عقاب اور چمگادڑ

عقاب اور چمگادڑ

ایک سرسبز اور پُراسرار جنگلات میں، جہاں قدیم درخت اپنی شاخوں سے آسمان کو چھوتے تھے، رنگ برنگے پرندے صبح کی ہوا میں نغمے بکھیرتے تھے، اور شام ڈھلے ہر سمت خاموشی کا جادو اتر آتا تھا، وہیں ایک ننھا سا چمگادڑ اور ایک عظیم الشان عقاب آباد تھے۔
دونوں آسمان کے مسافر تھے، مگر ان کی دنیائیں الگ الگ تھیں۔
عقاب طلوعِ آفتاب کے ساتھ اپنے طاقتور پروں کو پھیلاتا، بادلوں سے بلند پرواز کرتا اور روشن دن کا بے تاج بادشاہ دکھائی دیتا۔ اس کی نگاہ میلوں دور تک ہر جنبش کو دیکھ لیتی۔
دوسری طرف، چمگادڑ سورج کے غروب ہوتے ہی اپنی آرام گاہ سے نکلتا۔ رات کی خاموش فضاؤں میں وہ نہایت مہارت سے اڑتا، تاریکی اس کی ساتھی تھی اور چاندنی اس کی راہنما۔
ایک دن اتفاق سے صبح اور شام کے سنگم پر دونوں کی ملاقات ہو گئی۔
عقاب نے اپنے رعب دار لہجے میں پوچھا:
“اے ننھے چمگادڑ! تم ہمیشہ رات ہی کو کیوں نکلتے ہو؟ دن کی روشنی میں کیوں نہیں اڑتے؟”
چمگادڑ نے نہایت سکون سے مسکرا کر جواب دیا:
“اس لیے کہ دن تمہارا ہے اور رات میری۔”
عقاب نے حیرت سے پوچھا:
“کیا تم مجھ سے خوف کھاتے ہو؟”
چمگادڑ نے ادب سے سر جھکایا، پھر نہایت اعتماد سے بولا:
“ہرگز نہیں۔ خوف اور حکمت میں فرق ہوتا ہے۔ میں تمہیں للکارنے نہیں آتا، کیونکہ ہر بادشاہ کی ایک سلطنت ہوتی ہے۔ تم روشنی کے آسمان کے فرمانروا ہو، اور میں خاموش راتوں کا مسافر۔”
عقاب چند لمحے خاموش رہا۔
اس نے پہلی بار محسوس کیا کہ طاقت کا مطلب ہر میدان پر قبضہ کرنا نہیں، بلکہ اپنی حدود کو پہچاننا بھی عظمت کی نشانی ہے۔
اس نے مسکراتے ہوئے کہا:
“تم نے سچ کہا۔ میں دن کا بادشاہ ہوں اور تم رات کے۔ آخر ہم دونوں ایک ہی جیسے ہوئے۔”
چمگادڑ نے نرمی سے سر ہلایا اور بولا:
“نہیں، ہم ایک جیسے نہیں ہیں۔ تمہاری طاقت تمہاری پرواز میں ہے، میری مہارت میری دنیا کو سمجھنے میں۔ ہماری صلاحیتیں الگ ہیں، ہماری راہیں الگ ہیں، مگر ہماری اہمیت برابر ہے۔ فرق کمزوری نہیں ہوتا، بلکہ قدرت کی خوب صورتی ہوتا ہے۔”
عقاب نے گہری سانس لی اور آسمان کی طرف دیکھا۔
اسے احساس ہوا کہ اگر سورج دن کو روشنی دیتا ہے تو چاند رات کو سکون بخشتا ہے۔ اگر دن ضروری ہے تو رات بھی اتنی ہی قیمتی ہے۔ قدرت نے کسی کو کسی سے کم نہیں بنایا، بلکہ ہر ایک کو ایک منفرد ذمہ داری عطا کی ہے۔
اس دن کے بعد جب بھی عقاب شام ڈھلے اپنے گھونسلے کی طرف لوٹتا، وہ احترام سے آسمان کی تاریکی کو دیکھتا، کیونکہ اب وہ جان چکا تھا کہ رات کا بھی ایک محافظ ہے۔
اور جب چمگادڑ رات کی خاموش فضا میں اپنے پروں سے ہوا کو چیرتا، تو اسے یقین ہوتا کہ دنیا میں عزت حاصل کرنے کے لیے دوسروں جیسا ہونا ضروری نہیں، بلکہ اپنی اصل پہچان کو اپنانا ہی اصل کامیابی ہے۔
سبق:
قدرت نے ہر مخلوق کو الگ صلاحیت، الگ وقت اور الگ ذمہ داری عطا کی ہے۔ دوسروں سے مختلف ہونا کم تر ہونے کی علامت نہیں، بلکہ انفرادیت کی پہچان ہے۔ جو اپنی فطرت کو سمجھ کر جیتا ہے، وہ اپنی دنیا کا حقیقی بادشاہ ہوتا ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner