افریقہ کے وسیع و عریض صحرائے کالاہاری میں، جہاں سنہری ریت دن کے وقت سورج کی تپش سے دہکتی اور رات کو ٹھنڈی ہواؤں کی آغوش میں سکون کا سانس لیتی تھی، ایک ننھی صحرائی چھپکلی اور ایک بچھو رہتے تھے۔
دونوں کی دوستی دیکھ کر جنگل کے جانور حیران ہوتے، کیونکہ ایک نہایت چست اور دوسرا اپنی زہریلی دم کے باعث مشہور تھا۔
ایک شام جب آسمان سرخ شام کی چادر اوڑھے ہوئے تھا، چھپکلی نے مسکراتے ہوئے پوچھا:
“دوست! تم تو ذرا سی آہٹ پر دوسروں کو ڈنگ مار دیتے ہو، مگر مجھے کبھی نقصان نہیں پہنچاتے۔ آخر کیوں؟”
بچھو نے خاموشی سے ریت پر نظر جمائے رکھی، پھر دھیمے لہجے میں بولا:
“اس لیے کہ تم میری دوست ہو۔ صحرا کی اس بےآب و گیا دنیا میں میرا کوئی اپنا نہیں۔ اگر میں اپنے واحد ساتھی ہی کو نقصان پہنچاؤں، تو آخر میرے پاس بچے گا ہی کون؟”
چھپکلی کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
اس نے کہا:
“پھر آج سے ہم ایک دوسرے کا سہارا بنیں گے۔ میں تمہارے لیے خوراک تلاش کیا کروں گی، اور تم خطرے کی صورت میں مجھے خبردار کر دیا کرنا۔”
یوں دونوں نے خاموشی سے دوستی کا ایک ایسا عہد باندھا جو کسی کاغذ پر نہیں، بلکہ اعتماد کے دلوں میں لکھا گیا تھا۔
کئی دن تک یہی سلسلہ چلتا رہا۔ چھپکلی خوراک لے آتی، اور بچھو اپنی تیز حس کے ذریعے اسے سانپوں اور دوسرے شکاریوں سے آگاہ کر دیتا۔ دونوں ایک دوسرے کے باعث پہلے سے زیادہ محفوظ اور آسودہ تھے۔
مگر وقت کے ساتھ چھپکلی کے دل میں غرور نے جگہ بنا لی۔
اس نے سوچا:
“یہ ننھا سا بچھو آخر میرے کس کام کا؟ میری دوستی تو بڑے اور طاقتور جانوروں سے ہونی چاہیے۔”
چنانچہ وہ آہستہ آہستہ اپنے پرانے دوست سے دور ہونے لگی اور نئے ساتھیوں کی صحبت میں مگن ہو گئی۔
بچھو نے اسے کبھی نقصان نہ پہنچایا، مگر خاموشی سے اپنا راستہ الگ کر لیا۔
چند ہی دنوں بعد ایک بھوکا صحرائی شکاری چھپکلی کے پیچھے پڑ گیا۔ پہلے جب بھی کوئی خطرہ آتا، بچھو اپنی تیز حس سے اسے خبردار کر دیتا تھا، مگر اب وہ وہاں موجود نہ تھا۔
چھپکلی نے بہت کوشش کی، مگر وہ تنہا تھی۔ اسے اس دن احساس ہوا کہ اس نے ایک سچے دوست کی قدر نہ کی تھی۔
دور ایک پتھر کے سائے میں بیٹھا بچھو آہستہ سے بولا:
“دوستی صرف ضرورت کا نام نہیں، وفاداری کا نام ہے۔ جب رشتے خود توڑ دیے جائیں، تو ان کی حفاظت بھی ساتھ چھوڑ دیتی ہے۔”
صحرا کی ہوا خاموشی سے ریت اڑاتی رہی، مگر اس دن چھپکلی کی کہانی ہر ذرے پر ایک سبق لکھ گئی۔
سبق:
سچا دوست نعمت ہوتا ہے۔ رشتے اعتماد، وفاداری اور باہمی احترام سے قائم رہتے ہیں۔ جو لوگ محض فائدے کی خاطر اپنے مخلص ساتھیوں کو چھوڑ دیتے ہیں، وہ اکثر مشکل وقت میں خود کو تنہا پاتے ہیں
