شیخ چلی کا اڑتا گدھا

شیخ چلی کا اڑتا گدھا

نورپور ایک ایسا گاؤں تھا جہاں کی صبحیں پرندوں کی چہچہاہٹ سے نہیں، بلکہ اکثر و بیشتر شیخ چلی کے کسی نئے اور انوکھے کارنامے کی گونج سے شروع ہوتی تھیں۔ گاؤں کے لوگ دل کے برے نہیں تھے، مگر شیخ چلی کی روز روز کی خیالی پلواؤ پکانے کی عادت سے سبھی واقف تھے۔ شیخ چلی کا ایک ہی ساتھی تھا، اس کا وفادار اور سست رفتار گدھا، جس کا نام اس نے بڑے پیار سے “چونچو” رکھا تھا۔ چونچو بھی اپنے مالک کی طرح دنیا و مافیہا سے بے خبر، بس اپنے چارے اور نیند میں مست رہتا تھا۔
اس دن بھی کچھ الگ نہیں تھا۔ شیخ چلی اپنے کچے مکان کے صحن میں کھٹیا پر لیٹا ہوا تھا اور اس کی نظریں آسمان پر اڑتے ہوئے عقابوں پر ٹکی ہوئی تھیں۔ اس کے دماغ میں خیالات کے گھوڑے نہیں، بلکہ گدھے دوڑ رہے تھے۔
“اگر اللہ نے عقاب کو پر دیے ہیں، تو وہ میرے چونچو کو بھی تو دے سکتا تھا نا؟ آخر چونچو نے کسی کا کیا بگاڑا ہے؟ اگر چونچو کے پر ہوتے، تو میں اس پر بیٹھ کر بادشاہوں کی طرح آسمان کی سیر کرتا۔ لوگ مجھے حسرت سے دیکھتے اور کہتے، ‘وہ دیکھو، نورپور کا شہزادہ جا رہا ہے!'”

شیخ چلی نے اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے گہرا سانس لیا۔ پاس ہی بندھے چونچو نے زور سے ہنہنا کر جیسے اس کے اس انوکھے خیال کی تائید کی، یا شاید وہ صرف چارے کی فرمائش کر رہا تھا۔ مگر شیخ چلی کے لیے یہ ایک غیبی اشارہ تھا۔ اس کے دل میں ایک عجیب سی تڑپ پیدا ہو گئی کہ کسی نہ کسی طرح اپنے اس خواب کو حقیقت کا روپ دینا ہے۔
اسی دوپہر، شیخ چلی گاؤں کے بازار کی طرف نکل گیا۔ بازار میں ہمیشہ کی طرح چہل پہل تھی، حلوائی کی دکان سے تازہ جلیبیوں کی خوشبو آ رہی تھی اور سبزی والے اونچی آواز میں گاہکوں کو پکار رہے تھے۔ اسی دوران، شیخ چلی کی نظر بازار کے ایک کونے میں لگی ایک عجیب و غریب دکان پر پڑی۔ وہاں ایک لمبی داڑھی والا، چمکدار لباس پہنے ایک بوڑھا شخص بیٹھا تھا، جس کے سامنے طرح طرح کی جڑی بوٹیاں اور رنگ برنگے سفوف پڑے تھے۔
شیخ چلی تجسس کے مارے اس کے پاس چلا گیا۔
“آؤ شیخ چلی! میں تمہارا ہی انتظار کر رہا تھا،” بوڑھے نے ایک پراسرار مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
شیخ چلی چونک اٹھا، “آپ میرا نام کیسے جانتے ہیں؟ اور آپ کے پاس ایسا کیا ہے جو میرے کام آ سکے؟”
بوڑھے نے ایک چھوٹی سی چمکدار شیشی نکالی جس کے اندر سنہرا سفوف چمک رہا تھا۔ “اس دنیا میں کوئی بھی چیز ناممکن نہیں ہے۔ یہ ‘پروازِ حکمت’ کا سفوف ہے۔ اگر اسے کسی بھی جاندار کو کھلا دیا جائے، تو اس کے اندر چھپی ہوئی اڑنے کی طاقت بیدار ہو جاتی ہے۔ لیکن یاد رہے، اس کا اثر صرف ایک بار ہوتا ہے اور وہ بھی تب، جب نیت سچی ہو!”
سسپنس کا ایک جھٹکا شیخ چلی کے دل میں لگا۔ اس نے اپنی جیب میں پڑے چند آخری سکے نکال کر اس بوڑھے کے ہاتھ پر رکھ دیے اور وہ شیشی لے کر چھپتے چھپاتے گھر کی طرف بھاگا۔ اس کے ذہن میں ایک ہی دھن سوار تھی: چونچو کو اڑتا ہوا دیکھنا۔
گھر پہنچ کر اس نے کسی کو بتائے بغیر وہ سنہرا سفوف چونچو کے دانے میں ملا دیا۔ چونچو نے ہمیشہ کی طرح بغیر کچھ سوچے سمجھے سارا دانہ چٹ کر لیا۔ شیخ چلی گھنٹوں اس کے سامنے بیٹھا رہا کہ اب چونچو کے پر نکلیں گے، اب وہ ہوا میں اڑے گا، مگر شام تک کچھ نہ ہوا پایا۔ چونچو ویسے ہی سستی سے آنکھیں بند کیے کھڑا رہا۔ شیخ چلی مایوس ہو کر سو گیا، یہ سوچ کر کہ شاید اس بوڑھے نے اسے لوٹ لیا تھا۔
اگلی صبح جب سورج کی پہلی کرن نورپور پر پڑی، تو شیخ چلی کی آنکھ چونچو کی ایک عجیب اور خوفناک آواز سے کھلی۔ وہ روایتی گدھے کی طرح نہیں ہنہنا رہا تھا، بلکہ اس کی آواز میں ایک عجیب سی گرج اور تیزی تھی۔
شیخ چلی جلدی سے صحن میں بھاگا اور جو منظر اس نے دیکھا، اس پر اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا۔ چونچو کی پیٹھ پر، جہاں پہلے صرف ایک پرانی بوری پڑی رہتی تھی، وہاں اب دو بڑے، چمکدار سفید اور خوبصورت پر نکل آئے تھے! وہ پر بالکل کسی افسانوی گھوڑے کی طرح تھے، جو آہستہ آہستہ ہل رہے تھے۔
چونچو کے پیر زمین سے چند انچ اوپر اٹھ رہے تھے اور وہ ہوا میں معلق ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ شیخ چلی کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔
“یا الہی! یہ تو معجزہ ہو گیا! میرا چونچو اب عام گدھا نہیں رہا، یہ تو ‘پرباز گدھا’ بن گیا ہے!”
مگر اس خوشی کے ساتھ ہی ایک گہرا سسپنس اور ڈر بھی شیخ چلی کے دل میں بیٹھ گیا۔ اگر گاؤں والوں کو پتہ چل گیا، تو وہ اسے جادوگر سمجھیں گے یا شاید چونچو کو مجھ سے چھین لیں گے۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ چونچو کو سب کے سامنے تبھی لائے گا جب وہ اسے پوری طرح کنٹرول کرنا سیکھ لے گا۔ لیکن چونچو کی آنکھوں میں آج ایک عجیب سی چمک تھی، جیسے وہ خود بھی اپنی اس نئی طاقت کو آزمانے کے لیے بے چین ہو۔
شیخ چلی نے چونچو کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا اور اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا، مگر چونچو کے پر بار بار پھڑپھڑا رہے تھے، جس سے صحن کی مٹی اڑ رہی تھی۔ سسپنس یہ تھا کہ کیا چونچو واقعی شیخ چلی کے قابو میں رہے گا، یا یہ اڑان پورے گاؤں کے لیے کوئی بڑی مصیبت بننے والی تھی؟
دو دن تک شیخ چلی نے چونچو کو گھر کے اندر چھپا کر رکھا، لیکن ایک اڑتے ہوئے گدھے کو زیادہ دیر تک چار دیواری میں قید رکھنا ممکن نہیں تھا۔ چونچو اب چارا کھانے کے بجائے بار بار آسمان کی طرف دیکھتا اور اپنی اگلی ٹانگیں ہوا میں لہراتا۔
گاؤں میں اس دن سالانہ “میلہِ نورپور” تھا، اور بازار کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔ بازار کے عین وسط میں، گاؤں کے سب سے بڑے حلوائی اور صابن بنانے والے چوہدری نتھو نے ایک بہت بڑا گڑھا کھود رکھا تھا، جس میں اس نے صابن اور گندے پانی کا ایک غلیظ، لیس دار اور چاکلیٹی رنگ کا مٹی کا مرکب تیار کیا ہوا تھا تاکہ میلے کے بعد صفائی کا کام کیا جا سکے اور بچوں کے لیے مٹی کے کھلونے بنوائے جا سکیں۔ یہ گڑھا اتنا گہرا اور دلدل نما تھا کہ اس میں کوئی بھی گرتا تو نکلنا ناممکن ہو جاتا۔
شیخ چلی نے سوچا:
“آج کا دن سب سے بہترین ہے۔ میں چونچو کو بازار لے جاؤں گا اور سب کے سامنے اس کی پرواز کا مظاہرہ کروں گا۔ چوہدری نتھو اور گاؤں کے نمبردار میری عظمت کے سامنے سر جھکا دیں گے!”
وہ چونچو کو لے کر بازار کی طرف چل پڑا۔ چونچو کے پروں کو اس نے ایک بڑی چادر سے ڈھانپ دیا تھا تاکہ کوئی پہلے ہی نہ دیکھ لے۔ جیسے ہی وہ بازار کے مرکزی چوک پر پہنچا، جہاں چوہدری نتھو کا وہ غلیظ مٹی کا گڑھا موجود تھا، وہاں لوگوں کا ہجوم تھا۔
اچانک، میلے میں کسی بچے نے ایک زوردار پٹاخہ پھوڑا۔ “ٹھاہ!” کی آواز آئی۔
اس اچانک دھماکے سے چونچو بری طرح بدک گیا۔ خوف کے مارے اس کے اندر کا جادوئی سفوف پوری طاقت سے جاگ اٹھا۔ اس نے ایک زوردار جھٹکا دیا، اور وہ چادر جو شیخ چلی نے اس پر ڈالی تھی، ہوا میں اڑ گئی۔
“ارے دیکھو! چونچو کے پر نکل آئے!” بازار میں موجود ایک شخص نے چیخ کر کہا۔
سارے بازار کی نظریں چونچو پر ٹک گئیں۔ اس سے پہلے کہ کوئی کچھ سمجھ پاتا، چونچو نے اپنے بڑے بڑے سفید پر پورے ہال میں پھیلائے اور ایک زوردار ہنہناہٹ کے ساتھ زمین چھوڑ دی۔ وہ ہوا میں سیدھا اوپر کی طرف اڑنے لگا!
گاؤں والوں کی آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ کچھ لوگ ڈر کے مارے دکانوں کے اندر چھپ گئے، اور کچھ نے اسے کوئی خلائی مخلوق سمجھ کر “توبہ توبہ” کرنا شروع کر دیا۔
“شیخ چلی! یہ تم نے کیا جادو کر دیا؟ اپنے گدھے کو نیچے اتارو!” چوہدری نتھو نے چھتری ہلاتے ہوئے اونچی آواز میں کہا۔
شیخ چلی خود بھی گھبرا گیا تھا۔ وہ چونچو کے پیچھے بھاگا، “چونچو! نیچے آؤ میرے بھائی! آرام سے، آرام سے!”
لیکن چونچو ہوا میں جا کر اپنی سمت بھول چکا تھا۔ وہ کبھی دائیں مڑتا، کبھی بائیں مڑتا۔ بازار کے اوپر لگی رنگ برنگی جھنڈیاں اس کے پروں سے ٹکرا کر ٹوٹنے لگیں۔ فضا میں سسپنس اپنے عروج پر تھا کیونکہ چونچو اب بالکل اؤٹ آف کنٹرول ہو چکا تھا اور ہوا میں ہچکولے کھا رہا تھا۔ اس کے پروں کی طاقت کم ہو رہی تھی، اور وہ تیزی سے نیچے کی طرف آنے لگا۔
سب سے بڑا خطرہ یہ تھا کہ چونچو کے بالکل نیچے چوہدری نتھو کا وہ گہرا، غلیظ، چاکلیٹی مٹی اور گندے پانی کا دلدل نما گڑھا تھا۔
“بچو! ہٹو! چونچو گر رہا ہے!” شیخ چلی نے اپنا سر پکڑتے ہوئے چیخ ماری۔
چونچو نے ہوا میں اپنے پروں کو سیدھا کرنے کی آخری کوشش کی، لیکن اس کا وزن زیادہ تھا اور جادو کا اثر ختم ہو رہا تھا۔ وہ کسی وزنی پتھر کی طرح سیدھا نیچے کی طرف آیا۔
“چھپاک!!!”
ایک زوردار اور ہولناک دھماکے کے ساتھ چونچو سیدھا اس مٹی اور گارے کے گڑھے کے عین وسط میں جا گرا۔ گارے اور چاکلیٹی رنگ کے غلیظ پانی کے بڑے بڑے فوارے فضا میں پندرہ بیس فٹ اوپر تک اٹھے۔
سارا بازار اس مٹی کی لپیٹ میں آ گیا۔ چوہدری نتھو کے منہ پر گارا لگا، سبزی والے کی سبزیاں مٹیالے رنگ میں رنگ گئیں، اور خود شیخ چلی جو بالکل پاس کھڑا تھا، اس کا پورا چہرہ، اس کا سفید کرتا، اس کی سبز واسکٹ، اور اس کا عمامہ اس غلیظ مٹی سے لت پت ہو گئے۔
جیسے ہی مٹی کے فوارے تھمے، شیخ چلی نے صدمے اور حیرت کے ایک ملے جلے تاثر کے ساتھ اپنی آنکھیں اور منہ کھولا۔ اس کا چہرہ دیکھنے کے لائق تھا۔ اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں، منہ کھلا کا کھلا رہ گیا، اور وہ بالکل ساکت کھڑا رہ گیا جیسے اس پر کوئی بجلی گر گئی ہو۔
گڑھے کے اندر، چونچو آدھا مٹی میں دھنسا ہوا تھا، اس کے خوبصورت سفید پر اب کالے اور مٹیالے ہو چکے تھے، اور وہ معصومیت سے شیخ چلی کی طرف دیکھ رہا تھا جیسے کہہ رہا ہو، “مالک، اڑان تو اچھی تھی، بس لینڈنگ غلط ہو گئی!”
کچھ سیکنڈ تک پورے بازار میں مکمل خاموشی رہی۔ شیخ چلی کا مٹی سے لت پت، صدمے سے چور چہرہ دیکھ کر سب کی سانسیں رکی ہوئی تھیں۔ پھر، اچانک ایک بچے نے زوردار قہقہہ لگایا۔
اس کے بعد تو جیسے پورے گاؤں میں ہنسی کا طوفان آ گیا۔ چوہدری نتھو، جو پہلے غصے میں تھا، شیخ چلی کی حالت دیکھ کر اپنی ہنسی نہ روک سکا۔ سبزی والا، حلوائی، اور وہاں موجود ہر شخص پیٹ پکڑ کر ہنسنے لگا۔
“واہ شیخ چلی واہ! تمہارا گدھا تو اڑا، مگر اس نے پورے بازار کو مٹی کا غسل دے دیا!” چوہدری نتھو نے ہنستے ہوئے کہا۔
شیخ چلی نے اپنے چہرے سے مٹی صاف کی، چونچو کی طرف دیکھا جو اب گڑھے سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہا تھا، اور پھر وہ خود بھی مسکرا دیا۔ اسے سمجھ آ گئی تھی کہ خیالی دنیا میں اڑنا جتنا آسان ہوتا ہے، حقیقت کی زمین پر اترنا اتنا ہی مشکل اور کبھی کبھی مٹی سے بھرپور ہو سکتا ہے۔
اس نے آگے بڑھ کر چونچو کو گڑھے سے باہر نکالا۔ دونوں مٹی میں لت پت، مگر محفوظ، آہستہ آہستہ گھر کی طرف چل دیے۔ گاؤں والے ابھی تک ان کے پیچھے ہنس رہے تھے، اور یہ دن نورپور کی تاریخ میں “شیخ چلی کے اڑتے گدھے کا دن” کے نام سے ہمیشہ کے لیے درج ہو گیا۔

Leave a Reply

NZ's Corner