نیکی کبھی ضائع نہیں جاتی

نیکی کبھی ضائع نہیں جاتی

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک سرسبز جنگل میں ہرن رہتا تھا۔ وہ نہ سب سے طاقتور تھا، نہ سب سے تیز، مگر اس کی ایک خوبی ایسی تھی جس کی وجہ سے پورا جنگل اس کی عزت کرتا تھا۔ وہ جہاں بھی کسی کمزور یا بے بس جانور کو مصیبت میں دیکھتا، اس کی مدد کیے بغیر آگے نہ بڑھتا۔

ایک دن وہ جنگل کے ایک راستے سے گزر رہا تھا کہ اچانک شور سنائی دیا۔ قریب جا کر دیکھا تو چند شرارتی بندروں نے ایک ننھے خرگوش کو پکڑا ہوا تھا۔ کوئی اس کے کان کھینچ رہا تھا، کوئی دم، اور کوئی اسے درخت سے درخت کی طرف اچھال کر ہنس رہا تھا۔ بیچارہ خرگوش خوف سے کانپ رہا تھا اور رہائی کے لیے تڑپ رہا تھا۔

ہرن سے یہ منظر دیکھا نہ گیا۔ وہ تیزی سے آگے بڑھا اور سخت آواز میں بولا، “شرم کرو! جس پر تم اپنی طاقت آزما رہے ہو، وہ تم سے لڑنے کی طاقت بھی نہیں رکھتا۔ طاقتور وہ نہیں ہوتا جو کمزور کو رلائے، طاقتور وہ ہوتا ہے جو کمزور کی حفاظت کرے۔”

بندروں نے ہرن کو دیکھا تو ہنستے ہوئے وہاں سے بھاگ گئے۔ ہرن نے محبت سے خرگوش کو اٹھایا، اس کے زخم صاف کیے اور اسے محفوظ جگہ تک چھوڑ آیا۔ خرگوش کی آنکھوں میں تشکر کے آنسو تھے، مگر خوشی کے مارے اس سے ایک لفظ بھی نہ بولا گیا۔ وہ خاموشی سے جھاڑیوں میں گم ہو گیا۔

یہ سارا منظر ایک بلند درخت پر بیٹھا ایک بوڑھا عقاب بھی دیکھ رہا تھا۔ عمر نے اس کے پروں کی طاقت کم کر دی تھی، اس لیے وہ چاہ کر بھی خرگوش کی مدد نہ کر سکا، مگر اس نے دل ہی دل میں ہرن کی نیکی کو یاد رکھ لیا۔

وقت گزرتا گیا۔ موسم بدلتے رہے، سال بیتتے گئے اور یہ واقعہ سب کی یادوں سے محو ہو گیا۔

پھر ایک سال ایسی موسلا دھار بارشیں ہوئیں کہ جنگل کے قریب بنا ہوا بڑا بند ٹوٹ گیا۔ پانی کا ایک خوفناک ریلا پوری قوت کے ساتھ جنگل میں داخل ہوا۔ بڑے بڑے درخت جڑوں سمیت اکھڑ گئے، بل بہہ گئے، اور جانور جان بچانے کے لیے ادھر اُدھر بھاگنے لگے۔

ہرن بھی پوری رفتار سے دوڑا، مگر پانی کا زور اس سے کہیں زیادہ تھا۔ ایک بلند موج آئی اور اسے اپنے ساتھ بہا لے گئی۔ وہ ایک چٹان سے ٹکرایا اور بے ہوش ہو گیا۔

جب اس کی آنکھ کھلی تو سورج نکل چکا تھا۔ اس نے حیرانی سے اِدھر اُدھر دیکھا۔ وہ ایک بہت اونچی پہاڑی پر پڑا تھا، جہاں پانی کا نام و نشان بھی نہ تھا۔ وہ سمجھ ہی نہ سکا کہ وہ یہاں کیسے پہنچا۔

اسی لمحے ایک سایہ اس کے اوپر منڈلایا۔

اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو ایک بوڑھا عقاب خاموشی سے اس کے سامنے آ بیٹھا۔ اس کے پروں سے پانی ٹپک رہا تھا اور سانس پھولی ہوئی تھی، جیسے وہ ابھی ابھی کوئی بہت مشکل سفر طے کر کے آیا ہو۔

ہرن نے حیرت سے پوچھا، “کیا… مجھے یہاں تم لائے ہو؟”

عقاب نے مسکرا کر جواب دیا، “ہاں، جب پانی تمہیں بہا کر لے جا رہا تھا، میں نے اپنی باقی ماندہ ساری طاقت جمع کی، تمہیں اپنے پنجوں میں اٹھایا اور یہاں تک لے آیا۔”

ہرن کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ “مگر… کیوں؟”

عقاب نے آہستہ سے کہا، “برسوں پہلے تم نے ایک ننھے خرگوش کو چند ظالم بندروں سے بچایا تھا۔ میں اس دن ایک درخت پر بیٹھا سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ میں اس کی مدد نہ کر سکا، مگر تم نے کر دی۔ میں نے اسی دن اپنے دل میں عہد کیا تھا کہ اگر کبھی تم مصیبت میں پھنسے تو اپنی آخری سانس تک تمہاری مدد کروں گا۔ آج اللہ نے مجھے وہ موقع دے دیا۔”

ہرن خاموش ہو گیا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس نے نیچے نظر دوڑائی تو پورا جنگل پانی میں ڈوبا ہوا تھا۔ اسے یقین آ گیا کہ اگر آج وہ زندہ ہے تو صرف ایک ایسی نیکی کی وجہ سے، جسے وہ خود بھی برسوں پہلے بھول چکا تھا۔

عقاب نے اپنے تھکے ہوئے پر سمیٹے، آسمان کی طرف دیکھا اور آہستہ آہستہ اُڑ گیا، جبکہ ہرن دیر تک اسے جاتا ہوا دیکھتا رہا۔

اخلاقی سبق:
نیکی کبھی ضائع نہیں ہوتی۔ انسان یا جانور اسے بھول سکتا ہے، مگر قدرت نہیں بھولتی۔ بعض اوقات ایک چھوٹا سا احسان برسوں بعد ایسے وقت لوٹتا ہے جب پوری دنیا کے دروازے بند ہو چکے ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

NZ's Corner