر حصے کر دیں۔”
بندر مان گیا۔ اس نے روٹی کے دو ٹکڑے کیے، مگر جان بوجھ کر ایک ٹکڑا بڑا رکھا۔ ترازو لے کر بولا: “ارے یہ والا تو بڑا ہے، اسے برابر کرنا پڑے گا۔” یہ کہہ کر بڑے ٹکڑے سے تھوڑا سا کاٹ کر کھا گیا۔
اب دوسرا ٹکڑا بڑا ہو گیا۔ بندر پھر بولا: “اب یہ بڑا ہے، اسے بھی برابر کرنا ہوگا۔” اور اس میں سے بھی نوالہ توڑ کر کھا گیا۔
ایسے کرتے کرتے بندر ساری روٹی کھا گیا اور آخر میں بولا: “چونکہ اب کچھ بچا ہی نہیں، اس لیے جھگڑا ختم۔ دونوں خالی ہاتھ گھر چلی جاؤ۔”
دونوں بلیاں اپنا سر پیٹ کر رہ گئیں۔
**سبق**: آپس میں لڑنے سے فائدہ ہمیشہ تیسرا اٹھاتا ہے۔ اگر مل بانٹ کر کھا لیتیں تو دونوں کا پیٹ بھر جاتا۔
