ایک زمانے میں ایک عظیم بادشاہ تھا، جس کے اصطبل مں ایک نہایت شاندار، طاقتور اور خوبصورت گھوڑا تھا۔ اس کی چال میں غرور، آنکھوں میں آگ، اور جسم میں بجلی سی تیزی تھی۔ مگر ایک مسئلہ تھا… وہ گھوڑا مکمل طور پر بے قابو تھا۔
کوئی شخص اسے قابو میں نہ لا سکا۔
بادشاہ نے پورے ملک میں اعلان کروا دیا:
“جو شخص میرے اس جنگلی گھوڑے کو رام کر لے گا، اسے منہ مانگا انعام دیا جائے گا!”
یہ سنتے ہی بہادر سپاہی، ماہر سوار، طاقتور پہلوان اور گھڑسواری کے استاد محل میں جمع ہو گئے۔ ہر ایک کے دل میں انعام کی خواہش اور فتح کا جذبہ تھا۔
ایک ایک کر کے سب نے کوشش کی۔
کوئی لگام کھینچتا، کوئی زور آزمائی کرتا، کوئی اسے ڈرانے کی کوشش کرتا، کوئی طاقت سے جھکانا چاہتا… مگر گھوڑا ہر بار پہلے سے زیادہ بپھر جاتا۔
وہ کسی کو زمین پر پٹخ دیتا، کسی کو زخمی کر دیتا، اور کسی کو خوف زدہ کر کے بھگا دیتا۔
آخرکار سب تھک ہار کر واپس لوٹ گئے۔ محل میں خاموشی چھا گئی، اور لوگوں نے مان لیا کہ اس گھوڑے کو کوئی قابو نہیں کر سکتا۔
کچھ دن گزرے۔
ایک صبح بادشاہ محل کی کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا کہ اچانک اس کی نظر ایک حیرت انگیز منظر پر پڑی۔
وہی جنگلی گھوڑا، جو کبھی کسی کی نہ سنتا تھا، اب ایک اجنبی شخص کے اشاروں پر نہایت فرمانبرداری سے چل رہا تھا۔
بادشاہ حیرت سے کھڑا ہو گیا۔
اس نے فوراً اس شخص کو دربار میں بلایا اور پوچھا:
“یہ کیسے ممکن ہوا؟ جہاں طاقتور لوگ ناکام ہو گئے، وہاں تم نے کیسے کامیابی حاصل کر لی؟”
وہ شخص مسکرایا اور ادب سے بولا:
“بادشاہ سلامت، میں نے آپ کے گھوڑے سے جنگ نہیں کی۔ میں نے اسے روکا نہیں، دبایا نہیں، مارا نہیں۔ میں نے اسے کھلا چھوڑ دیا… جتنا وہ دوڑنا چاہتا تھا، دوڑنے دیا۔ جتنا اچھلنا چاہتا تھا، اچھلنے دیا۔ جب وہ اپنی سرکشی سے خود تھک گیا، تب میں نے نرمی سے اس کے قریب جا کر دوستی کی۔ پھر اسے قابو کرنا مشکل نہ رہا۔”
انسان کا ذہن بھی اسی جنگلی گھوڑے کی طرح ہے۔
اگر ہم ہر وقت اپنے ذہن سے لڑتے رہیں، خیالات کو زبردستی دبائیں، خواہشات سے جنگ کریں، تو ذہن اور زیادہ بے قابو ہو جاتا ہے۔
کبھی کبھی فتح طاقت سے نہیں، صبر، سمجھداری اور نرمی سے حاصل ہوتی ہے۔
