بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک محنتی تاجر تھا جس کے پاس دو جانور تھے۔ ایک مضبوط بیل، جو دن بھر کھیت جوتتا تھا، اور ایک گدھا، جو صبح سے شام تک بازاروں اور گاؤں کے درمیان سامان ڈھوتا رہتا تھا۔
دونوں کی زندگی مسلسل مشقت میں گزرتی تھی۔
صبح سورج نکلنے سے پہلے کام شروع ہوتا اور شام ڈھلے جا کر ختم ہوتا۔
لیکن ایک بات دونوں میں مشترک تھی۔ بیل جب ہل کھینچتے کھینچتے تھک جاتا تو دل ہی دل میں سوچتا:
“یقیناً گدھے کا کام مجھ سے کہیں آسان ہوگا۔ سارا دن بس آہستہ آہستہ چلنا ہی تو ہوتا ہے۔” ادھر گدھا جب بھاری بوجھ کے نیچے پسینہ بہاتا تو اس کے دل میں خیال آتا:
“بیل تو کھیت میں کھلی ہوا میں گھومتا رہتا ہوگا۔ اصل مصیبت تو میری ہے۔”
یوں دونوں اپنی اپنی آزمائش کو سب سے بڑی اور دوسرے کی زندگی کو سب سے آسان سمجھتے تھے۔
ایک شام دونوں اصطبل میں آرام کر رہے تھے۔
بیل نے بات شروع کی۔
“کیسے گزر رہی ہے آج کل زندگی؟”
گدھے نے ایک لمبی سانس لی۔
“بس، جیسے تیسے۔ آپ سنائیں؟”
بیل نے چالاکی سے آہ بھری۔
“کیا بتاؤں! میرے تو مزے ہی مزے ہیں۔ سارا دن درخت کے نیچے کھڑا رہتا ہوں۔ کبھی دل چاہے تو گھاس کھا لیتا ہوں، کبھی اونگھ لیتا ہوں۔ کام تو نام کی چیز ہی نہیں۔”
گدھا حیرت سے اسے دیکھنے لگا۔ اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ شاید واقعی بیل کی زندگی آرام دہ ہے۔
اب بیل نے پوچھا:
“اور تم؟”
گدھا بھی کہاں پیچھے رہنے والا تھا۔ اس نے گردن اکڑا کر کہا: “میرے بھی بڑے مزے ہیں۔ سامان ہوتا ہی کتنا ہے؟ دو چار ہلکے پھلکے تھیلے رکھ دیتے ہیں، باقی سارا دن بازاروں کی سیر ہوتی رہتی ہے۔”
دونوں ایک دوسرے کی باتوں پر یقین کر بیٹھے۔
آخر بیل نے کہا:
“کیوں نہ کل ایک دن کے لیے اپنا اپنا کام بدل لیں؟”
گدھا گھبرا گیا۔
“مالک مانے گا کیسے؟”
بیل مسکرایا۔
“وہ مجھ پر پورا بھروسا کرتا ہے۔ صبح میں اچانک لنگڑا کر چلوں گا، جیسے میری ٹانگ میں شدید درد ہو۔ وہ سمجھے گا کہ میں بیمار ہوں، پھر مجبوراً تمہیں ہل میں جوت دے گا، اور مجھے سامان ڈھونے پر لگا دے گا۔”
گدھے نے خوش ہو کر فوراً ہامی بھر لی۔ اگلی صبح بیل نے بالکل ویسا ہی کیا۔
وہ جان بوجھ کر لنگڑانے لگا۔
مالک نے اسے دیکھا تو افسوس سے بولا: “آج تو بیل سے کام نہیں ہوگا۔”
اس نے فوراً گدھے کو کھیت میں جوت دیا اور بیل کی پیٹھ پر سامان لاد دیا۔
ابتدا میں دونوں بڑے خوش تھے۔ انہیں لگ رہا تھا کہ آج آرام کا دن ہوگا۔
لیکن خوشی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔
گدھے نے جیسے ہی ہل کھینچنا شروع کیا، اسے اندازہ ہوا کہ زمین چیرنا صرف دیکھنے میں آسان لگتا ہے۔
دو قدم چلتا تو ہل مٹی میں دھنس جاتا۔
رکتا تو نوکر کے ہاتھ کا موٹا ڈنڈا اس کی پیٹھ پر پڑتا۔
چلتا تو کندھے چھل جاتے۔
پسینہ آنکھوں میں اترنے لگا۔
ادھر بیل نے سوچا تھا کہ سامان ڈھونا تو بچوں کا کھیل ہوگا۔
مگر اس کی پیٹھ پر اتنا بوجھ لاد دیا گیا کہ پہلی ہی چڑھائی پر اس کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔
وہ ذرا آہستہ ہوتا تو نوکر زور سے للکارتا اور چھڑی برسا دیتا۔ بازار کی پتھریلی گلیاں، اونچی نیچی راہیں اور مسلسل بوجھ نے اس کا بھی برا حال کر دیا۔
شام تک دونوں کی حالت ایک جیسی ہو چکی تھی۔
جسم پر پسینہ، آنکھوں میں تھکن اور بدن پر مار کے نشان۔
رات کو جب دونوں واپس اصطبل میں آئے تو ایک کونے میں گدھا خاموش کھڑا تھا اور دوسرے کونے میں بیل۔
دونوں کی نظریں بار بار ایک دوسرے سے ملتیں، مگر کسی میں اتنی ہمت نہ تھی کہ بات شروع کرے۔
آخر بیل نے نظریں جھکا لیں۔
گدھے نے بھی خاموشی سے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔
اس دن کے بعد کہتے ہیں کہ دونوں نے کبھی ایک دوسرے کی قسمت پر رشک نہیں کیا، نہ کبھی اپنا کام بدلنے کی خواہش کی۔
انہیں سمجھ آ چکا تھا کہ ہر ذمہ داری باہر سے آسان اور اندر سے بھاری ہوتی ہے۔
اخلاقی سبق:
انسان کی فطرت ہے کہ وہ دوسروں کی زندگی کا صرف آرام دیکھتا ہے اور اپنی زندگی کی صرف مشقت۔ ہمیں ہمیشہ دوسرے کا پھول نظر آتا ہے، اس کے کانٹے نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص اپنی جگہ ایک ایسی جنگ لڑ رہا ہوتا ہے جس کا اندازہ دوسروں کو نہیں ہوتا۔ اس لیے دوسروں کی زندگی پر رشک کرنے کے بجائے اپنی ذمہ داری کو صبر، شکر اور دیانت سے نبھانا ہی حقیقی دانائی ہے۔
