مینڈکوں کا بادشاہ

مینڈکوں کا بادشاہ

ایک سرسبز و شاداب وادی کے بیچوں بیچ ایک قدیم تالاب تھا۔ اس تالاب کے نیلگوں پانی میں مینڈکوں کی ایک بڑی بستی آباد تھی۔ ہر طرف آزادی ہی آزادی تھی؛ نہ کوئی حاکم، نہ کوئی پابندی، نہ کسی کا حکم چلتا تھا اور نہ کسی کی گردن پر جبر کا طوق تھا۔
مگر انسان ہو یا مینڈک، نعمت جب مسلسل میسر رہے تو اس کی قدر آنکھوں سے اوجھل ہو جاتی ہے۔
چنانچہ ایک دن مینڈکوں کی مجلسِ شوریٰ منعقد ہوئی۔ بوڑھے مینڈک کنول کے پتوں پر بیٹھے تھے اور نوجوان مینڈک جوشِ خطابت میں اچھل کود کر رہے تھے۔
ایک جذباتی مینڈک نے تقریر جھاڑی:
“یہ بھی کوئی زندگی ہے؟ نہ کوئی بادشاہ، نہ کوئی دربار! قومیں اپنے حکمرانوں سے پہچانی جاتی ہیں اور ہم ہیں کہ بے سہارے پھر رہے ہیں!”
مجمع نے زور دار ٹرّ ٹرّ کے ساتھ تائید کی۔
بالآخر سب نے مل کر دیوتا کے حضور فریاد کی:
“اے دیوتا! ہمیں بھی ایک بادشاہ عطا فرما تاکہ ہماری شان و شوکت میں اضافہ ہو۔”
دیوتا ان کی نادانی پر مسکرایا اور آسمان سے ایک بھاری بھرکم لکڑی کا لٹھ تالاب میں دے مارا۔
چھپاک!
پانی کے فوارے بلند ہوئے، لہریں بپھر گئیں اور مینڈک خوف سے ادھر ادھر بھاگ کھڑے ہوئے۔ کئی دن تک وہ اپنے بلوں اور جھاڑیوں میں دبکے رہے۔
مگر وقت گزرا تو معلوم ہوا کہ یہ نیا “بادشاہ” تو محض لکڑی کا ایک بے جان ٹکڑا ہے۔ نہ بولتا ہے، نہ حرکت کرتا ہے، نہ کسی کو ڈانٹتا ہے، نہ کسی کو انعام دیتا ہے۔
اب صورتحال بدل گئی۔
جو مینڈک کل تک کانپ رہے تھے، آج اسی بادشاہ کی پشت پر قلابازیاں کھا رہے تھے۔ بچے اسے کھیل کا میدان سمجھنے لگے اور بوڑھے اس پر بیٹھ کر سیاسی گفتگو کرنے لگے۔
کچھ عرصے بعد پھر شور اٹھا:
“یہ کیسا بادشاہ ہے؟ نہ رعب، نہ دبدبہ! ہمیں کوئی اصلی حکمران چاہیے!”
دیوتا نے اس بار ان کی ضد پوری کرنے کا فیصلہ کیا۔
چند دن بعد ایک لمبی گردن والا بگلا تالاب کے کنارے اترا۔ اس کی آنکھوں میں بھوک کی چمک تھی اور چونچ خنجر کی طرح تیز۔
ابتدا میں مینڈک خوش ہوئے۔
“واہ! اب آیا ہے اصلی بادشاہ!”
لیکن ان کی خوشی جلد ہی ماتم میں بدل گئی۔
بگلے نے پہلے ایک مینڈک نگلا، پھر دوسرا، پھر تیسرا۔ روزانہ تالاب کی آبادی کم ہونے لگی۔ جو کل تک بادشاہت کے گیت گا رہے تھے، آج اپنی جان بچانے کے لیے پانی میں غوطے لگا رہے تھے۔
آخرکار بچ جانے والے مینڈک روتے پیٹتے دیوتا کے حضور پہنچے۔
“اے دیوتا! رحم کر! ہمیں اس ظالم بادشاہ سے نجات دلوا۔”
دیوتا کی آواز گونجی:
“نادانو! جب تمہارے پاس امن، آزادی اور سکون تھا تو تم نے اس کی قدر نہ کی۔ تم نے خود اپنی مرضی سے ایسا حاکم مانگا تھا۔ اب جو بویا ہے، وہی کاٹو۔”
تالاب پر خاموشی چھا گئی، اور مینڈکوں کو پہلی بار اپنی پرانی زندگی کی قیمت کا احساس ہوا۔
سبق
اکثر لوگ موجودہ آسائشوں اور آزادیوں کی قدر نہیں کرتے۔ وہ تبدیلی کے خواب میں ایسی طاقت کو دعوت دے بیٹھتے ہیں جو ان کی باقی ماندہ خوشیاں بھی نگل جاتی ہے۔ ہر نئی چیز بہتر نہیں ہوتی؛ کبھی کبھی پرانا سکون ہی سب سے بڑی نعمت ہوتا ہے۔
“جو حالت آج معمولی لگتی ہے، ممکن ہے کل اسی کے لیے ترسنا پڑ جائے۔”

منقول

Leave a Reply

NZ's Corner