خاموش مسافر

خاموش مسافر

ایک گاؤں میں ایک بوڑھا درویش رہتا تھا۔ لوگ اسے اکثر تنہا پہاڑی راستوں پر چلتے دیکھتے، مگر کسی نے اسے کبھی کسی سے اپنی نیکیوں کا ذکر کرتے نہ سنا۔

ایک دن گاؤں میں ایک امیر تاجر آیا۔ اس نے اعلان کیا کہ جو شخص سب سے زیادہ نیک ہو گا، اسے وہ سونے کی ایک تھیلی انعام میں دے گا۔ اگلے ہی دن مسجد، بازار اور گلیوں میں لوگوں نے اپنی نیکیوں کے قصے سنانے شروع کر دیے۔ کوئی کہتا، “میں نے سو غریبوں کو کھانا کھلایا۔” کوئی فخر سے بولتا، “میں نے مسجد تعمیر کرائی۔”

مگر وہ درویش خاموش رہا۔

تاجر نے حیران ہو کر پوچھا، “بابا! آپ نے اپنی کوئی نیکی کیوں نہیں بتائی؟”

درویش نے مسکرا کر کہا،
“جو نیکی زبان پر آ جائے، وہ دل سے اترنے لگتی ہے۔ اور جس نیکی کا گواہ صرف اللہ ہو، اس کا اجر انسان نہیں دے سکتا۔”

چند دن بعد گاؤں میں شدید سیلاب آ گیا۔ لوگ اپنی جانیں بچانے میں مصروف تھے۔ اس ہنگامے میں ایک بچہ پانی میں بہنے لگا۔ اچانک ایک بوڑھا شخص تیز لہروں میں کودا، بچے کو بچایا، اور خاموشی سے بھیگے کپڑوں سمیت واپس اپنے راستے پر چل دیا۔

جب لوگوں نے غور کیا تو وہی درویش تھا۔

تاجر دوڑتا ہوا آیا اور سونے کی تھیلی اس کے سامنے رکھ دی۔

درویش نے تھیلی واپس کرتے ہوئے کہا،
“اگر میں نے یہ کام انعام کے لیے کیا ہوتا، تو شاید بچے تک پہنچ ہی نہ پاتا۔”

یہ کہہ کر وہ خاموشی سے چل دیا۔

اس دن لوگوں نے پہلی بار سمجھا کہ اصل نیکی وہ نہیں جو دنیا کو دکھائی جائے، بلکہ وہ ہے جو انسان اپنے رب کی رضا کے لیے کرے، چاہے اس کا گواہ کوئی نہ ہو۔

سبق:
اخلاص وہ دولت ہے جو خاموش اعمال کو بھی آسمانوں میں بلند کر دیتی ہے، جبکہ دکھاوے کی نیکی، چاہے کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، اپنے وزن سے خود ہی ہلکی ہو جاتی ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner