جنگل میں نعمتوں کی کوئی کمی نہ تھی۔ کہیں پھلوں کے ڈھیر لگے رہتے، کہیں اناج بکھرا پڑا ہوتا اور کہیں جانور دعوتوں میں مصروف نظر آتے۔ ہر جانور اپنی جسامت اور ضرورت کے مطابق کھاتا پیتا اور خوش رہتا، مگر ایک چونٹی تھی جس کے دل میں ہمیشہ ایک حسرت مچلتی رہتی تھی۔
وہ جب ہاتھی کو ڈھیروں گھاس کھاتے دیکھتی، بھینس کو گھنٹوں جگالی کرتے دیکھتی یا ریچھ کو شہد کے چھتے صاف کرتے دیکھتی تو دل ہی دل میں سوچتی، “کاش میں بھی اتنا کھا سکتی”۔
اسی حسرت نے اسے ایک عجیب عادت میں مبتلا کر دیا تھا۔ وہ خود تو ایک دانہ کھا کر سیر ہو جاتی، مگر بات ہمیشہ دیگوں کی کرتی۔
وہ جب بھی کسی سے ملتی، کھانے کا ذکر ضرور چھیڑ دیتی۔
اگر کوئی پوچھتا، “چونٹی بہن! کہاں سے آ رہی ہو؟”
تو وہ گردن اکڑا کر جواب دیتی،
“ارے مت پوچھو! لومڑی کے ہاں دعوت تھی۔ ایک پوری دیگ اکیلے ختم کر کے آ رہی ہوں۔”
کوئی دوسرا ملتا تو کہتی،
“آج تو دو دیگیں کھا گئیں۔ اب تو چلنا بھی مشکل ہو رہا ہے۔”
کبھی گردن اکڑا کر جواب دیتی، “دعوت سے! آج تو مرغے کی پوری دیگ اکیلے ختم کر کے آ رہی ہوں۔”
سننے والے چونٹی کے ننھے سے جسم کو دیکھتے اور حیران رہ جاتے، مگر چونٹی ایسی سنجیدگی سے بات کرتی کہ کوئی بحث نہ کرتا۔
جنگل میں اس کا سب سے اچھا دوست چوہا تھا۔ دونوں اکثر شام کو ایک درخت کے نیچے بیٹھتے، گپیں لگاتے اور اپنے دل کی باتیں ایک دوسرے سے کرتے۔ چوہا چونٹی کی دیگوں والی کہانیاں سن کر خوب ہنستا، جبکہ چونٹی چوہے کی باتیں سن کر خوش ہوتی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان کی دوستی پورے جنگل میں مشہور ہو گئی۔ ایک دن چوہا میاں کو ایک خوبصورت گلہری سے محبت ہو گئی۔
گلہری بھی چوہے کی سادگی اور معصومیت پر دل ہار بیٹھی تھی۔
جب شادی کی بات گلہری کے والد تک پہنچی تو وہ مشکل میں پڑ گیا۔
بیٹی کی خوشی بھی عزیز تھی اور داماد کی آزمائش بھی ضروری تھی۔
کچھ دیر سوچنے کے بعد اس نے کہا، “چوہا میاں! مجھے رشتہ منظور ہے، مگر ہماری برادری میں ایک رسم ہے۔”
چوہا خوشی سے اچھل پڑا۔
“فرمائیے!” گلہری کے والد بولے،
“بارات میں صرف دس جانور آئیں گے، اور ان دس جانوروں کو مل کر ایک پوری دیگ ختم کرنی ہوگی۔ تبھی شادی ہوگی۔”
کیونکہ میاں بیٹی کا معاملہ ہے، ہم یہ رسم اس وجہ سے کرتے ہیں کہ یہ کھاتے پیتے خاندان سے ہیں کہ نہیں،
چوہا پہلے تو گھبرا گیا، مگر اچانک اسے اپنی دوست چونٹی یاد آ گئی۔
وہی چونٹی جو ہر روز ایک نہیں، دو دو دیگیں کھانے کے دعوے کرتی تھی۔
چنانچہ اس نے فوراً شرط قبول کر لی۔
شادی کا دن آ پہنچا۔
چوہا اپنی برادری کے چند دوستوں کے ساتھ صبح سویرے چونٹی کے گھر پہنچا۔
چونٹی ابھی گہری نیند سو رہی تھی۔ چوہے نے اسے جگایا اور بولا، “جلدی تیار ہو جاؤ، آج تمہارے لیے ایک بہت بڑا سرپرائز ہے۔”
چونٹی نے کئی بار پوچھا کہ کہاں جانا ہے، مگر چوہا ہر بار یہی کہتا، “بس چلتی جاؤ، دیکھتی جاؤ۔”
آخر سب گلہری کی بستی پہنچ گئے۔
وہاں ایک بہت بڑی دیگ ان کے سامنے رکھ دی گئی۔
گلہری کے والد مسکرائے اور بولے، “لیجیے داماد صاحب، رسم پوری کیجیے اور دلہن لے جائیے۔”
چوہا پورے اعتماد کے ساتھ چونٹی کی طرف مڑا اور بولا،
“یہ دیگ تو میری دوست اکیلی ختم کر دے گی۔”
یہ سن کر چونٹی کی آنکھیں پھیل گئیں۔
وہ حیرت سے کبھی دیگ کو دیکھتی، کبھی چوہے کو۔
آخر بولی،”چوہے میاں! یہ ماجرا کیا ہے؟”
چوہے نے فخر سے ساری کہانی سنا دی۔
کہ تم روز ایک ایک دیگ کھانے کے قصے سناتی ہو، اس لیے میں نے تم پر بھروسا کیا۔
چونٹی کچھ دیر خاموش رہی۔
پھر اس نے گہرا سانس لیا اور افسوس بھرے لہجے میں بولی، “کاش تم پہلے بتا دیتے”
چوہا حیران ہوا۔
“کیوں؟”
چونٹی بولی، “کیونکہ آج تو بہت دیر ہو گئی ہے۔”
“کس بات کی دیر؟”
“آج میں ناشتہ کر چکی ہوں۔”
چوہا ہکا بکا رہ گیا۔
“ناشتہ؟ ابھی تو ہم نے تمہیں نیند سے جگایا ہے”
چونٹی نے سنجیدگی سے جواب دیا،
“ہاں، مگر تمہارے آنے سے ذرا پہلے نیند میں دو دیگیں کھا چکی تھی۔ اب میرے اندر ایک دانہ رکھنے کی بھی جگہ نہیں رہی۔”
یہ کہہ کر چونٹی نہایت وقار کے ساتھ وہاں سے اٹھ کر چل دی۔
ادھر گلہری کے والد ہنسنے لگے۔
گلہری ہنسنے لگی۔
بارات والے ہنسنے لگے۔
اور سب سے زیادہ چوہا اپنی سادگی پر ہنسنے لگا کہ اس نے باتوں کے دیگ خور کو حقیقت میں بھی دیگ خور سمجھ لیا تھا۔
کہتے ہیں اس دن کے بعد چونٹی نے دیگوں کے قصے سنانا تو نہیں چھوڑا، البتہ چوہے نے اس کی باتوں پر یقین کرنا ضرور چھوڑ دیا۔
اخلاقی سبق:
جو لوگ ہر وقت اپنے کارناموں کے قصے سناتے رہتے ہیں، ضروری نہیں کہ وہ واقعی اتنے ہی بڑے کارنامے انجام دیتے ہوں۔ عقل مند انسان دعووں سے نہیں، عمل سے فیصلہ کرتا ہے۔ بعض اوقات سب سے بڑی دیگ صرف باتوں میں ہی کھائی جاتی ہے۔
