صحرا کا جہاز

صحرا کا جہاز

اونٹ کو صحرا کا جہاز کہا جاتا ہے لیکن تاریخی طور پر یہ صحرا کا جنگی جہاز بھی ثابت ہوا ہے عرب اور شمالی افریقی صحرائی جنگجوؤں کے لیے شتر سوار دستے بہت مؤثر سمجھے جاتے تھے، خاص طور پر کھلے ریگستانی علاقوں میں۔

اونٹ سواروں کی چند بڑی خصوصیات یہ تھیں:

* اونٹ سخت گرمی، پانی کی کمی اور لمبے سفر برداشت کر لیتا تھا۔

* صحرا میں اس کی رفتار اور برداشت گھوڑوں سے زیادہ مفید ہوتی تھی۔

* بعض گھوڑے اونٹ کی بو، آواز اور شکل سے بدکتے بھی تھے، خاص طور پر اگر انہیں پہلے اونٹوں کی عادت نہ ہو۔

* اونٹ کی اونچائی کی وجہ سے سوار کو نیزہ یا تلوار چلانے میں برتری ملتی تھی۔

* عرب اور بربر قبائل نے صدیوں تک اونٹوں کو جنگ، چھاپہ مار حملوں اور قافلوں کی حفاظت کے لیے استعمال کیا۔

البتہ کھلے میدانوں میں تیز رفتار منگول و ترک گھڑ سوار فوج کے مقابلے میں اونٹ ہمیشہ ہر صورتحال میں بہتر نہیں ہوتے تھے لیکن صحرا، لمبے فاصلے اور رسد کے لحاظ سے اونٹ سوار دستے بہت خطرناک اور مؤثر مانے جاتے تھے۔

شام کے علاقے میں ہونے والی جنگ یرموک میں عرب افواج نے اونٹوں کو رسد، نقل و حرکت اور بعض مقامات پر دفاعی لائن کے طور پر استعمال کیا۔ عورتوں اور سامان کو اونٹوں کے پیچھے رکھا گیا تاکہ فوج کا حوصلہ قائم رہے۔

قادسیہ کی جنگ میں ساسانی فارسی فوج کے خلاف عرب فوج کے اونٹ صحرائی نقل و حرکت میں بہت کارآمد ثابت ہوئے۔ لمبی رسد لائن برقرار رکھنے میں اونٹ بنیادی ذریعہ تھے۔

پہلی جنگ عظیم میں عربوں نے عثمانی سلطنت کے خلاف صحرا میں اونٹ سوار دستے استعمال کیے۔ لمبے فاصلے، تیز چھاپے، اور اچانک حملوں میں یہ بہت مؤثر تھے۔

تصویر میں بھی ایک جنگجو اونٹ پر سوار دکھایا گیا ہے جو صحرا میں تیز حملہ کر رہا ہے جنگجو کی تلوار خون آلود ہے اور مخالف جنگجو زمین پر گرا نظر آ رہا ہے تلوار کے وار کی وجہ سے خون کے چھینٹے نظر آ رہے ہیں۔

Leave a Reply

NZ's Corner