بلاعنوان

بلاعنوان

ایک سرسبز جنگل کے بیچوں بیچ ایک پرانا، تناور درخت کھڑا تھا۔ اس کی شاخوں پر درجنوں پرندے اپنے گھونسلے بنائے رہتے تھے۔ صبح ہوتی تو چہچہاہٹ کا ایسا سماں بندھتا کہ لگتا ہوا خود نغمے گنگنا رہی ہے۔
اسی جنگل میں ایک بلی بھی رہتی تھی۔
وہ عام بلیوں جیسی نہیں تھی۔ اس کے پنجے نرم، قدم خاموش اور دماغ خاصا تیز تھا۔ شکار سے زیادہ اسے چالاکی پر بھروسا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ طاقت سے زیادہ فائدہ اکثر فریب دیتا ہے۔
ایک دن اس نے درخت پر نظر ڈالی اور سوچا:
“آج تو ناشتے کا انتظام یہیں سے ہوگا!”
چنانچہ وہ آہستہ آہستہ درخت پر چڑھنے لگی۔
جیسے ہی پرندوں نے اسے دیکھا، پورا درخت شور سے گونج اٹھا۔
“بلی! بلی! بچاؤ!”
“اپنے بچوں کو سنبھالو!”
“یہ ہمیں کھانے آئی ہے!”
بلی نے فوراً اپنا لہجہ بدل لیا اور نہایت نرم آواز میں بولی:
“ارے ارے! تم لوگ غلط سمجھ رہے ہو۔”
پرندے حیران ہوئے۔
“پھر تم کیوں آئی ہو؟”
بلی نے سنجیدہ چہرہ بنا کر کہا:
“میں تو تمہاری مدد کرنے آئی ہوں۔”
“مدد؟”
“ہاں، اس درخت میں ایک خطرناک سانپ چھپا ہوا ہے۔ میں تمہیں بچانے آئی ہوں۔”
یہ سن کر پرندوں کے دل دہل گئے۔
سانپ کا نام سنتے ہی شور تھم گیا۔
ہر طرف خاموشی چھا گئی۔
پرندے خوف زدہ ہو کر اپنے گھونسلوں میں دبک گئے۔
اور یہی تو بلی چاہتی تھی۔
موقع ملتے ہی اس نے ایک بے چارے پرندے کو دبوچا اور مزے سے کھا گئی۔
پھر مونچھوں پر زبان پھیرتی ہوئی نیچے اتر گئی۔
اگلے دن بلی پھر لوٹ آئی۔
پرندوں نے اسے دیکھا تو چونک گئے۔
بلی نے اوپر دیکھ کر اعلان کیا:
“خبردار! ایک اور سانپ آ گیا ہے!”
اس بار پرندے اتنے سادہ نہیں تھے۔
ایک بوڑھی چڑیا بولی:
“کل بھی تم یہی کہہ رہی تھی۔”
دوسرے پرندے نے غصے سے کہا:
“اور کل ہمارے ایک بھائی کو بھی کھا گئی تھی!”
بلی ذرا بھی نہ گھبرائی۔
فوراً بولی:
“اوہ! وہ؟”
پھر پیشانی پر پنجہ مار کر بولی:
“میں تو سمجھ بیٹھی تھی کہ وہ سانپ ہے!”
پرندے حیرت سے ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔
ایک ننھی گوریا بولی:
“کیا کبھی سانپ کے پر بھی ہوتے ہیں؟”
بلی نے کھنکار کر جواب دیا:
“غلطیاں تو سب سے ہو جاتی ہیں!”
اب پرندوں کو یقین ہو گیا کہ معاملہ کچھ گڑبڑ ہے۔
انہوں نے جنگل کے سب سے ہوشیار اور معاملہ فہم پرندے کو بلانے کا فیصلہ کیا۔
وہ تھا کوا۔
کوا دور سے اڑتا ہوا آیا، ایک اونچی شاخ پر بیٹھا اور پوری کہانی سنی۔
پھر اس نے بلی کو مخاطب کیا:
“بلی بہن! آپ فرماتی ہیں کہ درخت میں سانپ ہے؟”
بلی نے بڑے اعتماد سے کہا:
“بالکل ہے!”
کوا بولا:
“بہت اچھی بات ہے۔ ذرا ہمیں بھی دکھا دیجیے۔”
بلی خاموش ہو گئی۔
کوا نے دوبارہ پوچھا:
“سانپ کہاں ہے؟”
بلی نے اِدھر اُدھر دیکھا۔
پھر شاخوں کی طرف
پھر آسمان کی طرف
پھر زمین کی طرف
مگر سانپ کہیں نہیں تھا۔
کیونکہ سانپ تھا ہی نہیں۔
کوا مسکرایا اور بولا:
“اگر سانپ موجود ہے تو ثبوت پیش کرو، ورنہ درخت چھوڑ دو۔”
اب بلی کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔
اس کی چالاکی کا جادو ٹوٹ چکا تھا۔
وہ فوراً درخت سے اتری اور ایسے بھاگی جیسے خود اس کے پیچھے کوئی سانپ لگا ہو!
بلی کے جاتے ہی درخت خوشی سے گونج اٹھا۔
پرندوں نے کوا کا شکریہ ادا کیا۔
بوڑھی چڑیا بولی:
“تم نے ہماری جان بچا لی۔”
کوا ہنسا اور بولا:
“جان نہیں بچائی، صرف سوال پوچھا ہے۔”
پھر اس نے ایک دانائی بھری بات کہی:
“جو شخص تمہیں خوفزدہ کر کے تمہارا فائدہ اٹھانا چاہے، اس سے ثبوت مانگو۔ اکثر خطرہ وہ نہیں ہوتا جس کا وہ ذکر کرتا ہے، خطرہ خود وہ ہوتا ہے۔”
یہ کہہ کر کوا اپنے پروں کو جنبش دیتا ہوا اڑ گیا، اور پرندے پہلے سے زیادہ سمجھدار ہو گئے۔
سبق
فریب اکثر خوف کا لبادہ اوڑھ کر آتا ہے۔
جب کوئی آپ کو ڈرا کر اپنی بات منوانا چاہے، تو گھبرانے کے بجائے سوال کیجیے۔
اور جنگل کی زبان میں:
“اگر بلی آئے اور کہے کہ سانپ ہے، تو پہلے سانپ دیکھو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اصل خطرہ سانپ نہیں، خود بلی ہو!” 😄🐱🐦🐍
کیونکہ بعض اوقات جھوٹ کا سب سے بڑا سہارا دوسروں کا خوف ہوتا ہے، اور اس کا سب سے بڑا دشمن ایک سمجھدار سوال
#منقول

Leave a Reply

NZ's Corner