مکافات عمل

مکافات عمل

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں کرم دین نام کا ایک بوڑھا بڑھئی رہتا تھا۔ اس نے ساری زندگی لکڑی کا کام کر کے اپنے اکلوتے بیٹے ساجد کو پڑھایا لکھایا اور بڑا آدمی بنایا۔ جب بیٹا جوان ہو گیا اور اس کی اچھے گھر میں شادی ہو گئی، تو اس نے بوڑھے باپ کو ایک بوجھ سمجھنا شروع کر دیا۔ باپ کے ہاتھ کانپتے تھے، اس لیے روٹی کھاتے وقت اکثر برتن گر کر ٹوٹ جاتا۔ بہو اور بیٹے نے تنگ آ کر باپ کو مٹی کا ایک سستا سا پیالہ لا دیا اور اسے گھر کے ایک کونے میں بٹھا دیا۔
بوڑھا باپ خاموشی سے اس مٹی کے پیالے میں روٹی کھاتا اور اپنی قسمت پر روتا۔ ایک دن کرم دین کا سات سال کا پوتا صحن میں بیٹھ کر لکڑی کے ایک ٹکڑے کو چھری سے چھیل رہا تھا۔ ساجد دکان سے واپس آیا تو اس نے اپنے معصوم بیٹے کو لکڑی سے کھیلتا دیکھ کر پیار سے پوچھا: “میرا بیٹا یہ کیا بنا رہا ہے؟”
پوتے نے معصومیت سے سر اٹھایا اور باپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا: “ابا! میں لکڑی کا ایک پیالہ بنا رہا ہوں۔ جب آپ اور امی بوڑھے ہو جائیں گے اور آپ کے ہاتھ کانپیں گے، تو میں آپ دونوں کو اسی لکڑی کے پیالے میں کھانا دیا کروں گا تاکہ برتن نہ ٹوٹیں۔”
یہ سننا تھا کہ ساجد کے پیروں تلے سے مٹی نکل گئی۔ بچے کے ان معصوم الفاظ نے اس کے ضمیر پر بجلی گرا دی۔ وہ بھاگتا ہوا اپنے بوڑھے باپ کے پاس گیا، اس کے پاؤں پکڑ کر رویا اور مٹی کا پیالہ توڑ کر باپ کو عزت کے ساتھ اپنے دسترخوان پر واپس لے آیا۔
کہانی کا قیمتی سبق (Moral):
زندگی ایک گونج کی طرح ہے، آپ جو دنیا کو دیتے ہیں وہی لوٹ کر آپ کے پاس واپس آتا ہے۔ والدین کے ساتھ آج آپ کا جو سلوک ہوگا، کل آپ کی اولاد آپ کے ساتھ وہی کچھ دہرائے گی۔ مکافاتِ عمل برحق ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner