بغداد میں ایک نانبائی رہتا تھا۔ اس کے تنور سے نکلنے والے نان اپنی خوشبو، خستگی اور لذت کی وجہ سے پورے شہر میں مشہور تھے۔ صبح سویرے ہی اس کی دکان پر لوگوں کی قطاریں لگ جاتیں اور دور دراز سے لوگ اس کے نان خریدنے آتے۔
مگر ان گاہکوں میں کچھ ایسے بھی تھے جو چالاکی سے کام لیتے۔ وہ نان تو لے جاتے، لیکن قیمت میں کھوٹے سکے دے دیتے۔ نانبائی ان سکوں کو دیکھ کر فوراً پہچان لیتا کہ یہ ناقابلِ استعمال ہیں، مگر وہ نہ کسی سے بحث کرتا، نہ کسی کو شرمندہ کرتا اور نہ ہی سکے واپس لوٹاتا۔ خاموشی سے وہ کھوٹا سکہ اپنی صندوقچی میں ڈال دیتا اور مسکرا کر نان دے دیتا۔
وقت گزرتا گیا۔ صندوقچی میں کھوٹے سکوں کی تعداد بڑھتی گئی، لیکن نانبائی کا دل لوگوں کے لیے نرم ہی رہا۔ وہ سوچتا تھا کہ اگر میں ایک غلطی پر کسی کو رسوا کر دوں تو شاید اس کا دل ٹوٹ جائے۔
آخر ایک دن اس کی زندگی کا آخری وقت آ پہنچا۔ وہ بستر پر لیٹا تھا۔ اس نے کمزور نگاہوں سے آسمان کی طرف دیکھا اور نہایت عاجزی سے دعا کی:
“اے میرے رب! تو خوب جانتا ہے کہ میرے پاس کوئی بڑی عبادت یا نیکی نہیں۔ البتہ ایک بات ضرور ہے کہ جب تیرے بندوں نے مجھے کھوٹے سکے دیے، میں نے انہیں معاف کر دیا اور کبھی ان سے حساب نہیں مانگا۔ آج میری صندوقچی میں انہی کھوٹے سکوں کا ڈھیر ہے۔ اگر میری یہ چھوٹی سی نیکی تیری بارگاہ میں قبول ہو جائے تو اپنے فضل سے مجھے بھی معاف فرما دے۔”
روایت ہے کہ بعد میں ایک نیک شخص نے خواب میں اس نانبائی کو دیکھا۔ وہ جنت کے بلند درجات میں تھا۔ جب اس سے اس کامیابی کا سبب پوچھا گیا تو معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی درگزر، نرم دلی اور بندوں کو معاف کرنے کی عادت کو پسند فرمایا تھا۔
جو شخص لوگوں کی لغزشوں اور خطاؤں کو معاف کرتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اس کے ساتھ رحمت اور مغفرت کا معاملہ فرماتا ہے۔ کبھی کبھی ایک چھوٹی سی نیکی، اخلاص کے ساتھ کی جائے، تو وہ انسان کی نجات کا سبب بن جاتی ہے۔
