بلاعنوان

بلاعنوان

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گاؤں کے قریب ایک چڑیا گھر تھا۔ ایک دن نہ جانے کیسے پنجرے کا دروازہ کھلا رہ گیا اور ایک شیر وہاں سے نکل بھاگا۔ جونہی یہ خبر گاؤں میں پہنچی کہ “شیر آ گیا! شیر آ گیا!” تو پورے گاؤں میں قیامت برپا ہو گئی۔ جو جہاں تھا وہیں سے دوڑ لگا دی۔ کوئی چھت پر چڑھ گیا، کوئی چارپائی کے نیچے گھس گیا، کوئی دروازے بند کرنے لگا اور کچھ ایسے بھی تھے جو خوف کے مارے یہ بھول گئے کہ آخر دوڑ کس طرف رہے ہیں۔

اسی بستی میں ایک چرسی رہتا تھا۔ اس کی زندگی کا واحد مقصد اداکاری کرنا تھا۔ نہ اسے دنیا کی خبر تھی اور نہ زمانے کی۔ اس کی کل کائنات ایک بڑا سا آئینہ تھا جو وہ ہر وقت اپنے ساتھ رکھتا تھا۔ باقی جو کچھ اس کے پاس ہوتا، وقت کے ساتھ بیچ کر کھا جاتا، مگر اس آئینے کو کبھی خود سے جدا نہ کرتا۔ سارا دن وہ اس کے سامنے کھڑا کبھی بادشاہ بنتا، کبھی سپہ سالار، کبھی عاشق اور کبھی فلمی ہیرو۔

ایک بار وہ آئینہ گر گیا تھا اور اس میں دراڑیں پڑ گئی تھیں۔ اب جو بھی اس میں دیکھتا، اسے اپنی ایک صورت کی بجائے کئی کئی تصویریں نظر آتیں۔

اس دن بھی وہ بستی سے ذرا باہر ایک درخت کے نیچے اپنا آئینہ رکھے حسبِ معمول مکالمے بولنے میں مصروف تھا۔ ادھر بستی والے جان بچانے میں لگے ہوئے تھے اور ادھر چرسی اپنی ہی دنیا میں گم تھا۔

اسی دوران شیر دوڑتا ہوا لوگوں کا پیچھا کرتے کرتے اسی راستے پر آ نکلا۔

شیر نے دیکھا کہ پوری بستی اس سے خوفزدہ ہو کر بھاگ رہی ہے، مگر ایک شخص ایسا بھی ہے جو آرام سے کھڑا اپنے ہی کام میں مصروف ہے۔ نہ اس کے چہرے پر خوف، نہ گھبراہٹ۔ شیر حیران ہوا۔

اس نے سوچا:

“آخر یہ کون مخلوق ہے جسے مجھ سے ڈر نہیں لگتا؟”

وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھا اور چرسی پر جھپٹنا چاہا۔
اتنے میں اس کی نظر آئینے پر پڑی۔ شیر نے آئینے میں دیکھا تو اس کے سامنے ایک نہیں، دو نہیں، بلکہ درجنوں شیر کھڑے تھے۔ ہر طرف شیر ہی شیر۔
شیر ایک دم رک گیا۔

اسے کہاں معلوم تھا کہ یہ سب اسی کی اپنی تصویریں ہیں۔
اس کے دل میں خیال آیا:
“میں بھی سوچ رہا تھا کہ یہ آدمی مجھ سے ڈر کیوں نہیں رہا، اصل بات تو یہ ہے کہ اس نے مجھ سے بھی زیادہ خطرناک لشکر پال رکھا ہے”
  اور شاید اسی وجہ سے یہ ذرا برابر بھی خوفزدہ نہیں۔
یہ خیال آتے ہی شیر کے قدم ڈگمگا گئے اور اس نے مناسب یہی سمجھا کہ آج بہادری نہیں بلکہ واپسی میں ہی عافیت ہے۔

چنانچہ وہ جس رفتار سے آیا تھا، اس سے دگنی رفتار سے واپس مڑ گیا اور سیدھا چڑیا گھر جا کر رکا۔ کچھ دیر بعد لوگوں نے دیکھا کہ شیر تو واپس جا چکا ہے اور درخت کے نیچے صرف چرسی کھڑا ہے۔

بس پھر کیا تھا، لوگوں نے فوراً نتیجہ نکال لیا کہ یقیناً اسی نے شیر کو بھگایا ہے۔
کچھ نے کہا:
“یہ بڑا بہادر آدمی ہے”
کچھ بولے: “ہم تو اسے فضول سمجھتے تھے، اصل ہیرو تو یہ نکلا”

کسی نے دعویٰ کیا:
“میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، شیر اس کے سامنے ٹھہر ہی نہیں سکا”

دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں نے اسے کندھوں پر اٹھا لیا۔

بستی میں اس کے قصے مشہور ہو گئے۔ جو لوگ پہلے اسے دیکھ کر راستہ بدل لیتے تھے، اب اسے سلام کرنے لگے۔
چائے والے نے ادھار کھول دیا۔

دکاندار عزت سے پیش آنے لگے۔
حتیٰ کہ بچے بھی اسے “شیر بھگانے والے چاچا” کہنے لگے۔

اور دلچسپ بات یہ تھی کہ بستی والوں کو کبھی حقیقت معلوم نہ ہوئی، اور چرسی کو کبھی یہ معلوم نہ ہو سکا کہ اس کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ دراصل اس نے کیا ہی نہیں تھا۔
کبھی کبھی وہ آئینے کے سامنے کھڑا خود سے پوچھتا:

“آخر میری کون سی اداکاری لوگوں کو اتنی پسند آ گئی؟”
مگر جواب آج تک اسے بھی نہیں ملا۔

اخلاقی سبق:

بعض اوقات دنیا حقیقت سے زیادہ اپنی بنائی ہوئی کہانیوں پر یقین کرتی ہے۔ لوگ اکثر وہی دیکھتے ہیں جو وہ دیکھنا چاہتے ہیں، اور کبھی کبھی ایک معمولی اتفاق بھی کسی کو ہیرو بنا دیتا ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner