پنڈت جی کا نسخہ اور گدھے کا علاج

پنڈت جی کا نسخہ اور گدھے کا علاج

ایک گاؤں میں ایک دھو بی رہتا تھا، جس کا ایک ہی گدھا تھا اور وہ بیچارہ بیمار ہو گیا۔ دھو بی پریشان ہو کر گاؤں کے سب سے پڑھے لکھے پنڈت جی کے پاس گیا اور بولا، “مہاراج! میرا گدھا بہت بیمار ہے، کچھ کھا پی نہیں رہا، کوئی علاج بتائیں۔”
پنڈت جی نے اپنی پرانی کتابیں کھولیں، کچھ حساب لگایا اور ایک کاغذ پر دوا کا نسخہ لکھ کر دیا۔ پنڈت جی نے سمجھاتے ہوئے کہا، “دیکھو بھائی! یہ دوا پاؤڈر (سفوف) کی شکل میں ہے۔ تم نے ایک لمبی بانس کی نالی لینی ہے۔ اس نالی کا ایک سرا گدھے کے منہ میں رکھنا ہے اور دوسرے سرے سے زور سے پھونک مارنی ہے تاکہ دوا سیدھی اس کے پیٹ میں چلی جائے۔”
دھو بی خوش ہو کر گھر آیا، دوا خریدی، ایک بانس کی نالی لی اور گدھے کے پاس پہنچا۔ اس نے دوا نالی کے اندر ڈالی، نالی کا ایک سرا گدھے کے منہ میں پھنسایا اور دوسرا سرا خود اپنے منہ میں لے کر پھونک مارنے ہی والا تھا کہ۔۔۔
گدھے کو اچانک زور دار کھانسی آ گئی!
گدھے کے کھانسنے سے نالی کے اندر موجود ساری کڑوی دوا الٹی اڑتی ہوئی دھو بی کے حلق میں چلی گئی۔ دھو بی کا منہ کڑوا ہو گیا، اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور وہ وہیں زمین پر بیٹھ کر کھانسنے لگا۔
تھوڑی دیر بعد پنڈت جی وہاں سے گزرے تو انہوں نے دھو بی کو بدحال دیکھا۔ پنڈت جی نے حیرت سے پوچھا، “ارے دھو بی بھائی! کیا ہوا؟ گدھے کو دوا دے دی؟”
دھو بی نے روتے ہوئے اور کھانستے ہوئے جواب دیا، “مہاراج! میں تو پھونک مارنے ہی والا تھا، لیکن پہلے پھونک گدھے نے مار دی!”

اخلاقی سبق
یہ کہانی ہنساتی بہت ہے لیکن زندگی کی ایک بہت بڑی حقیقت سکھاتی ہے:

* کتابی باتیں بمقابلہ عملی عقل: زندگی میں صرف نسخے یا لکھی پڑھی باتیں کافی نہیں ہوتیں، بلکہ حالات کے مطابق اپنی عقل کا استعمال کرنا ضروری ہے (جیسے یہ سوچنا کہ جانور کبھی بھی ردِعمل دے سکتا ہے)۔
* تیاری اور خطرے کا اندازہ: کسی بھی کام کو کرنے سے پہلے اس کے ممکنہ خطرات (Risks) کا اندازہ لگانا ضروری ہے، ورنہ جو نقصان آپ کسی اور کا بچا رہے ہوتے ہیں، وہ الٹا آپ کے گلے پڑ جاتا ہے۔
* حالات کا بدلنا: جب آپ کوئی حکمتِ عملی بناتے ہیں، تو یاد رکھیں کہ سامنے والا (چاہے وہ کاروبار ہو یا زندگی کا کوئی اور معاملہ) خاموش نہیں بیٹھے گا، اس کا ایک ایکشن آپ کے پورے پلان کو الٹ سکتا ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner