ایک دن ایک نہایت امیر تاجر سمندر کے کنارے چہل قدمی کر رہا تھا۔ اس کی زندگی مسلسل مصروفیت، منصوبوں، کاروباری سودوں اور دولت بڑھانے کی جدوجہد میں گزرتی تھی۔ اس کے ذہن میں ہمیشہ اگلا ہدف، اگلا منافع اور اگلی کامیابی گردش کرتی رہتی تھی۔
چلتے چلتے اس کی نظر ایک ماہی گیر پر پڑی جو اپنی چھوٹی سی کشتی کے قریب ریت پر لیٹا ہوا سکون سے دھوپ سینک رہا تھا۔ قریب ہی چند تازہ مچھلیاں پڑی تھیں جو بظاہر ابھی ابھی پکڑی گئی تھیں۔
تاجر کو حیرت ہوئی۔
وہ اس کے پاس گیا اور پوچھا:
“ابھی تو دن کا آغاز ہے، تم نے مچھلیاں پکڑنا کیوں بند کر دیا؟”
ماہی گیر نے اطمینان سے جواب دیا:
“آج کے لیے جتنی ضرورت تھی، اتنی مچھلیاں پکڑ لی ہیں۔”
تاجر نے حیرانی سے سر ہلایا اور بولا:
“یہ تو بہت بڑی غلطی ہے! تم مزید مچھلیاں پکڑ سکتے ہو۔ زیادہ مچھلیاں بیچو گے تو زیادہ پیسے ملیں گے۔”
ماہی گیر نے پوچھا:
“پھر کیا ہوگا؟”
تاجر جوش سے بولا:
“پھر تم بڑی کشتی خرید سکو گے۔”
“پھر؟”
“پھر کئی کشتیاں خرید لو گے اور دوسرے ماہی گیروں کو ملازم رکھ لو گے۔”
“پھر؟”
“پھر تم ایک بڑی کمپنی کے مالک بن جاؤ گے۔ تمہارے پاس بے شمار دولت ہوگی۔”
ماہی گیر نے پھر مسکرا کر پوچھا:
“اور پھر؟”
تاجر نے فخر سے کہا:
“پھر تم آرام سے زندگی گزار سکو گے، سمندر کے کنارے بیٹھو گے، سکون سے وقت گزارو گے، دھوپ سینکو گے اور زندگی کا لطف اٹھاؤ گے۔”
ماہی گیر نے چند لمحے خاموش رہ کر تاجر کی طرف دیکھا، پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا:
“لیکن جناب… وہ سب تو میں ابھی کر رہا ہوں۔”
یہ سن کر تاجر خاموش ہو گیا۔
اس کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔
وہ پہلی بار سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ شاید زندگی صرف منزل تک پہنچنے کا نام نہیں، بلکہ راستے میں موجود سکون کو محسوس کرنے کا نام بھی ہے۔
بعض لوگ ساری عمر اس خوشی کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں جسے وہ مستقبل میں حاصل کرنا چاہتے ہیں، جبکہ وہ خوشی کسی نہ کسی صورت میں ان کے پاس پہلے ہی موجود ہوتی ہے۔
اخلاقی سبق:
دولت، ترقی اور کامیابی بری چیزیں نہیں، لیکن اگر انسان سکون کو ہمیشہ مستقبل کے کسی موڑ پر تلاش کرتا رہے تو ممکن ہے پوری زندگی گزر جائے اور وہ سکون کبھی نہ ملے۔ اصل کامیابی صرف زیادہ حاصل کرنے میں نہیں، بلکہ جو حاصل ہے اس کی قدر کرنے اور اس کے ساتھ مطمئن رہنے میں بھی ہے۔ بعض اوقات خوشی منزل پر نہیں، بلکہ موجودہ لمحے میں چھپی ہوتی ہے۔
#منقول
