پرانے زمانے کی بات ہے۔ بخارا کے ایک مشہور شہر میں ایک نہایت دانا اور عقل مند قاضی رہتا تھا۔ لوگ اسے “قاضی فہیم” کے نام سے جانتے تھے۔ اس کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ بغیر مارپیٹ اور شور شرابے کے بڑے سے بڑا مسئلہ حل کر لیتا تھا۔ دور دور سے لوگ اپنے جھگڑے لے کر اس کے پاس آتے اور انصاف پا کر خوشی خوشی واپس جاتے۔
اسی شہر میں ایک بہت بڑا بازار تھا جہاں دور دراز کے تاجر اپنی قیمتی چیزیں فروخت کرنے آتے تھے۔ بازار میں ہر وقت لوگوں کا ہجوم رہتا، مگر کچھ مہینوں سے ایک عجیب مسئلہ پیدا ہوگیا تھا۔ تاجروں کی تھیلیاں، زیورات اور قیمتی سامان غائب ہونے لگا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ کسی نے کبھی چور کو دیکھا ہی نہیں تھا۔
لوگوں میں خوف پھیل گیا۔ ہر شخص دوسرے پر شک کرنے لگا۔ بازار کی رونق ماند پڑنے لگی۔
ایک دن شہر کے چند بڑے تاجر قاضی فہیم کے پاس پہنچے اور بولے: “حضور! اگر یہی حال رہا تو لوگ اس شہر میں تجارت کرنا چھوڑ دیں گے۔ خدا کے لیے اس چور کو پکڑو۔”
قاضی نے سکون سے سب کی بات سنی اور کہا: “چور چاہے کتنا ہی چالاک کیوں نہ ہو، ایک دن اپنی غلطی سے خود پکڑا جاتا ہے۔”
اسی دوران ایک امیر تاجر روتا ہوا دربار میں آیا۔ اس نے بتایا کہ اس کی سونے کے سکوں سے بھری تھیلی بازار سے غائب ہوگئی ہے۔ تھیلی میں اتنا سونا تھا کہ آدھا شہر خرید لیا جاتا۔
قاضی نے فوراً حکم دیا: “آج بازار میں موجود ہر شخص کو جمع کیا جائے۔ کوئی بھی باہر نہ جائے۔”
سپاہیوں نے دروازے بند کر دیے۔ چند ہی دیر میں سینکڑوں لوگ بازار کے بیچ جمع ہوگئے۔ ہر شخص خوفزدہ تھا۔
قاضی نے سب کو غور سے دیکھا۔ ایک آدمی بار بار اپنا پسینہ صاف کر رہا تھا اور نظریں چرا رہا تھا۔ مگر قاضی نے فوراً کچھ نہ کہا۔
وہ بلند آواز میں بولا: “میں جانتا ہوں کہ چور یہیں موجود ہے۔ مگر میں کسی بے گناہ کو سزا نہیں دینا چاہتا۔ اس لیے میں ایک آسان طریقہ آزماؤں گا۔”
لوگ حیران ہوکر ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔
قاضی نے اپنے خادم کو حکم دیا کہ ایک لمبی لکڑی لے کر آئے۔ پھر اس لکڑی کے ٹکڑے کر کے ہر مشتبہ شخص کو ایک ایک ٹکڑا دے دیا۔
اس نے کہا: “یہ جادوئی لکڑیاں ہیں۔ صبح تک جس شخص نے چوری کی ہوگی، اس کی لکڑی ایک انچ بڑھ جائے گی۔ کل صبح سب اپنی لکڑیاں واپس لے آئیں۔”
یہ سن کر مجمعے میں سرگوشیاں شروع ہوگئیں۔ بے گناہ لوگ ہنسنے لگے، مگر اصلی چور کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔
رات بھر چور پریشان رہا۔ وہ سوچتا رہا: “اگر واقعی لکڑی بڑھ گئی تو میں فوراً پکڑا جاؤں گا!”
آخر ڈر کے مارے اس نے اپنی لکڑی کا ایک انچ حصہ کاٹ دیا تاکہ اگر لکڑی بڑھے تو برابر ہوجائے۔
اگلی صبح سب لوگ اپنی اپنی لکڑیاں لے کر قاضی کے پاس حاضر ہوئے۔
قاضی نے ایک ایک لکڑی دیکھی۔ اچانک وہ ایک آدمی کے سامنے رک گیا اور مسکرا کر بولا: “یہی چور ہے!”
سپاہیوں نے فوراً اسے پکڑ لیا۔ آدمی گھبرا کر بولا: “حضور! آپ کو کیسے معلوم ہوا؟”
قاضی نے کہا: “لکڑیاں جادوئی نہیں تھیں۔ مگر مجھے یقین تھا کہ چور اپنے خوف کی وجہ سے کوئی نہ کوئی غلطی ضرور کرے گا۔ سب کی لکڑیاں برابر ہیں، مگر تمہاری لکڑی ایک انچ چھوٹی ہے۔”
یہ سنتے ہی مجمع حیرت سے شور مچانے لگا۔ چور نے شرمندہ ہو کر اپنا جرم قبول کر لیا اور تاجر کی تھیلی واپس کر دی۔
شہر کے لوگ قاضی فہیم کی عقل مندی کے اور بھی زیادہ معترف ہوگئے۔ بازار پھر سے آباد ہوگیا اور لوگ امن و سکون سے تجارت کرنے لگے۔
قاضی نے آخر میں لوگوں سے کہا: “یاد رکھو، عقل مند انسان دوسروں کی کمزوری نہیں، ان کے خوف کو سمجھتا ہے۔ اکثر مجرم اپنی زبان یا حرکت سے خود ہی پکڑا جاتا ہے۔”
سبق:
عقل اور صبر سے وہ کام ہو جاتا ہے جو طاقت اور غصے سے کبھی نہیں ہوتا۔ خوف اکثر انسان سے ایسی غلطی کروا دیتا ہے جو اسے بے نقاب کر دیتی ہے۔
