اصمعی ایک اعرابی کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ اس نے یہ واقعہ سنایا:میں اپنی بستی سے یہ سوچ کر نکلا کہ سب لوگوں سے زیادہ بدبخت اور نیک بخت فرد کے بارے میں معلومات حاصل کروں اور اسے تلاش کروں۔ میں بستی بستی، نگر نگر بدبخت اور نیک بخت ڈھونڈتا رہا۔ ایک بستی سے میرا گزر ہوا تو میں نے دیکھا کہ ایک بوڑھے شخص کی گردن میں ایک رسی بندھی ہوئی ہے اور اس رسی کے ساتھ ایک بڑی سی بالٹی لٹک رہی ہے، اس کے پیچھے ایک نوجوان تھا جو اس رسی کو کھینچ رہا تھا جو بوڑھے کی گردن سے بندھی ہوئی تھی، ساتھ ساتھ وہ اسے چابک سے مارتا بھی جا رہا تھا۔
میں نے نوجوان سے کہا: “اس بوڑھے اور کمزور شخص کے بارے میں تجھے اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں ہے؟ اس کی گردن میں پہلے ہی ایک رسی اور بڑی بالٹی لٹک رہی ہے جس سے یہ ہلکان اور پریشان ہے، اس کے باوجود تو اسے چابک بھی مار رہا ہے، تو کتنا سفاک ہے!”
نوجوان کہنے لگا: “ہاں! مگر میں تمہاری اطلاع کے لیے بتا دوں کہ یہ میرا باپ ہے۔”
میں نے اس سے کہا: “اگر یہ تیرا باپ ہے تو میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تجھے کوئی بھلائی نہ دے۔ کیا کوئی اپنے ہی باپ کے ساتھ اس طرح ظالمانہ سلوک کرتا ہے؟”
نوجوان بولا:
أَسْكُتْ فَهَكَذَا كَانَ يَصْنَعُ بِأَبِيهِ، وَكَذَا كَانَ يَصْنَعُ أَبُوهُ بِجَدِّهِ
“خاموش رہو! (تمہیں کیا معلوم) یہ بھی اپنے باپ کے ساتھ ایسا ہی برتاؤ کرتا تھا (جیسا مجھے اس کے ساتھ کرتے دیکھ رہے ہو) اور پھر اسی طرح اس کا باپ بھی اس کے دادا کے ساتھ یہی کچھ کیا کرتا تھا۔”
میں نے اپنی آنکھوں سے یہ سب کچھ دیکھ کر کہا:
هَذَا أَعَقُّ النَّاسِ
“بس یہی بڑھا سب سے زیادہ بدبخت ہے۔”
اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے والا اس دنیا میں سب لوگوں سے زیادہ نیک بخت اور خوش قسمت ہے۔ اس کے برعکس سب سے بڑا بدبخت وہ ہے جو اپنے والدین سے برا سلوک کرتا ہے اور انہیں تکلیف دیتا ہے۔
