پرانے زمانے کے چور بھی علم و دلیل میں کم نہ تھے! (ایک حیرت انگیز واقعہ)
امام ابن جوزی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب “کتاب الأذکیاء” میں ایک نہایت دلچسپ واقعہ نقل کیا ہے کہ انطاکیہ کے ایک قاضی کا واقعہ کچھ یوں ہے:
ایک دن وہ قاضی شہر سے اپنے کھیتوں کی طرف جا رہے تھے کہ راستے میں ایک چور نے انہیں روک لیا۔ چور نے دھمکی دی: “جو کچھ بھی آپ کے پاس ہے میرے حوالے کر دیں، ورنہ نقصان اٹھانا پڑے گا!”
قاضی نے نرمی سے کہا: “اللہ تیرا بھلا کرے! میں ایک عالم آدمی ہوں، دین میں علماء کی عزت کا حکم ہے، اور میں شہر کا قاضی بھی ہوں، مجھ پر رحم کرو۔”
چور نے حیرت سے جواب دیا: “الحمدللہ! آج تو اللہ نے میرے ہاتھ ایک ایسا شخص دے دیا ہے جس سے لوٹ کر میں اپنا نقصان بھی پورا کر سکتا ہوں!”
قاضی نے سمجھانے کی کوشش کی: “کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کی حدیث نہیں سنی کہ جس نے میرے طریقے کے خلاف کوئی نیا طریقہ اپنایا وہ بدعت ہے اور بدعت گمراہی ہے؟ ڈاکہ زنی بھی تو بدعت ہے، یہ دین کا طریقہ نہیں۔ اللہ کے عذاب سے ڈرو!”
چور فوراً جواب دیتا ہے: “یہ حدیث مرسل ہے، اور بعض کے نزدیک دلیل نہیں بنتی۔ اور اگر اسے مان بھی لیا جائے تو ایک اور اصول بھی ہے…”
پھر وہ فقہی انداز میں کہتا ہے: “اگر کوئی شخص شدید فقر اور بھوک کی حالت میں ہو، تو بعض علماء کے نزدیک ضرورت کے وقت دوسرے کے مال سے فائدہ اٹھانا جائز ہو جاتا ہے۔ میں بھی اسی کیفیت میں ہوں، لہٰذا مال میرے حوالے کر دیں!”
قاضی نے ایک اور کوشش کی: “اچھا مجھے چھوڑ دو، میں اپنے کھیتوں سے رقم لا کر تمہیں دے دیتا ہوں۔”
چور نے فوراً کہا: “نہیں! ایک بار ہاتھ سے نکلنے کے بعد انسان دوبارہ واپس نہیں آتا۔”
قاضی نے قسم کھائی کہ وہ ضرور واپس آئے گا، تو چور بولا: “مجبور کی قسم معتبر نہیں ہوتی، اور فقہ میں اس کی بھی مثالیں موجود ہیں…”
یہاں تک کہ قاضی کے پاس ہر دلیل کا جواب موجود تھا۔ آخرکار قاضی حیران و پریشان ہو کر رہ گیا۔
چور نے نہ صرف اس کا مال لیا بلکہ اس کی سواری، کپڑے تک لے لیے… صرف شلوار چھوڑ دی!
قاضی نے کہا: “نماز کا وقت ہے، بغیر کپڑوں کے نماز کیسے پڑھوں؟”
چور نے فقہی انداز میں جواب دیا: “بعض روایات کے مطابق مجبوری میں ننگے بھی نماز ادا کر سکتے ہیں…”
یوں ہر اعتراض کا جواب “علمی دلیل” سے دے کر چور سب کچھ لے کر رفو چکر ہو گیا۔
اور قاضی بے اختیار کہہ اٹھا: “اللہ کی قسم! قاضی اور مفتی تو تم ہونا چاہیے تھے، ہم تو یونہی مشقت کر رہے ہیں!”
📖 (کتاب الأذکیاء، امام ابن جوزی رحمہ اللہ، ص 389)
🔎 سبق: یہ واقعہ صرف ایک دلچسپ حکایت نہیں بلکہ یہ بھی بتاتا ہے کہ علم اگر غلط ہاتھوں میں آ جائے تو وہ حق کو بھی باطل بنا سکتا ہے۔
اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں
