شاہی سلامی

شاہی سلامی

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ جنگل پر شیر کی حکومت تھی۔ ایک دن اس کا دور کا رشتہ دار بندر دربار میں حاضر ہوا اور بولا، “حضور! آخر رشتہ داری بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ ساری حکومت میں سب کو کوئی نہ کوئی عہدہ ملا ہوا ہے، صرف میں ہی خالی ہاتھ ہوں۔”

پہلے تو شیر نے بات ٹال دی، مگر بندر روز آ جاتا۔ کبھی سفارش کرواتا، کبھی رشتہ داری یاد دلاتا، یہاں تک کہ شیر واقعی پریشان ہو گیا۔
آخر اس نے اپنی وزیرِ اعظم لومڑی کو بلایا۔ لومڑی نے مسکراتے ہوئے کہا، “حضور! اس میں پریشانی کی کیا بات ہے؟ ایک نیا عہدہ بنا دیجیے۔ ایسا عہدہ جس کا نام بڑا ہو، مگر کام کچھ بھی نہ ہو۔”

شیر کو بات پسند آ گئی۔
اسی وقت اعلان ہوا کہ بندر کو “سپریم چیف انسپکٹر برائے شاہی سلامیاں” مقرر کیا جاتا ہے۔ پورا جنگل حیران تھا۔ کسی نے آج تک ایسا عہدہ نہ سنا تھا، نہ سمجھا تھا کہ اس کا کام کیا ہے۔ بندر نے بھی پوچھنے کی زحمت نہ کی۔
عہدہ ملا تو اگلی صبح جنگل کی سب سے مصروف گزرگاہ پر ایک اونچے پتھر پر جا بیٹھا۔

جو بھی جانور وہاں سے گزرتا، بندر زور سے آواز دیتا،
“ادھر آؤ! شاہی سلامی پیش کرو، سلامی کا اس کا اپنا ہی انداز تھا۔
ہر آنے والا جانور پہلے اس کے ہاتھ دباتا، پھر پاؤں دباتا، پھر کندھے دباتا، تب جا کر بندر بڑے رعب سے کہتا،
“چلو، آج کے لیے اجازت ہے”
چھوٹے جانور ڈرتے تھے، اس لیے سب یہی کرتے۔

چند ہی دنوں میں بندر کو یقین ہو گیا کہ واقعی ساری حکومت اسی کے اشارے پر چل رہی ہے۔ البتہ ایک جانور ایسا تھا جسے دیکھتے ہی بندر کا رنگ اڑ جاتا تھا۔
وہ تھا جنگل کا طاقتور گوریلا۔

گوریلا روز اسی راستے سے گزرتا، مگر بندر کو دیکھ کر سیدھا آگے نکل جاتا۔ نہ سلام، نہ ہاتھ ملانا، نہ پاؤں دبانا۔
بندر دل ہی دل میں سکھ کا سانس لیتا۔

“چلو، اس سے جان چھوٹی۔”
مگر کچھ شرارتی جانور، خصوصاً گیدڑ اور لنگور، بندر کے کان بھرنے لگے۔
“حضور! یہ تو آپ کے شاہی عہدے کی کھلی توہین ہے”۔
“اگر ایک نے سلامی نہ دی تو کل سب یہی کریں گے”۔
یہ تو بغاوت ہے، حضور، بندر بھی آخر بندر تھا۔
باتوں میں آ گیا۔ اسی وقت گوریلا کے نام شاہی حکم جاری کر دیا: “کل سے جنگل میں رہنا ہے تو شاہی سلامی دینا لازمی ہوگی۔ ادھر گوریلا نے حکم پڑھا تو ہلکا سا مسکرایا۔

وہ بولا، “اچھا، آخرکار دعوت آ ہی گئی”
اگلی صبح سورج نکلتے ہی وہ بندر کے سامنے حاضر ہو گیا۔
بندر نے پہلی بار اسے اتنی عاجزی سے آتے دیکھا تو سینہ اور بھی پھول گیا۔
وہ رعب سے بولا،
“آؤ، پہلے شاہی سلامی دو”
گوریلا نے نہایت ادب سے کہا،
“ضرور حضور! جی بھر کر دوں گا۔” یہ کہہ کر اس نے بندر کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا۔ اور ہلکا سا دبای
“چٹاخ!” بندر کی چیخ پورے جنگل میں گونج اٹھی۔
“اووووئی، میرا بازو”
گوریلا گھبرا کر بولا،
“حضور! ابھی تو صرف سلامی شروع کی تھی، پاؤں دبانے باقی ہیں”۔
یہ سن کر بندر درد بھول کر چیخا، “نہیں، نہیں۔
کہتے ہیں بندر کا بازو تو چند ہفتوں میں جڑ گیا، مگر اس کے بعد جب بھی وہ گوریلے کو آتے دیکھتا، خود ہی دور سے سلامی مار دیتا تھا۔
اس کے علاوہ اور زیادہ احتیاط کیلئے اپنے دفتر کے باہر ایک بورڈ لگا دیا:
“شاہی سلامی صرف دور سے قبول کی جائے گی۔
ہاتھ ملانے کی سعادت مستقل طور پر بند کر دی گئی ہے۔

اخلاقی سبق:
چھوٹے اختیار پر غرور کرنے والا اکثر اپنی حد بھول جاتا ہے، لیکن طاقت سے نہیں بلکہ حقیقت سے ایک دن ضرور ٹکرا جاتا ہے۔ عزت خدمت سے ملتی ہے، زبردستی کی سلامیوں سے نہیں۔

Leave a Reply

NZ's Corner